خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ ابنِ انشاءفیض اور میں
ابنِ انشاءاردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

فیض اور میں

ابن انشا کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019 1 تبصرہ 369 مناظر
370

فیض اور میں
بڑے لوگوں کے دوستوں اور ہم جلیسوں میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اس دوستی اور ہم جلیسی کا اشتہار دے کر خود بھی ناموری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسرے وہ عجز و فروتنی کے پتلے جو شہرت سے بھاگتے ہیں۔ کم از کم اپنے ممدوح کی زندگی میں۔ ہاں اس کے بعد رسالوں کے ایڈیٹروں کے پر زور اصرار پر انہیں اپنے تعلقات کو الم نشرح کرنا پڑے تو دوسری بات ہے۔

ڈاکٹر لکیر الدین فقیر کو لیجئے۔ جیسے اور پروفیسر ہوتے ہیں ویسے ہی یہ تھے۔ لوگ فقط اتنا جانتے تھے کہ علامہ اقبال کے ہاں اٹھتے بیٹھتے تھے۔ سو یہ بھی خصوصیت کی کوئی بات نہیں۔ یہ انکشاف علامہ کے انتقال کے بعد ہوا کہ جب کوئی فلسفے کا دقیق مسئلہ ان کی سمجھ میں نہ آتا تو انہی سے رجوع کرتے تھے۔ ڈاکٹر لکیر الدین فقیر نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک روز آدھی رات کو میں چونک کر اٹھا اور کھڑکی میں سے جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ علامہ مرحوم کا خادم خاص علی بخش ہے۔ میں نے پوچھا، ’’خیریت؟ جواب ملا ’’علامہ صاحب نے یاد فرمایا ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’اس وقت؟‘‘ بولا ’’جی ہاں اس وقت اور تاکید کی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو لے کر آنا۔‘‘ میں حاضر ہوا تو اپنے لحاف میں جگہ دی اور فرمایا۔

’’آج ایک صاحب نے گفتگو میں رازی کا ذکر کیا۔ تم جانتے ہو میں تو شاعر آدمی ہوں۔ آخر کیا کیا پڑھوں؟ اس وقت یہ پوچھنے کو تکلیف دی ہے کہ یہ رازی کون صاحب تھے اور ان کا فلسفہ کیا تھا۔‘‘ میں دل ہی دل میں ہنسا کہ دیکھو اللہ والے لوگ ایسے ہوتے ہیں۔ بہرحال تعمیل ارشاد میں میں نے امام فخر الدین رازی اور ان کے مکتب فکر کا سیرحاصل احاطہ کیا اور اجازت چاہی۔ علامہ صاحب دروازے تک آئے، آبدیدہ ہوکر رخصت کیا اور کہا ’’تم نے میری مشکل آسان کردی۔ اب شہر میں اور کون رہ گیا ہے جس سے کچھ پوچھ سکوں۔‘‘

اگلی اتوار کو زمیندار کا پرچہ کھولا تو صفحہ اول پرعلامہ موصوف کی نظم تھی جس میں وہ مصرع ہے،

غریب اگرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے دقیق

ہرچند میں نے واضح کردیا تھا کہ رازی کا فلسفہ خاصا پیش پا افتادہ ہے۔ دقیق ہرگز نہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے علامہ مرحوم کو ایسا ہی لگا۔

مدرسہ علمیہ شرطیہ موچی دروازے کے پرنسپل مرزا اللہ دتہ خیال نے جو چھ ماہ میں میٹرک اور دو سال میں بی۔اے پاس کرانے کی گارنٹی لیتے ہیں، ماہ نامہ ’’تصویر بتاں‘‘ میں پہلی بار اس بات کا اعتراف کیا کہ علامہ مرحوم کو مثنوی مولانا روم کے بعض مقامات میں الجھن ہوتی تو مجھے یاد فرماتے تھے۔ ایک بار میں نے عرض کیاکہ آپ منشی فاضل کیوں نہیں کرلیتے۔ تمام علوم آپ کے لیے پانی ہوجائیں گے۔ بولے، ’’اس عمر میں اتنی محنت شاقہ نہیں کرسکتا۔‘‘ بعد میں، میں نے سوچا کہ واقعی شعرا تلامیذ الرحمن ہوتے ہیں۔ ان کو علم اور ریسرچ کے جھمیلوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ تو ہم جیسے سرپھروں کا کام ہے۔ علامہ کے ایک جگری دوست رنجور فیروز پوری کو بھی لوگ گوشہ گمنامی سے نکال لائے۔ ایک بصیرت افروز مضمون میں آپ نے لکھا۔ ’’خاکسار نے اپنے لیے شاعری کو کبھی ذریعہ عزت نہیں جانا۔ بزرگ ہمیشہ نیچہ بندی کرتے آئے تھے۔ اس میں خدا نے مجھے برکت دی۔ جو ٹوٹا پھوٹا کلام بسبیل ارتجال کہتا تھا، علامہ صاحب کی نذر کردیتا تھا۔ اب بھی دیکھتا ہوں کہ ارمغان حجاز وغیرہ کتابوں میں سیکڑوں ہی مصرعے جو اس ہیچ مداں کج مج زباں نے علامہ کے گوش گزار کیے تھے، نگینوں کی طرح چمک رہے ہیں۔

فیض صاحب کے متعلق کچھ لکھتے ہوئے مجھے تامل ہوتا ہے۔ دنیا حاسدان بد سے خالی نہیں۔ اگر کسی نے کہہ دیا کہ ہم نے تو اس شخص کو کبھی فیض صاحب کے پاس اٹھتے بیٹھتے نہیں دیکھا تو کون ان کا قلم پکڑ سکتا ہے۔ احباب پرزور اصرار نہ کرتے تو یہ بندہ بھی اپنے گوشہ گمنامی میں مست رہتا۔ پھر بعض باتیں ایسی بھی ہیں کہ لکھتے ہوئے خیال ہوتا ہے کہ آیا یہ لکھنے کی ہیں بھی یا نہیں۔ مثلاً یہی کہ فیض صاحب جس زمانے میں پاکستان ٹائمز کے ایڈیر تھے، کوئی اداریہ اس وقت تک پریس میں نہ دیتے تھے جب تک مجھے دکھا نہ لیتے۔ کئی بار عرض کیا کہ ماشاء اللہ آپ خود اچھی انگریزی لکھ لیتے ہیں لیکن وہ نہ مانتے اور اگر میں کوئی لفظ یا فقرہ بدل دیتا تو ایسے ممنون ہوتے کہ خود مجھے شرمندگی ہونے لگتی۔

پھر فیض صاحب کے تعلق سے وہ باتیں یاد آتی ہیں جب فیض ہی نہیں، بخاری، سالک، خلیفہ عبدالحکیم وغیرہ ہم سبھی ہم پیالہ و ہم نوالہ دوست راوی کے کنارے ٹہلتے رہتے اور ساتھ ہی ساتھ علم و ادب کی باتیں بھی ہوتی رہتیں۔ یہ حضرات مختلف زاویوں سے سوال کرتے اور یہ بندہ اپنی فہم کے مطابق جواب دے کر ان کو مطمئن کردیتا اور یہ بات تو نسبتاً حال کی ہے کہ ایک روز فیض صاحب نے صبح صبح مجھے آن پکڑا اور کہا، ’’ایک کام سے آیا ہوں۔ ایک تو یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یورپ میں آج کل آرٹ کے کیا رجحانات ہیں اور آرٹ پیپر کیا چیز ہوتی ہے۔ دوسرے میں واٹر کلر اور آئیل پینٹنگ کا فرق معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ ٹھمری اور دادرا کا فرق بھی چند لفظوں میں بیان کردیں تو اچھا ہے۔‘‘ میں نے چائے پیتے پیتے سب کچھ عرض کردیا۔ اٹھتے اٹھتے پوچھنے لگے۔’’ایک اور سوال ہے۔ غالب کس زمانے کا شاعر تھا اور کس زبان میں لکھتا تھا؟‘‘ وہ بھی میں نے بتایا۔ اس کے کئی ماہ بعد تک ملاقات نہ ہوئی۔ ہاں اخبار میں پڑھا کر لاہور میں آرٹ کونسل کے ڈائریکٹر ہوگئے ہیں۔ غالباً اس نوکری کے انٹرویو میں اس قسم کے سوال پوچھے جاتے ہوں گے۔

اکثر لوگوں کو تعجب ہوتا ہے کہ ’’نقش فریادی‘‘ کا رنگ کلام اور ہے اور فیض صاحب کے بعد کے مجموعوں ’’دست صبا‘‘ اور ’’زندان نامہ‘‘ کا اور اب چونکہ اس کا پس منظر راز نہیں رہا اور بعض حلقوں میں بات پھیل گئی ہے، لہٰذا اسے چھپانے کا کچھ فائدہ نہیں۔ فیض صاحب جب جیل گئے ہیں توویسے تو ان کو زیادہ تکلیف نہیں ہوئی لیکن کاغذ قلم ان کو نہیں دیتے تھے اورنہ شعر لکھنے کی اجازت تھی۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ ان کی آتش نوائی پر قدغن رہے اور لوگ انہیں بھول بھال جائیں۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں۔ تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ۔ فیض صاحب جیل سے باہر آئے تو سالم تانگہ لے کر سیدھے میرے پاس تشریف لائے اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کہنے لگے ’’اور تو سب ٹھیک ہے لیکن سوچتا ہوں، میرے ادبی مستقبل کا اب کیا ہو گا۔‘‘

میں نے مسکراتے ہوئے میز کی دراز میں سے کچھ مسودے نکالے اور کہا یہ میری طرف سے نذر ہیں۔ پڑھتے جاتے تھے اور حیران ہوتے جاتے تھے۔ فرمایا۔’’بالکل یہی جذبات میرے دل میں آتے تھے۔ لیکن ان کو قلم بند نہ کرسکتا تھا۔ آپ نے اس خوبصورتی سے نالے کو پابند نے کیا ہے کہ مجھے اپنا ہی کلام معلوم ہوتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’برادر عزیز! بنی آدم اعضائے یک دیگر اند۔ تم پر جیل میں جو گزرتی تھی۔ اسے میں یہاں بیٹھے بیٹھے محسوس کرلیتا تھا۔ ورنہ من آنم کہ من دانم۔ بہرحال اب اس کلام کو اپنا ہی سمجھو بلکہ اس میں، میں نے تخلص بھی تمہارا ہی باندھا ہے اور ہاں نام بھی میں تجویز کیے دیتا ہوں۔ آدھے کلام کو ’’دست صبا‘‘، کے نام سے شائع کرو اور آدھے کو ’’زنداں نامہ‘‘ کا نام دو۔‘‘ اس پر بھی ان کو تامل رہا۔ بولے، ’’یہ برا سا لگتا ہے کہ ایسا کلام جس پر ایک محب صادق نے اپنا خون جگر ٹپکایا ہو اپنے نام سے منسوب کردوں۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’فیض میاں دنیا میں چراغ سے چراغ جلتا آیا ہے، شیکسپیئر بھی تو کسی سے لکھوایا کرتا تھا۔ اس سے اس کی عظمت میں کیا فرق آیا؟‘‘ اس پر لاجواب ہو گئے اور رقت طاری ہو گئی۔

فیض صاحب میں ایک اور بات میں نے دیکھی۔ وہ بڑے ظرف کے آدمی ہیں۔ ایک طرف تو انہوں نے کسی پر کبھی یہ راز افشا نہ کیا کہ یہ مجموعے ان کا نتیجہ فکر نہیں۔ دوسری طرف جب لینن انعام لے کر آئے تو تمغہ اور آدھے روبل میرے سامنے ڈھیر کردیئے کہ اس کے اصل حق دار آپ ہیں۔ اس طرح کے اور بہت سے واقعات ہیں۔ بیان کرنے لگوں تو کتاب ہوجائے۔ لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا نمود و نمائش سے اس بندے کی طبیعت ہمیشہ نفور رہی ہے۔ و ما توفیقی الا باللہ۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • راضی
  • لاھوربورڈ میٹرک رزلٹ 2025
  • نیا عزم
  • طلوع ماہتاب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بھینس
پچھلی پوسٹ
خدا پرستی کا نسخہ

متعلقہ پوسٹس

شاداں

فروری 16, 2020

ژالہ باری کی رات اور پِرجا کا حلالہ

فروری 19, 2020

آخری آدمی

جنوری 22, 2020

کتے کی دعا

فروری 14, 2020

روح دیکھی ہے کبھی؟

جنوری 2, 2022

سفر نامہ بھارت – دوسری قسط

نومبر 2, 2019

ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

جولائی 12, 2023

ہر چٹھی ایک ہی پتے پر

جنوری 7, 2026

حرام جادی

جنوری 15, 2020

ادبی تخلیق اور ادبی تنقید

مئی 27, 2024

1 تبصرہ

Junaid Ali فروری 20, 2020 - 1:01 شام

بہت ہی اچھی پوسٹ ہے شیئر کرنے کے لیے شکریہ

جواب دیں

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مولانا وحید الدین خان اور اُردو...

ستمبر 20, 2025

مخفی دوربین

نومبر 20, 2025

نَفَسِ آفرینش

مئی 26, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں