خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریررزم آرائی کی غزل
اردو تحاریرتحقیق و تنقیدشہزاد نیّرؔ

رزم آرائی کی غزل

از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024
از سائیٹ ایڈمن جولائی 5, 2024 0 تبصرے 71 مناظر
72

جناب خالد مصطفی کا اوّلین شعری مجموعہ ” خواب لہلہلانے لگے” جب ۴۰۰۲؁ء میں منظرِ عام پر آیا تو سنجیدہ قاری نے اس رکھ رکھاؤ والی غزل کا خیر مقدم کیا۔ ایک خاص تہذیبی سانچے میں ڈھلی ان کی غزل رزم کے استعاروں میں نرم بات کرتی ہوئی سب کو بھلی لگی تھی۔ تبصرہ نگاروں نے یہ بات محسوس کی کہ خاکی وردی میں ملبوس یہ شاعر حرب و ضرب کی اصطلاحات میں امن و محبت کی بات کرتا ہے اور وہ بھی شائستہ، شستہ،مہذّب لہجے میں۔ یوں یہ بات کہنے کی ہے کہ مسلّح افواج سے منسلک افراد میں امن کی خواہش اگر عام افراد سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہوتی۔ جنگ کوئی بھی نہیں چاہتا۔ فوجی بھی نہیں۔ ویسے بھی جنگ کی ہولناکی اور خوں آشامی کے ساتھ پہلی اور بنیادی مڈبھیڑ سپاہیوں ہی کی ہوتی ہے۔ بلا جواز جنگ کی خواہش ہمہ دم جنگ کے لیے تیار رہنے والوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عقب میں کھڑے ہو کر چیخنے والے چند بیمار ذہنوں میں جنگ و جدل اور کُشت و خون کی مریضانہ خواہش زیادہ نظر آتی ہے۔ یوں اگر
خالد مصطفی کے اشعار میں صلح اور آشتی کی حقیقی آرزو نظر آتی ہے تو یہ ” نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز” کی عملی صورت ہے!
تلوار میں نے ڈال لی واپس میان میں
رستہ مذاکرات کا ہموار دیکھ کر
صلح کی صورتیں تو بہت تھیں مگر
ہم ہی نادان تھے ، مشتعل ہو گئے
صلح کی با ت خالد ؔ کرو کو ئی اب
جتنے ہونے تھے شکوے گلے ہو گئے

یہاں مجھے نوّے کی دہائی میں قائم ہونے والی ایک امن تنظیم یاد آرہی ہے جس کا نام تھا SIP
(Soldier’s Initiative for Peace)۔یہ دونوں پڑوسی ممالک کی مسلّح افواج کے سبک دوش ہوچکے اعلیٰ افسران کی جانب سے امن قائم کرنے کی ایک کوشش تھی۔ اب بھی صورت حال وہی ہے۔ امن کی ضرورت خطّے کے تمام انسانوں کو ہے لیکن یہ سچ بولنا بھی بعض
اوقات مشکل لگتا ہے۔
اگر جھوٹ لکھیں تو فن میں خیانت
اگر سچ کہیں تو مسائل بہت ہیں
میں تو اپنی شکست پر چپ ہوں
ہاں! وضاحت سماج مانگتا ہے

آہن کی جھنکار سے غزل کی بحر کشید کرنا جنونِ سخن کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ حرف کی دیوی سے مکالمہ، لمبے کھردرے حُکمی الفاظ (کاشن!) کے سائے سائے ہوتا ہے۔ رات دن حملہ، دفاع اور شکست و فتح سے مکالمہ ہو تو غزل کے دن رات بھی سالار، جنگ اور قیدی سے ترتیب پانے لگتے ہیں۔ ایسے میں عروسِ غزل سپاہیانہ ملبوس میں سخنِ دلنواز دان کرتی ہے۔ شاکر کنڈان نے ” اردو ادب اور عساکر پاکستان” کے سلسلے کی چار جلدیں شائع کر کے اس اہم اور مختلف طرزِ احساس اور ادبی اظہار کو دستاویز کیا ہے۔ یہ دفاع ِ وطن کے جذبے سے سرشار حرف و سخن کے اُن خادموں کا طرزِ احساس ہے جو امن کی کو ملتا اور عسکریت کی سخت جانی کے بین بین چلتا ہے۔ یہاں شاکر کنڈان
کے دو اشعار پیش ہیں جو اس صورتحال پر عمدگی سے روشنی ڈالتے ہیں۔
تذکرہ عشق کا ، بات اخلاص کی
ہم نے نوکِ سناں سے بھی اکثر لکھی
جنگ میں خون کے رنگ پیارے لگے
وقت پر بات انسانیت کی کہی (شاکرکنڈان)
خالد مصطفی کی غزل رزم میں بزم آرائی کی عمدہ مثال ہے۔ رَن میں بھاگتے دوڑتے استعاروں اور حرب و ضرب کی علامات سے ایسے ایسے اشعار ہوئے ہیں کہ غزل کے موضوعاتی کینوس میں وسعت آئی ہے۔ یوں بہت سے شعرا نے بھی غزل میں شکست و فتح،تیر
و کمان، لشکر و سپاہ باندھے ہیں لیکن حقیقی مشاہداتی سخن اورتخیلی،تصوّراتی گفتارکا فرق نظر آجاتا ہے۔
صف بندی کر رہے ہو بغیر انتباہ کے
آداب بھی تو ہوتے ہیں کچھ رز م گاہ کے
نہیں تھی میرے گھر کی چار دیواری بڑی مدّت
سو گذرے اس سے یونانی و تاتاری بڑی مدّت
یاروں کی بروقت کمک سے کیا حاصل
ڈھیر اگر اپنے لشکر ہو جائیں تو !

جدید تر غزل کا حالیہ منظر نامہ متنوّع اظہار سے عبارت ہے۔ حُسن کی اتنی صورتیں ہیں کہ رُو بہ رُو اورسُو بہ سُو سجی ہیں۔ ایک طرف دشت و قیس کے استعارے ہیں تو دوسری طرف عکس و آئینہ، چراغ وہوا اور خواب و تعبیرکے پیرائے میں عصری بات کہی جارہی ہے۔ خالدؔ مصطفی نے دل کی بات کا اظہار خاص عسکری لفظیات میں کیا۔ ذرا دیکھئے کہ بات کس خوبی سے ادا ہوئی ہے۔
اب کے تمہاری زد میں کوئی اور شخص ہے
ہم بھی کبھی ہدف تھے تمہاری نگاہ کے
سالارِ حُسن نے مجھے قیدی بنا لیا
پھر یوں ہوا کہ جنگ کا پانسہ پلٹ گیا
بے دخل کروں دل سے اُسے کیسے بھلا میں
دشمن بھی گھر آئے تو نکالا نہیں جاتا
معاملات محبت کو ہدف، جنگ اور دشمن کی لفظیات میں ادا کرنا خالدؔ مصطفی کی غزل کا اہم اور قابلِ توجہ پہلو ہے۔ ان کا فن غزل کے ابلاغی وترسیلی سلسلے سے منسلک ہے۔ یہاں بقدرِ ضرورت اشاریت اور رمزیت تو میسّر ہے لیکن پیچ در پیچ ابہام نہیں۔ معنوی اعتبار سے بات مکمل واضح اور مربوط کہنے کی روش انہیں مرغوب ہے۔ وہ غزل کے طلسم سے آگاہ بھی ہیں اور اس طلسم کو بروئے کار بھی لاتے ہیں۔ ایک
خاص چمک اور لپک اُن کے کئی اشعار سے یکلخت بر آمد ہو کر خوش ذوق قاری پر یک بہ یک ” حملہ” کر دیتی ہے۔
یوں تو ہم لوگ بلانے پہ بھی کم بولتے ہیں
پر جہاں کوئی نہیں بولتا ، ہم بولتے ہیں
ہم نے حیات پیٹھ پہ رکھ کر گذار دی
ممنونِ لطف ہم نہیں عالم پناہ کے
باہر ہوا مدار سے ، مرکز سے ہٹ گیا
اُس سے الگ ہوا تو میں خود سے بھی کٹ گیا
کسی بھی دور سے اپنا پتا نہیں ملتا
ہمیں تو سارے زمانے ترے زمانے لگے
اُس کی بات نمایاں جیسے نون نظر کے نقطے
میں خاموش ہو ں خالد ؔ ایسے جیسے خواب کا واؤ
خالد مصطفی نے بعض پُر اثر نظمیں کہی ہیں۔ نظم میں بھی انہوں نے،غزل کے شعر کی طرح،وحدتِ تاثر اور خیال کی اکائی کا خیال
رکھا ہے۔ ان کی یہ مختصر نظم دیکھیں جو ایک زمانے میں ” فنون” میں شائع ہو کر مقبول ہوئی تھی۔
ہم تو دریا کے دو کنارے ہیں
زندگی بھر جو ساتھ ساتھ چلیں
پھر بھی آپس میں مل نہیں سکتے
میں نے اتنا کہا فقط اُس سے
بات میر ی ابھی ادھوری تھی
اُس کی آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے
حال ہی میں انہوں نے شہدائے گیاری کی برف برف یاد میں ایک پر اثر نظم تخلیق کی ہے۔ ” برف میں دبے فوجی کا ماں سے مکالمہ”۔ یہ نظم ماہنامہ ” بیاض” کے اندرون سر ورق پر چپھی تو اہلِ درد کے دل چھید گئی۔ ایسی نظموں کے باوجود مجموعی طور پر خالدؔ مصطفی کی نظم کو وہاں پہنچنے میں کچھ دیر ہے جہاں جدید نظم پہنچ چکی ہے۔ ان کی بہت سی نظمیں اس عمومی معیار سے نیچے ہیں جہاں سے اوپر نئی نظم بات کرتی ہے۔اگر نظم پر ان کی توجہ بھرپور رہی تویقینا ان سے اُسی معیار کی نظمیں ہوں گی جوآج کی جدید نظم نے قائم کر رکھا ہے۔
غزل میں اُن کا حصّہ قابلِ ذکر بھی ہے اور قابلِ قدر بھی۔ اُن کی تازہ غزلیں اپنے تیور اور لہجے میں بہتر سے بہتر ہوتی
جارہی ہیں۔ اُن کا سفر جاری ہے اور اُن کا اب تک کا کام ان کے آنے والے کام کا اشاریہ مرتب کر رہا ہے۔

شہزاد نیّر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • زکوٰۃ
  • مریدپور کا پیر
  • جدید اُردو مرثیہ
  • سکرین سے باہر کی دُنیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
"چار چاند "اور نیلم احمد بشیر
پچھلی پوسٹ
ساحر لدھیانوی ۔ ایک نیا مطالعہ

متعلقہ پوسٹس

بَلوا

جنوری 21, 2020

اسکرین کے پیچھے چھپا ہوا انسان

اپریل 17, 2026

مشین گردی

نومبر 28, 2020

جذبات کے اظہار

اپریل 1, 2023

اک مدت تک کوشش

مارچ 29, 2026

چھوکری کی لوٹ

اپریل 5, 2020

اخلاق, اقدار اور معاش!

فروری 27, 2021

ججز استعفیٰ کیوں دے رہے ہیں ؟

نومبر 26, 2025

پاوں بھاجی

مئی 21, 2020

ہم عظیم ، تم حقیر

نومبر 5, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاسپورٹ

مئی 20, 2020

اجنبی آنکھیں

اپریل 25, 2019

 بھائی​

نومبر 12, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں