خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ

از سائیٹ ایڈمن مارچ 3, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 3, 2026 0 تبصرے 74 مناظر
75

shahid naseem chaudhry

آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے یہ اطلاع سامنے آئی کہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ایران بھر میں سات روزہ سرکاری تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ خبر صرف ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے اور دنیا بھر میں سیاسی، سفارتی اور مذہبی حلقوں میں گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شخصیت نصف صدی سے زائد عرصے پرAyat Ullah Khameeni محیط ایرانی سیاست، مذہبی قیادت اور انقلابی نظریے کی علامت رہی۔ وہ 1989 میں بانیٔ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد ایران کے سپریم لیڈر مقرر ہوئے اور تب سے لے کر اب تک ریاستی پالیسیوں، دفاعی حکمتِ عملی اور خارجہ امور میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی قیادت میں ایران نے عالمی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے باوجود اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہنے کی پالیسی اپنائی۔
ان کی شہادت کی خبر نے ایران کے عوام کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ تہران، قم، مشہد اور دیگر شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، مساجد اور امام بارگاہوں میں دعائیہ اجتماعات منعقد ہوئے، اور سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ ایران کی تاریخ میں شاید ہی کوئی موقع ایسا آیا ہو جب قومی سطح پر اتنی طویل مدت کا سوگ منایا گیا ہو۔ سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ اس بات کا اظہار ہے کہ ایرانی قوم اپنے رہبر کو کس قدر اہمیت دیتی تھی۔
یہ محض ایک سیاسی رہنما کی موت نہیں بلکہ ایک نظریے اور ایک دور کا اختتام ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کو ایک انقلابی ریاست سے ایک مضبوط علاقائی طاقت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں ایران نے دفاعی خود کفالت، میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو فروغ دیا۔ انہوں نے ہمیشہ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں مزاحمت اور خودمختاری کو ترجیح دی۔
تاہم ان کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر تنقید بھی ہوتی رہی۔ مغربی ممالک، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تناؤ اور عسکری خطرات ان کے دورِ قیادت کا حصہ رہے۔ لیکن ایرانی قیادت کا مؤقف یہ تھا کہ یہ سب قومی خودمختاری اور انقلابی اصولوں کے تحفظ کی قیمت ہے۔
ان کی شہادت کے بعد خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایسے میں ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کا اس انداز میں رخصت ہونا علاقائی توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ عالمی مبصرین اس واقعے کو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
تعزیتی پہلو سے دیکھا جائے تو آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی سادگی، استقامت اور نظریاتی وابستگی کی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ ان کے حامی انہیں ایک ایسے رہبر کے طور پر یاد کرتے ہیں جو دباؤ کے سامنے جھکے نہیں، جنہوں نے اپنے ملک کی خودمختاری کو مقدم رکھا اور اپنی قوم کے مفادات کے لیے سخت فیصلے کیے۔ ان کے ناقدین اپنی جگہ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ عالمی سیاست کے ایک بڑے اور بااثر کردار تھے۔
ایران میں چالیس روزہ سوگ کا اعلان شیعہ روایت کے مطابق ہے، جہاں شہادت کے بعد چالیسویں دن تک خصوصی مجالس اور دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ روایت کربلا کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے اور ایرانی معاشرے میں گہرے مذہبی و ثقافتی معنی رکھتی ہے۔ اس طویل سوگ کا مقصد صرف غم کا اظہار نہیں بلکہ رہبر کے نظریات سے تجدیدِ عہد بھی ہوتا ہے۔
آج جب دنیا اس سانحے پر نظریں جمائے ہوئے ہے، سب سے اہم سوال ایران کی آئندہ قیادت اور پالیسیوں کا ہے۔ سپریم لیڈر کا منصب ایران کے سیاسی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ نئے رہبر کا انتخاب نہ صرف داخلی سیاست بلکہ خارجہ پالیسی کی سمت کا تعین کرے گا۔ آیا ایران اپنے سابقہ سخت مؤقف پر قائم رہے گا یا کسی نئے سفارتی باب کا آغاز کرے گا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
بطور مسلمان اور بطور انسان، کسی بھی جان کے ضیاع پر افسوس اور تعزیت کا اظہار ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایرانی عوام کے دکھ میں شریک ہونا انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر موت ایک ایسی حقیقت ہے جو تمام سرحدوں، نظریات اور سیاست سے بالا تر ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگ اور تصادم کا راستہ ہمیشہ مزید تباہی لاتا ہے۔ اگر یہ واقعہ واقعی عسکری حملوں کا نتیجہ ہے تو یہ پوری انسانیت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم کب تک مسائل کا حل گولی اور میزائل میں تلاش کرتے رہیں گے؟ کیا سفارت کاری، مذاکرات اور مکالمہ ہمیشہ کے لیے پس منظر میں چلے گئے ہیں؟
آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی اور ان کی شہادت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ طاقت، مزاحمت اور نظریات کی سیاست کے درمیان انسانیت کا مقام کہاں ہے۔ ایک رہبر رخصت ہوا، لیکن اس کے نظریات، اس کی تقریریں اور اس کا اثر تاریخ کے صفحات میں محفوظ رہے گا۔
ایران آج سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ گلیوں میں سناٹا، آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں سوالات ہیں۔ آنے والے دنوں میں شاید خطے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے۔ مگر اس لمحے سب سے نمایاں منظر ایک قوم کا اپنے رہبر کے لیے اجتماعی غم ہے۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ایران سمیت پورے خطے کو امن و استحکام نصیب کرے۔ اختلافات اور تنازعات کے باوجود، انسانی جان کی حرمت سب سے مقدم ہے۔
ایک عہد ختم ہوا، ایک باب بند ہوا، مگر تاریخ کا سفر جاری ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ وقت گواہ رہے گا کہ اس سانحے کے بعد دنیا کس سمت بڑھتی ہے — تصادم کی طرف یا امن کی طرف۔
اللہ ایران کے عوام کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور دنیا کو عقل و دانش کی وہ روشنی نصیب کرے جس سے جنگ کے بادل چھٹ سکیں۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی استقامت، نظریاتی وابستگی اور قومی خودمختاری کے عزم کی علامت رہی۔ انہوں نے دباؤ اور پابندیوں کے دور میں بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنی قوم کی رہنمائی کی۔ ان کی قیادت نے ایران کی سیاست اور خطے پر گہرے نقوش چھوڑے۔ آج ان کی رحلت پر ایرانی عوام کے غم میں شریک ہوتے ہوئے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ تاریخ انہیں ایک بااثر رہبر کے طور پر یاد رکھے گی جنہوں نے اپنے نظریے کے لیے پوری زندگی وقف کی۔۔۔،

شاہد نسیم چوہدری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غبارے
  • بغیر آلات مفت آپریشن
  • باغ علی باغی (قسط اول)
  • واپسی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے
پچھلی پوسٹ
بچوں میں اسکرین ٹائم کے اثرات

متعلقہ پوسٹس

نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

اگست 30, 2026

ہم نا ماننے والے لوگ!

اگست 5, 2021

صحرائے گوبی کا طلسم

مئی 3, 2020

بڑھاپے میں جوانی کی یادیں

ستمبر 29, 2019

میرا بچپن نگر

جون 7, 2026

لداخ کی گونجتی آواز

ستمبر 26, 2025

میرا قیمہ بنا دیجیے

جون 20, 2026

خود کی پہچان

جنوری 24, 2020

تین جذبے

مارچ 14, 2020

بچے

جنوری 25, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہے خبر گرم

دسمبر 6, 2019

جوانی

دسمبر 9, 2019

ججز استعفیٰ کیوں دے رہے ہیں...

نومبر 26, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں