خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانہ سنوائی، نہ تحفظ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

نہ سنوائی، نہ تحفظ

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025 0 تبصرے 60 مناظر
61

ہمارا معاشرہ جس تیزی سے اخلاقی زوال کا شکار ہو رہا ہے، اس کا سب سے مہلک وار ہماری آئندہ نسلوں پر ہو رہا ہے۔ وہ بچے جو ابھی زندگی کے مفہوم کو سمجھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، وہ بچیاں جن کے چہروں پر حیا اور معصومیت کے رنگ جھلکتے ہیں، ان پر وہ ظلم ہو رہا ہے جس کا تصور بھی کلیجہ چیر دیتا ہے۔ ہر روز کہیں نہ کہیں ایک درندہ، انسان کے چہرے میں چھپا، کسی معصوم کا بچپن روند رہا ہوتا ہے۔

یہ کوئی خیالی کہانی نہیں، یہ وہ زمینی حقیقت ہے جو ہمارے اسکولوں، مدرسوں، گلیوں، گھروں اور حتیٰ کہ عبادت گاہوں میں سرایت کر چکی ہے۔ اور بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر اسے ”بدنامی“ کے ڈر سے چھپاتے ہیں، خاموشی اختیار کرتے ہیں یا بے حسی سے گزر جاتے ہیں۔ مگر خاموشی اب جرم بن چکی ہے، اور اس جرم کا خمیازہ بچے بھگت رہے ہیں۔

معاشرتی زوال کی سب سے تکلیف دہ شکل وہ ہوتی ہے جب درندے تعلیم، دین، قرابت یا اعتماد کے نقاب میں گھس آتے ہیں۔ کبھی وہ اسکول کے استاد ہوتے ہیں، کبھی قاری صاحب، کبھی محلے کا دکاندار یا کبھی گھر کا ملازم۔ ایسے لوگ نہ صرف بچوں کا جسمانی استحصال کرتے ہیں بلکہ ان کا ذہنی، جذباتی اور روحانی قتل بھی کرتے ہیں۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ان کا جرم اکثر خاندان کے اندر، معاشرتی خاموشی کی چادر اوڑھ کر دفن کر دیا جاتا ہے۔

ایسے حالات میں والدین کی ذمہ داری محض بچوں کو کھانا، کپڑا اور تعلیم دینا نہیں بلکہ انہیں تحفظ کا شعور دینا بھی ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ اگر کوئی انہیں کسی اکیلی جگہ لے جانا چاہے تو وہ صاف انکار کر دیں۔ انہیں سکھائیں کہ ان کا جسم ان کا حق ہے، کوئی بھی، چاہے جتنا قریبی کیوں نہ ہو، اگر انہیں چھونے کی کوشش کرے تو وہ غلط ہے۔ بچوں کو یہ احساس دیا جائے کہ وہ کسی بھی مشکوک رویے پر آواز بلند کر سکتے ہیں۔

بچوں کو اپنی حفاظت کے لیے کچھ بنیادی اصول یاد ہونے چاہئیں۔ جیسے کہ کسی اجنبی سے کھانے پینے کی چیز نہ لیں، کوئی شخص اگر یہ کہے کہ تمہارے والد بلا رہے ہیں تو کہیں کہ والد خود آ جائیں، کسی بھی بڑے یا استاد کی دھمکی، جیسے کہ ”تم جہنم میں جاؤ گے“ یا ”فیل کر دوں گا“ کو اپنے والدین کے ساتھ فوراً شیئر کریں۔ اور سب سے اہم بات، اگر خدانخواستہ کوئی ان کا استحصال کرے اور وہ یہ کہے کہ ”اگر گھر میں بتایا تو جان سے مار دوں گا“ تو بچے اُس لمحے خاموش رہیں، لیکن جیسے ہی موقع ملے اپنے والدین کو اعتماد میں لیں۔

یہی اعتماد اصل میں سب سے بڑی ڈھال ہے۔ اگر بچے والدین کے سامنے خود کو محفوظ محسوس کریں گے تو وہ ہر بات بلا جھجک بتائیں گے۔ لیکن اگر والدین خود فاصلے پیدا کریں، بچے کی بات کو نظرانداز کریں، اسے شرمندہ کریں یا اس پر غصہ کریں تو وہ بچہ کسی سانحے کے بعد بھی خاموش ہی رہے گا، اور مجرم کی طاقت بڑھتی جائے گی۔

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ خطرہ صرف اجنبیوں سے نہیں ہوتا، بلکہ قریبی جان پہچان والے لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ گھر کے ملازمین، رشتہ دار، یا وہ لوگ جنہیں ہم ”اپنا“ سمجھتے ہیں، اکثر معصوم بچوں پر بری نظر رکھتے ہیں۔ ایسے میں والدین کو صرف محبت کافی نہیں، چوکسی بھی لازم ہے۔

آج کے دور میں صرف جسمانی حملہ ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل استحصال بھی بڑھ چکا ہے۔ بچے یوٹیوب، گیمز، انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر مجرموں کے نشانے پر آ سکتے ہیں۔ والدین کو نہ صرف بچوں کے آن لائن معمولات پر نظر رکھنی چاہیے بلکہ ان کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا چاہیے کہ بچہ کسی بھی عجیب پیغام یا ویڈیو کو فوراً شیئر کرے، بغیر کسی خوف کے۔

یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ دیہی علاقوں میں یہ خطرہ کئی گنا زیادہ ہے۔ وہاں شرم، غیرت، اور سادگی کی چادروں میں اکثر ایسے واقعات دبا دیے جاتے ہیں۔ دیہات کی بچیاں اکثر دکانوں، مدرسوں یا کسی خالہ، پھوپھی کے گھر تنہا جاتی ہیں جہاں ان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا والدین کو ایسے معاشرتی رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، اور بیٹیوں کو بھی اتنی خوداعتمادی دینی چاہیے کہ وہ ہر لمحے اپنی حفاظت کو مقدم رکھیں۔

آخری بات یہ ہے کہ بچوں کو خاموش رہنے کی نہیں، بولنے کی تربیت دیں۔ انہیں یہ یقین دلائیں کہ اگر ان کے ساتھ کوئی ظلم ہوا تو وہ قصوروار نہیں، بلکہ قصوروار وہ ہے جو ظلم کرتا ہے۔ انہیں یہ اعتماد دیں کہ ان کے والدین ہر حال میں ان کے ساتھ ہوں گے۔

اگر آج ہم نے بچوں کی تربیت صرف نصابی کتب اور رٹے تک محدود رکھی، تو کل ہمیں ایسی خبریں پڑھنی پڑیں گی جو شاید صرف خبروں تک محدود نہ ہوں بلکہ ہمارے اپنے گھروں کی داستان ہوں۔ اور پھر ہم صرف پچھتا سکیں گے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آپ کیسی جاب چاہتے ہیں؟
  • لداخ کی گونجتی آواز
  • ختم کرنے اگر ہیں غم دیوانی
  • ساتھ لاکھوں چلیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کرنل حبیب ظاہر کا غیاب
پچھلی پوسٹ
تعلیمی نظام کہاں جا رہا ہے؟

متعلقہ پوسٹس

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا امتحان

اپریل 8, 2026

خدا کے سامنے ہمیشہ منکسر رہیں!

نومبر 26, 2025

پاکستان کا مضبوط مؤقف

مئی 26, 2026

میرے دیکھے سے کوئی بھی ہو سنبھل پڑتا ہے

اگست 23, 2020

سکردو میں پونم

جون 15, 2025

میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

مئی 12, 2020

ایہام گوئی کی تحریک

اپریل 3, 2026

کچھ ایسی کوزہ گری آگئی اُداسی میں

نومبر 2, 2025

فرزانہ رانی اور ہرنیلہ کی گپ شپ

مئی 9, 2020

مرے ہم نفس مرے ہم زباں مرے مہرباں

اپریل 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دل میں کتنے شور لے کر

مارچ 23, 2025

ہے ترے عشق کے

جولائی 6, 2025

فیض اور میں

دسمبر 29, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں