21
سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ (سورۃ یس آیت 36)
"پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز میں سے جوڑے بنائے، زمین کی اگائی ہوئی چیزوں سے، خود ان کے وجود سے، اور ان چیزوں سے جنہیں یہ جانتے بھی نہیں۔”
آج اس آیت پر غور کرتے ہوئے میرے ذہن میں سوال آیا کہ یہاں "سبحان الذی” سے شروعات کی کیا حکمت ہے؟
قرآن میں جب بھی کوئی بات اللہ کی وحدانیت، قدرت یا نظامِ تخلیق کے بارے میں حیران کن یا غیر معمولی انداز میں بیان ہوتی ہے، وہاں اکثر "سبحان” آتا ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ: یہ سب کچھ ممکن ہے، مگر صرف اس ذات سے جو ہر کمی سے پاک اور کامل ہے۔
لفظ "زوج” عربی میں صرف "نر و مادہ” کے لیے نہیں آتا۔ یہ ہر اس تعلق، امتزاج یا تضاد کے لیے آتا ہے جو کسی شے کو مکمل بناتا ہے۔ قرآن میں "زوج” کے معانی سیاق کے لحاظ سے مختلف ہیں:
بیوی / شریکِ حیات کے لیے:
يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ (سورۃ بقرۃ آیت 35)
جنس / قسم / نوع کے لیے:
احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ(سورۃ لصَّافَّات آیت 22)
ظالموں کو ان کے جیسے (ہم نوع) لوگوں کے ساتھ جمع کرو
طبقات / گروہ کے لیے:
وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً (الواقعہ: 7)
یعنی "تم تین گروہوں (ازواج) میں تقسیم کیے جاؤ گے”
یہاں "ازواج” کا مطلب جماعتیں یا طبقات ہیں، جو اپنی نوع اور باہمی خصوصیات کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ میل کھاتے ہیں۔
یوں "زوج” کا مفہوم قسم، ہم نوع، تضاد، توازن، تکمیل ان سب کو محیط ہے۔
یہ اصول صرف انسان تک محدود نہیں۔ اگر ہم کائنات پر نظر ڈالیں تو "ازواج” کا نظام ہر طرف کارفرما ہے۔
پودے: کئی پودے اپنے پڑوسی پودوں کے بغیر نہیں اگ سکتے۔ ان کے گرد مخصوص اقسام کے پودے یا کیڑے ہوں تو ہی وہ زندہ رہتے ہیں۔
پرندے: کئی پرندے صرف مخصوص درختوں پر رہتے ہیں۔ درخت اور پرندہ دونوں ایک دوسرے کی بقا کے لیے لازم ہیں۔
کہکشائیں: ہر گلیکسی اپنے محور اور اردگرد کے نظام سے متوازن ہے۔ کوئی بھی تنہا نہیں۔
انسانی جسم: ہمارے اعضا ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ دل اکیلا کچھ نہیں کر سکتا اگر پھیپھڑے، دماغ، یا خون نہ ہو۔
یعنی "ازواج” ایک حیاتیاتی، فطری اور کیہانی اصول ہے۔
آج میں نے اس آیت سے سیکھا کہ کائنات میں کوئی چیز بالکل اکیلی نہیں بنائی گئی ہر وجود کسی نہ کسی کے ساتھ جڑا ہے، کسی کے بغیر نامکمل۔ ایک وہی ذات ایسی ہے جسے کسی جوڑے، شریک یا کمپلیمنٹ کی حاجت نہیں۔
تمام مخلوقات کو ایک دوسرے سے مکمل ہونے کا نظام دیا، لیکن خود اس توازن سے بالاتر ہے۔ وہ واحد ہے، صمد ہے، بے نیاز ہے۔
طاہرہ فاطمہ
