خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابھارتی توپیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

بھارتی توپیں

از عابد ضمیر ہاشمی اکتوبر 28, 2023
از عابد ضمیر ہاشمی اکتوبر 28, 2023 0 تبصرے 51 مناظر
52

کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے خلاف آج 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پرمنایا جائے گا۔
27اکتوبر تاریخ کا وہ سیاہ دِن ہے جب 1947ء میں بھارت ایک سامراج کے روپ میں ابھرا اور کشمیریوں کی مرضی اور تقسیم بر صغیرکے اصولوں کے خلاف کشمیر پر جارحیت کر کے اس کے ایک حصے پرجبری قبضہ کر لیا۔جو آج تک کشمیریوں نے تسلیم نہیں کیا۔
دراصل مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نا مکمل ایجنڈا ہے۔ تقسیم برصغیر کے رہنما اصولوں کے مطابق کشمیر پاکستان کا فطری حصہ ہے اور کشمیری عوام 87فیصد مسلمانوں کی آبادی کے علاوہ جغرافیائی اور تہذیبی رشتوں کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ رہنے کے خواہشمند تھے اور ہیں۔ 19جولائی 1947ء کو سرینگر کے علاقے آبی گزر میں ایک تاریخی قرارداد پاس کی جس میں ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیاگیا۔ لیکن بھارتی سامراج نے تمام قوانین اور اخلاقی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے ریاست پر فوج کشی کی اور اس کے بڑے حصے پر قبضہ جما لیا۔ کشمیر ی عوام نے بھارت کے اس غاصبانہ قبضے کو مسترد کر تے ہوئے اس جارحیت کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کی جو دِن بدن تیز ہوتی جارہی ہے۔

کشمیریوں کی جدو جہد سے خوف زدہ ہو کر بھارتی سامراج اپنے غاصبانہ تسلط کو جواز بخشنے کے لیے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ نے مختلف مواقع پر 18قراردادیں پاس کیں جن میں کشمیری عوام کو یقین دلایا گیا کہ ان کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار دیا جائے گا۔
بعد ازاں بھارت اپنے وعدوں سے مکر گیا اور اب سات دہائیوں سے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے کشمیریوں پر اپنی دس لاکھ فورسز مسلط کر کے اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جمو ں وکشمیر کو ایک وسیع و عریض جیل اور دُنیا کے سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والے خطے میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ بے لگام اور بد حواس فوجی انسانیت کے خلاف سنگین اور ہولناک جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں جن میں منظم نسل کشی‘ بدترین تشدد‘ جائیداد کی تباہی اور خواتین کی آبروریزی بھی شامل ہے۔

1989 ء سے اب تک ایک لاکھ کشمیریوں کا سفاکانہ قتل بدترین تشدد کے ذریعے ہزاروں کو ذہنی و جسمانی طور پر ناکارہ بنانے کا مکروہ عمل‘5لاکھ سے زائد مکانوں‘ دکانوں اور دیگر تعمیرات کی تباہی‘ 11ہزار سے زائد عفت مآب خواتین کی آبروریزی‘10ہزار سے زائد کشمیریوں کی حراستی گمشدگی اور دیگر بھیانک جرائم اس بات کا ناقابل تردیدثبوت ہیں کہ بھارت کشمیر کو قبرستان اور کھنڈرات میں تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے؛ اگرچہ کشمیری عوام 1947ء سے ہی بھارت کی بدترین ریاستی دہشت گردی کے شکار ہیں؛تاہم نریندر مودی کی زیر قیادت RSSکی فسطائی حکومت نے انسانیت دشمنی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے۔ اگرچہ ہندوؤں کی بالا دستی پر یقین رکھنے والے ہندو انتہا پسندعناصر کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرکو بھارت میں ضم کر کے کشمیریوں پر ہندوتوا تہذیب مسلط کریں‘ تاہم ہندوتوا کے اس شیطانی ایجنڈے کا باقاعدہ آغاز5اگست 2019ء کو اس وقت ہوا جب دفعہ370اور35اے جس کے کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو مستقل رہائش اختیار کرنے اور زمینیں خریدنے اور سرکاری نوکریاں حاصل کرنے کی ممانعت تھی کو منسوخ کر دیا گیا۔ اس مذموم اور مسلم دشمن اور صیہونی طرز کی سازش کا مقصد غیر ریاستی ہندوؤں کی آباد کاری کے ذریعے کشمیر کی ڈیمو گرافی کو تبدیل کرنا اور کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے
ساتھ ہی ہندوتوا کے پجاریوں نے نہ صرف کشمیریوں کی منظم نسل کشی کا سلسلہ تیز کر دیا بلکہ 90لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی کو گھروں میں محصور کر دیا۔

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ فوجی محاصرے کوتین سال سے زاہد عرصہ ہو چکا ہے۔ برہمن سامراج نے نہ صرف اپنی دس لاکھ فورسز مسلط کر رکھی ہے بلکہ محصور کشمیریوں کے تمام سیاسی سماجی‘معاشی اور مذہبی حقوق بھی چھین لیے ہیں۔ اس کے علاوہ صحت اور تعلیم کی سہولیات سے بھی کشمیری محروم ہیں۔ ظالمانہ اور تاریخ کے اس طویل ترین فوجی محاصرے نے کشمیریوں کی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کی خواتین کو محاصرے اورتلاشی کی کارروائییوں کے بہانے بھارتی فورسز کے ہاتھوں مسلسل اغوا‘ جنسی تشدد ٗ غیر قانونی حراستوں اور چھیڑ چھاڑ کا سامنا ہے جبکہ بھارتی حکومت نے ”آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ“نام سے ایک کالا قانون بنارکھا ہے جس کے ذریعے جنسی تشدد میں ملوث بھارتی فوجیوں کو سزا سے بچایا جاتاہے۔بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو غیر قانونی حراست میں لینے کے لئے دو کالے قوانین”پبلک سیفٹی ایکٹ“(PSA)اور”غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کاقانون“(UAPA) بنا رکہے ہیں۔
اگست2019میں مودی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔کشمیرکی جیلوں میں قید تحریک آزادی کے کارکنوں کو خودکشی یا حادثات ظاہر کرکے قتل کیا جارہا ہے اب تک متعد قیدیوں کوکشمیر کی جیلوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں منتقل کیا جاچکا ہے تاکہ وہاں ان کو دی جانے والی اذیت ناک موت کا کسی کو پتہ نہ چل سکے۔
مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل کی طرز پر آباد کاری کرتے ہوئیے ایک طرف مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے تو دوسری جانب اب تک پینتالیس لاکھ سے زائیدہندووں کوڈومیسائیل جاری کرکے وہاں آباد کیا جارہا ہے جبکہ25 لاکھ بھارتی شہریوں کومتنازعہ علاقہ میں ووٹ ڈالنے کاغیر قانونی حق دے دیاگیا ہے اس کے علاوہ دریائے چناب پرریلوے ٹریک بناکر مقبوضہ وادی کو بھارت کے بڑے ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک کرنے کا منصوبہ بھی بنایا جارہا ہے۔بھارتی حکومت نے اپنی دس لاکھ سے زائد فوج تعینات کرکے مقبوضہ کشمیر کو دُنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے‘ اس کے باوجود عالمی ضمیر سو رہا ہے۔ غزہ ہو یا کشمیر‘ آزادی کا سورج طلوع ہو کر رہے گا۔ کفر سارا ایک ملت ہے۔ غزہ ہو یا کشمیر‘ ہمیں جھنجوڑا رہے کہ اگر کفر سارا ایک ملت ہے‘ تو ہم اسلام‘ قرآن‘ بہترین رہبر رحمت العالمین کے ہوتے‘ علاقائی‘ مسلکی‘ قبیلائی‘ فرقہ واریت میں کیوں رسوا ہو رہے‘ ہمیں ایک امت بننا ہو گا۔ غزہ اور کشمیر کی آزادی یقینی ہے۔ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

 

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جس کـا جو بنـتا تـھا مـیں نے
  • تیرا وعدہ جھوٹا نکلا
  • نہ ملتا ان کا سنگِ در ، بتاؤ ہم کہاں جاتے
  • ملے تھے دشت کئی قہقہہ لگاتے ہوئے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
عابد ضمیر ہاشمی

اگلی پوسٹ
گرد آلود لہو لہو چہرے!
پچھلی پوسٹ
کرکٹ، سیاست اور فلسطین!

متعلقہ پوسٹس

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

جنوری 2, 2020

سوال اب بھی وہی ہے جناب کیسے ہوا

اپریل 5, 2020

ایبسٹریکٹ

مئی 5, 2020

میرے وطن کی جان تھے عبدالقدیر خان

دسمبر 12, 2021

زندگی! تجھے کیا چاہیے؟

اپریل 21, 2026

گلوں کے درمیان خواب

نومبر 27, 2024

نالۂ شب گیر: ایک ضروری مکالمہ عورتوں کے تعلق سے

نومبر 29, 2020

میں دل کے ہاتھوں گرفتار ہو کے نکلی تھی

مارچ 9, 2020

ریت پر نقش بنائیں گے

مارچ 22, 2025

غبارے

دسمبر 23, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

غزل کے اشعار

اگست 29, 2025

ہے کسی اور ہی مٹی پہ...

جنوری 3, 2020

ہماری کلاسیکی غزل کی شعریات

مئی 27, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں