خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےبس اسٹینڈ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

بس اسٹینڈ

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 748 مناظر
749

بس اسٹینڈ

وہ بس اسٹینڈ کے پاس کھڑی اے روٹ والی بس کا انتظار کر رہی تھی‘ اس کے پاس کئی مرد کھڑے تھے‘ ان میں ایک اسے بہت بُری طرح گھور رہا تھا‘ اس کو ایسا محسوس ہوا کہ یہ شخص برمے سے اس کے دل و دماغ میں چھید بنا رہا ہے۔ اس کی عمر یہی بیس بائیس برس کی ہو گی لیکن اس پختہ سالی کے باوجود وہ بہت گھبرا رہی تھی‘ جاڑوں کے دن تھے‘ پر اس کے باوجود اس نے کئی مرتبہ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا ‘ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کرے‘ بس سٹینڈ سے چلی جائے‘ کوئی تانگہ لے لے یا واپس اپنی سہیلی کے پاس چلی جائے۔ اس کی یہ سہیلی نئی نئی بنی تھی‘ ایک پارٹی میں ان کی ملاقات ہوئی اور وہ دونوں ایک دوسرے کی گرویدہ ہو گئیں۔ یہ پہلی بار تھی کہ وہ اپنی اس نئی سہیلی کے بُلاوے پر اس کے گھر آئی تھی۔ نوکر بیمار تھا مگر جب اس سہیلی نے اتنا اصرار کیا تھا تو وہ اکیلی ہی اس کے ہاں چلی گئی‘ دو گھنٹے میں گپ لڑاتی رہیں۔ یہ وقت بڑے مزے میں کٹا‘ اُس کی سہیلی جس کا نام شاہدہ تھا اس سے جاتے وقت کہا :

’’سلمیٰ! اب تمہاری شادی ہو جانی چاہیے‘‘

سلمیٰ شرما سی گئی‘ کیسی باتیں کرتی ہو شاہدہ۔ مجھے شادی نہیں کرانا ہے‘‘

’’تو کیا ساری عمر کنواری رہو گی‘‘

’’کنواری رہنے میں کیا حرج ہے‘‘

شاہدہ مسکرائی

’’میں بھی یہی کہا کرتی تھی۔ لیکن جب شادی ہو گئی تو دنیا کی تمام لذتیں مجھ پر آشکارا ہو گئیں۔ یہی تو عمر ہے جب آدمی پوری طرح شادی کی لطافتوں سے حظ اندوز ہو سکتا ہے۔ تم میرا کہا مانو۔ بس ایک دو مہینے کے اندر دلہن بن جاؤ۔ تمہارے ہاتھوں میں مہندی میں خود لگاؤں گی‘‘

’’’ہٹاؤ ‘ اس چھیڑ خانی کو‘‘

شاہدہ نے سلمیٰ کے گال پر ہلکی سی چپت لگائی

’’یہ چھیڑ خانی ہے؟۔ اگر یہ چھیڑ خوانی ہے تو ساری دنیا چھیڑ خانی ہے۔ مرداور عورت کا رشتہ بھی فضول ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم ایک ازلی اور ابدی رشتے سے منکر کیوں ہو؟۔ دیکھوں گی کہ تم مرد کے بغیر کیسے زندہ رہو گی۔ خدا کی قسم پاگل ہو جاؤ گی۔ پاگل !‘‘

’’اچھا ہے‘ جو پاگل ہو جاؤں۔ کیا پاگلوں کے لیے اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ اتنے سارے پاگل ہیں‘ آخر وہ جوں توں جی ہی رہے ہیں‘‘

’’جوں توں جینے میں کیا مزا ہے‘ پیاری سلمیٰ۔ میں تم سے کہتی ہوں کہ جب سے میری شادی ہوئی ہے ‘ میری کایا ہی پلٹ گئی ہے۔ میرا خاوند بہت پیار کرنے والا ہے‘‘

’’کیا کام کرتے ہیں؟‘‘

’’مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ یہی ان کا کام ہے۔ ویسے اﷲ کا دیا بہت کچھ ہے۔ میرا ہاتھ انھوں نے کبھی تنگ ہونے نہیں دیا‘‘

سلمیٰ نے یوں محسوس کیا کہ اس کا دل تنگ ہو گیا ہے۔

’’شاہدہ مجھے تنگ نہ کرو‘ مجھے شادی نہیں کرنا ہے۔ مجھے مردوں سے نفرت ہے‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بس ہے!‘‘

’’اب میں تم سے کیا کہوں۔ مردوں سے مجھے بھی نفرت تھی لیکن جب میری شادی ہوئی اور مجھ سے میرے خاوند نے پیار محبت کیا تو میں نے پہلی مرتبہ جانا کہ مرد‘ عورت کے لیے کتنا لازمی ہے‘‘

’’ہوا کرے۔ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں‘‘

شاہدہ ہنسی‘ سلمیٰ ! ایک دن تم ضرور اس بات کی قائل ہو جاؤ گی کہ مردعورت کے لیے لازمی ہے۔ اس کے بغیر وہ ایسی گاڑی ہے جس کے پہیے نہ ہوں۔ میری شادی کو ایک برس ہوا ہے‘ اس ایک برس میں مجھے جتنی مسرتیں اور راحتیں میرے خاوند نے پہنچائی ہیں‘ میں بیان نہیں کر سکتی۔ خدا کی قسم وہ فرشتہ ہے۔ فرشتہ‘ مجھ پر جان چھڑکتا ہے‘‘

سلمیٰ نے یہ سُن کر یوں محسوس کیا کہ جیسے اس کے سر پر فرشتوں کے پر پھڑپھڑا رہے ہیں۔ اس نے سوچنا شروع کیا کہ شاید مرد عورت کے لیے لازمی ہی ہو۔ لیکن فوراً بعد اس کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ اس کی عقل نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ مرد کی ضرورت ہی کیا ہے؟۔ کیا عورت اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ جیسا کہ شاہدہ نے اس کو بتایا تھا کہ اس کا شوہر بہت پیار کرنے والا ہے‘ بہت نیک خصلت ہے۔ لیکن اس سے یہ ثابت تو نہیں ہوتا کہ وہ شاہدہ کے لیے لازمی تھا۔ سلمیٰ حسین تھی‘ اُبھرا اُبھرا جوبن ‘ بھرے بھرے ہاتھ پاؤں‘ کشادہ پیشانی‘ گھٹنوں تک لمبے کالے بال‘ ستواں ناک اور اس کی پھننگ پر ایک تل۔ جب وہ اپنی سہیلی سے اجازت مانگ کر غسل خانے میں گئی تو اُس نے آئینے میں خود کو بڑے غور سے دیکھا اور اُسے بڑی اُلجھن محسوس ہوئی ‘ جب اس نے سوچا کہ آخر یہ جسم‘ یہ حسن‘ یہ ابھار کس لیے ہوتے ہیں۔ قدرت کی ساری کاریگری اکارت جا رہی ہے۔

’’گندم پیدا ہوتا ہے تو آدمی اس سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ اس کی جوانی بھی تو کسی کھیت میں اُگی تھی۔ اگر اسے کوئی کھائے گا نہیں تو گل سڑ نہیں جائے گی؟‘‘

وہ بہت دیر تک غسل خانے میں آئینے کے سامنے سوچتی رہی‘ ا س کے ذہن میں اس کی سہیلی کی تمام باتیں گونج رہی تھیں۔ مرد‘ عورت کے لیے بہت ضروری ہے۔ ! اس کا خاوند اس سے بہت پیار کرتا ہے۔ وہ فرشتہ ہے۔ سلمیٰ نے ایک لمحے کے لیے محسوس کیا کہ اس کی شلوار اور اس کا دوپٹہ فرشتوں کے پَر بن گئے ہیں۔ وہ گھبرا گئی اور جلدی فارغ ہو کر باہر نکل آئی‘ باہر برآمدے میں مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں‘ سلمیٰ کو ایسا لگا کہ یہ بھی فرشتے ہیں جو بھیس بدل کر آئے ہیں۔ پھر جب اس کی سہیلی اپنی کوٹھی سے ملحقہ باغ میں اسے لے گئی اور وہاں اس نے چند تتلیاں دیکھیں تو وہ بھی اسے فرشتے دکھائی دیے۔ لیکن اُس نے کئی مرتبہ سوچا کہ ایسے رنگین اور ایسے ننھے منے فرشتے کیسے ہو سکتے ہیں۔ اسے بہت دیر تک فرشتے ہی فرشتے دکھائی دیتے رہے جو اس کے قریب آتے اس سے پیار کرتے‘ اس کا منہ چومتے‘ اس کے سینے پر ہاتھ پھیرتے‘ جس سے اس کو بڑی راحت ملتی لیکن ان فرشتوں کے ہاتھ بڑی تندہی سے ایک طرف جھٹک دیتی اور ان سے کہتی :

’’جاؤ۔ چلے جاؤ یہاں سے۔ تمہارا گھر تو آسمان پر ہے۔ یہاں کیا کرنے آئے ہو؟‘‘

وہ فرشتے اس سے کہتے

’’ہم فرشتے نہیں حضرتِ آدمؑ کی اولاد ہیں۔ وہی بزرگ جو جنت سے نکالے گئے تھے۔ پر ہم تمھیں پھر جنت میں پہنچا دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ چلو ہمارے ساتھ‘ وہاں دودھ کی نہریں بہتی ہیں اور شہد کی بھی‘‘

سلمیٰ نے یوں محسوس کیا کہ اس کے سینے میں سے دودھ کے ننھے منے قطرے نکلنے شروع ہو گئے ہیں اور اس کے ہونٹ مٹھاس میں لپٹے ہوئے ہیں۔ شاہدہ ‘ اُس سے بار بار اپنے خاوند کی تعریف کرتی‘ اصل میں اُس کا مدعا یہ تھا کہ اس کے بھائی کے ساتھ سلمیٰ کا رشتہ قائم کر دے۔ مگر گھر پر یہ پہلی ملاقات تھی‘ اس لیے وہ کھل کے بات نہ کر سکی۔ بہرحال اس نے اشاروں کنایوں میں سلمیٰ پر یہ واضح کر دیا کہ اس کا خاوند جو بہت شریف اور محبت کرنے والا آدمی ہے اُس کا بھائی اُس سے بھی کہیں زیادہ شریف النفس ہے۔ سلمیٰ نے یہ اشارہ نہ سمجھا ‘ اس لیے کہ وہ بہت سادہ لوح تھی‘ اُس نے صرف اتنا کہہ دیا

’’آج کل کے زمانے میں شریف آدمیوں کا ملنا محال ہے۔ تم خوش قسمت ہو کہ تمھیں ایسا خاندان مل گیا جہاں ہر آدمی نیک اور شریف ہے‘‘

’’افسوس ہے کہ اس وقت میرے خاوند گھر میں موجود نہیں ورنہ میں تم سے انھیں ضرور ملاتی‘‘

’’کبھی پھر سہی۔ کیا کام کرتے ہیں‘‘

’’ہائے‘ انھیں کیا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لاکھوں روپے کی جائیداد ہے۔ مکانوں اور دکانوں سے کرایہ ہی ہر مہینے دو ہزار کے قریب وصول ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ماشاء اﷲ زمینیں ہیں‘ وہاں کی آمدن الگ ہے۔ اناج کی کوئی دقّت نہیں۔ منوں گندم گھر میں پڑا رہتا ہے۔ چاول بھی۔ ہر قسم کی ترکاری بھی ہر وقت میسر ہو سکتی ہے۔ اﷲ کا بڑا فضل و کرم ہے۔ ان کا چھوٹا بھائی جو آج کل لندن میں ہے‘ زراعت کے متعلق جانے کیا سیکھ رہا ہے۔ ایک مہینے تک واپس آ رہا ہے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت ہے۔ تم اُسے دیکھو گی۔ تو۔ ‘‘

سلمیٰ نے گھبراتے ہوئے لہجے میں کہا

’’ہاں ‘ ہاں۔ جب وہ آئیں گے تو ان سے ملنے کا اتفاق ہو جائے گا‘‘

شاہدہ نے کہا

’’بڑا شریف لڑکا ہے۔ بالکل اپنے بڑے بھائی کی مانند‘‘

’’جی ہاں۔ ضرور ہو گا‘ آخر شریف خاندان سے تعلق ہے‘‘

’’وہ بس آنے ہی والا ہے۔ تم مجھے اپنی ایک تصویر دے دو‘‘

’’کیا کرو گی‘‘

’’بس شہد لگا کے چاٹا کروں گی‘‘

یہ کہہ کر شاہدہ نے سلمیٰ کا منہ چوم لیا‘ اور پھر اپنے خاوند کی تعریفیں شروع کر دیں۔ سلمیٰ تنگ آ گئی ‘ اُس نے تھوڑی دیر کے بعد کوئی بہانہ بنا کر رخصت چاہی اور بس اسٹینڈ پر پہنچ گئی‘ جہاں اسے

’’اے روٹ‘‘

کی بس پکڑنا تھی۔ وہ جب وہاں پہنچی تو ایک مرد نے اُسے بہت بُری نگاہوں سے گھورنا شروع کر دیا۔ وہ پریشان ہو گئی‘ جاڑوں کے دن تھے مگر اس نے کئی مرتبہ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا۔ اسٹینڈ پر ایک بس آئی‘ اس نے اس کا نمبر نہ دیکھا اور جب چند مسافر اُترے تو وہ فوراً اس میں سوار ہو گئی۔ وہ آدمی بھی اس بس میں داخل ہو گیا‘ اس کی پریشانی اور زیادہ بڑھ گئی۔ اتفاق ایسا ہوا کہ بس کے انجن میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی‘ جس کے باعث اسے رکنا پڑا‘ سب مسافروں سے کہہ دیا گیا کہ وہ اُتر جائیں کیونکہ کافی دیر تک یہ بس نہیں چل سکے گی۔ سلمیٰ نیچے اُتری تو وہ آدمی جو اُسے بہت بری طرح گھور رہا تھا وہ بھی اس کے ساتھ باہر نکلا۔ سڑک پر ایک کار جا رہی تھی اُس نے اس کے ڈرائیور کو آواز دی

’’امام دین‘‘

امام دین نے موٹر ایک دم روک لی۔ اس آدمی نے سلمیٰ کا ہاتھ پکڑا اور اس سے کہا : چلیے۔ یہ میری کار ہے۔ جہاں بھی آپ جانا چاہتی ہیں‘ آپ کو چھوڑ آؤں گا‘‘

سلمیٰ انکار نہ کر سکی‘ موٹر میں بیٹھ گئی‘ اُس کو ماڈل ٹاؤن جانا تھا مگر وہ اسے کہیں اور لے گیا۔ اور۔ ! سلمیٰ نے محسوس کیا کہ مرد واقعی عورت کے لیے لازم ہوتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی کا بہترین دن گزارا۔ گو اُس نے پہلے بہت حیل و حجت اور احتجاج کیا مگر اُس آدمی نے اسے رام کر ہی لیا۔ تین چار گھنٹوں کے بعد جب سلمیٰ نے اُس شخص کا بٹوہ کھول کر یونہی دیکھا تو اُس میں ایک طرف شاہدہ کا فوٹو تھا۔ اُس نے ہچکچاہٹ کے ساتھ پوچھا :

’’یہ۔ یہ۔ عورت کون ہے؟‘‘

’’اُس شخص نے جواب دیا:

’’میری بیوی‘‘

سلمیٰ کے حلق سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی‘ آپ کی بیوی؟‘‘

شاہدہ کا خاوند مسکرایا

’’کیا مردوں کی بیویاں نہیں ہوتیں؟‘‘

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک باپ بکاؤ ہے
  • چراغ تلے
  • پاکستان پیپلز پارٹی کا جنم
  • دیہی سندھ کے مسائل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پرگتی
پچھلی پوسٹ
پانچ دن

متعلقہ پوسٹس

ستارہ یا بادبان (حسن عسکری)

مئی 24, 2026

شیدا

جنوری 21, 2020

ٹوٹتے تارے

مارچ 3, 2017

زاہد محمود زاہد کا شعری لحن

جنوری 15, 2021

اردو بازار کے بزنس ٹائیکون

مئی 29, 2025

گرد آلود لہو لہو چہرے!

اکتوبر 28, 2023

پرانے برچ کے درخت کے نیچے

جنوری 28, 2025

چھوٹی چھوٹی مگر اہم باتیں

جون 6, 2026

پیرس کا آدمی

جون 14, 2020

سودا کی قصیدہ نگاری

اپریل 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ماں کی مامتا

مئی 20, 2020

امرود کے حیرت انگیز طبّی فوائد

مئی 26, 2023

بھارتی توپیں

اکتوبر 28, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں