زندگی میں اک موڑ پر ہم وہ قیدی بن جاتے ہیں جن کو اپنی ہی قید سے محبت ھو جاتی ہے۔
آزادی کے ہزار راستے نظر آتے ہیں مگر ہمیں اپنی قید ہعزیز ھوتی ھے۔بلکہ کبھی کبھار تو آزادی خود ہم سے اپنی رہائ کا مطالبہ کرتی ھے۔
مگر ہم اس قید کے اتنے عادی ھو جاتے ہیں کہ وہ آزادی اہمیت ہی نہی رکھتی۔
اس لیے نہی کہ آزادی ھمیں پسند نہی ۔اسلیے کہ ہم آزاد ھونا نہی چاہتے۔ہمارے اندر اڑنے کی چاہ نہی رہتی۔
وہ قید ہمیں سب ضروری اشیاء دے رہی ھوتی ھے۔
جیسے کھانا پینا۔اوڑھنا۔چھت۔بنیادی ضروریات۔اور کبھی کبھار کھلی فضا میں تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی سانس۔
مگر وہ کھلی فضاء کے ہم تنگ آجاتے ہیں اور اپنے قید خانے کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔
جہاں ہم ایسی ننید سوتے ہیں جیسے یہی ہماری آزادی و خوشی ھے۔
مگر ذہنی اذیت بہت ھے اس قید میں پہلے پہل جسم ذہن قبول نہی کرتا پھر آہستہ آہستہ عادی ھو جاتا ھے۔
ذہنی مار کا باتوں کا تنہائ کا اذیت کا وہ چاھے ذہنی ھو یا جسمانی فرق نہی ناں پڑتا پھر بس سانس لینا ھوتا ۔وقت پر کھانا ھوتا ۔یہ سوچ کر شکر کر لینا ھوتا
بہت سوں سے بہتر ھیں ھم ۔اور یہی تسلی ھمیں مضبوط کر دیتی ھے۔
ہم بہتر ہیں۔بہت سوں سے۔ٹوٹے ھوۓ۔بکھرے ھوۓ۔
جی بھر کر رو کر پھر مسکراتے ھوۓ۔
ہم عادی ھو جاتے ہیں ۔خود کے لیے خود ہی بنائ ھوئ قید کے۔
ہماری آزادی پھر وہی ھوتی ھے۔
جب سانس ختم ھوتی ھے۔اور ھم اللہ سے باتیں کرتے کرتے اللہ کے پاس ہی چلے جاتے ہیں۔ھمیشہ کی آزادی۔
مگر کوشش کریں اس قید سے دور رہنے کی۔
یہ راس تو آجاتی ھے مگر بہت کچھ کھا جاتی ھے۔
ہمارے خواب۔انا۔عزت نفس۔خواہشات۔محبت۔خوبصورتی سب کھا جاتی ھے۔اور ہم صرف سانس لیتے ہیں دھڑکتےدل کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔
ٹوٹے بکھڑے اپنے وجود کو سمیٹے زندگی کے دن رات گزار رھے ھوتے ہیں۔
شاید ہم سمجھدار ھو کر انجان بن جاتے ہیں۔
لفظ آخر میں یہی لکھوں گی۔
بہت زیادہ لوگ اکثر خود میں قید ھے۔بس وہ نقاب اوڑھے ھیں کہ کوئ انہیں پہچان نہ لے۔اگر کوئ انہیں اپنے جیسا ساتھی مل جاۓ ناں پھر وہ یہی کہتے ہیں۔
درد تحریر کیا کریں اب بیاں کرنے کی جستجو نہی۔
روحیں الگ الگ ہیں مگر درد اک جیسا ھے۔
یہاں کوئ سب پا کر خالی ھے۔
اور کسی کو کچھ ملا ہی نہی ۔
صنم فاروق
