خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااخلاق, اقدار اور معاش!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

اخلاق, اقدار اور معاش!

از سائیٹ ایڈمن فروری 27, 2021
از سائیٹ ایڈمن فروری 27, 2021 0 تبصرے 45 مناظر
46

اخلاق‘ اقدار اور معاش!

علم الاخلاق(Ethics) انسانی زندگی کے وہ اہم اصول‘ ضا بطے ہیں جنہیں ہم اخلاقی عمل سے منسوب کر تے ہیں۔ پس علم الاخلاق انسانوں کے با ہمی روابط یا سما جی تعلقا ت کی نسبت سے وہ رویہ یا کردار ہے جسے آپ سماجی طور پر منا سب یا غیر منا سب تصور کر سکتے ہیں۔ علم معا شیات کا مبدا ء علم الا خلا ق ہے۔
تخلیق انسان ما دیت و رحا نیت کا حسین امتزاج ہے جہاں جسم و روح دو قوتوں کی شکل میں سا تھ ساتھ چلتے ہیں۔ جہاں دنیاوی ضرورتیں انسانی جسم کو متوازن رکھتی ہیں وہیں اخلا ق و حصائل اس کی روحا نی ترقی یا تنز لی کا باعث بنتی ہیں۔ یہ ترقی یا تنز لی کا سفر اس کے معا ملات میں نما یاں طو ر پر اثر انداز ہو تا ہے۔ روح کی بیما ریاں جسم کی بیما ریوں سے الگ ہو تی ہیں۔ معا شیا ت کے مادی پہلوں کو گا ہے بگا ہے اجا گر کیا جاتاہے۔آج ہم آپ کو ایسی اخلاقی بیما ری سے متعارف کرواتے ہیں جو آگے چل کرمعا شی انہتات کا با عث بنتی ہے۔ حرص طمع یا لا لچ وہ اخلا قی بیما ری ہے جو بہت سے معا شی اور معاشرتی مسا ئل کا مو جب بنتی ہے۔ غرض لالچ کا اصل مفہوم یہ ہے کہ کسی چیز میں حد درجہ دلچسپی کی وجہ سے نفس کا اس کی جا نب رغبت اختیار کر نا طمع یعنی لالچ کہلاتا ہے۔ پس لالچ ایک ایسا رویہ ہے جس میں فرد زیادہ سے زیادہ کی خواہش میں خود کو دوسروں سے پیچھے چھو ڑتا چلا جا تا ہے۔یہ روح کی قوت ِ شہویہ کا خاصا ہے جس کی متضا د میا نہ روی کی صفت مو جود ہے۔ لا لچ چاہے پیسے کی ہو یا مرتبے کی ہر دو طر ح سے تبا ہی کا با عث بنتی ہے‘ یہ وہ روحانی بیما ری ہے جس کو دوسروں میں ڈھونڈنا آسان اور خود میں تلاش کر نا مشکل ہے۔ انفرا دی سطح پر لا لچ ایک معا شر ی برا ئی ہے مگر اگر اسے اجتما عی سطح پر دیکھا جا ئے تو یہ لو گوں کے درمیان تعاون کو ختم کر نے اور روابط کے منقطع ہو نے کا با عث بنتی ہے جس سے افراد اور ادارہ جات کی پیداوار پر منفی اثرات مر تب ہوتے ہیں اور یہ اثر مجمو عی طور پر پو ری معیشت تک جا پہنچتا ہے۔
Greed creates unsustainable growth or growth at the expense of social justice.
ہم لا لچ کے جال میں پھنسے کے بجا ئے ایک اطمینان بخش زندگی جی سکتے ہیں اگر ہم میا نہ روی کو اپنا شعار بنا ئیں اور علم الا خلاق کی مدد سے اپنے مادی مسائل کا حل تلا ش کریں۔ہماری ایک تہذیب ہے۔ جس میں پوری زندگی گزارنے کا فلسفہ ہے۔ غریب سے کیسے پیش آنا‘امیر کے ساتھ کیا سلوک‘ آج ہم اندھی تقلید میں قبروں میں قہقے مار کر ہنسنے لگے‘ اولاد کی ہم عصر وں کو باجی ‘بیٹے کی عمر سے دادا کی عمر تک سب انکل بنا بیٹھے‘ ہم آج کھانا ‘پینا ‘کھیلنا ‘عمدہ لباس‘ کوٹھی ‘سٹیٹس ‘ناپیدار اور کھوکھلی اشیاء جن سے انسان خود اکتا جاتا ہے ان کے پیچھے بھاگ رہے۔ آج ہمیں رحمت العالمین ﷺ سے لے کر صحابہ کرام ؓ اسلاف کے کار ہا ئے نمایاں تو درکنار ‘ہمیں سب کے نام کنیت ‘لقب تک یاد نہیں۔ آج ہمیں دولت‘ محل بنانے ‘اروں میں سفر‘ دیگر طیبات ِ حیات سے متمتع ہونے کے باوجود اضطراب و بے چینی سے کیوں دوچار ہیں؟اسلامی تعلمیات کے علاوہ یہ حقیقت غیروں نے بھی تسلیم کی کہ دولت ٗ شہرت ٗ غریبوں سے نفرت ‘غرور آپ کو کبھی چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ڈاکٹر الیگزینڈر کانن کہتاہے ”نیک راہوں پر چلنے سے ہم ایک ایسے افق پہ جا پہنچتے ہیں جہاں اللہ سے شرف ِ کلام حاصل ہوتا ہے ٗ کتنے عظیم ہیں وہ اسرار جن کا علم ہمیں علیم و خبیر رب کے آفاقی دماغ سے تعلق قایم کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے“ دراصل یہ وہ نا قابل ِ تردید حقائق ہیں جنہیں آج ہم سادگی کا نام دے کر نظر انداز کر رہے ہیں وہی حقیقاً دل کا سکون ہیں۔ معاشرے میں یتیم بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا ‘علم کے متلاشی کی مالی امداد کر دینا ٗ غم زادہ کا غم بانٹ لینا ٗ غربیوں سے میل جول ‘یہ وہ اثاثہ ہیں جو جسم میں عروق و اعصاب کا حیرت انگیزجال ‘کاروان ِ بہار کو سیل رنگ ِ و بو بسا دیتے ہیں وہ لوگ قابل ِ دید ہیں جو ان بے سہاروں کی خاطر سب کچھ قربان کر تے ہوئے کائنات کی سب سے بڑی لذت کو حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں مکمل ضابظہ ِ حیات موجود ہے۔ ہماری اخلاقی تہذیب ہے ہر ایک کی اپنی حیثیت ہے۔ ہمارا اخلاق ہمارا سرمایہ ہے۔ انسان پھول کی مانند ہے کئی سے محبت ٗ رحم گداز ٗ انسانیت جیسی خوشبو جنم لیتی ہے جس سے سارا معاشرہ مہک اٹھتا ہے۔ اور کئی کے کردار سے حقارت ٗ نفاق کی وہ گھن آتی ہے کہ معاشرہ ٹوٹ جاتا ہے۔ انسان ایک قوم ہونے کے باوجود منقسم ہو جاتے ہیں۔
ایک قول ہے کہ ”Those who live by hate die by hate & those who live by sword die by sword.“نفرت کبھی نفرت سے ختم نہیں ہو سکتی‘ آج ہم گمنام منزل کے مسافر ہیں۔آج ہم مصائب و الم میں گر گے وہی سب ہم نے اپنا لیا جس کے باعث تباہی کو دعوت خود دی جاتی ہے فرمایا ”کیا بدکار وں کا یہ خیال ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے؟ ان کا یہ خیال نہایت خام اور غلط ہے۔ہماری مائیں بہینں ‘ بیٹیاں جو ہماری عفت و حیا ء کی پہچان ‘وہی آج مغرب سے بھی بدترین لباس ‘بوائے‘ گرل فرنیڈ ‘ہر ایک کو انکل‘ تہذیب کے زوال ‘غیر معیاری گفت و شنید‘ بازار کی رونق بن گی۔ ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ دنیا مکافات ِ عمل ہے کئی اعمال کی بدولت حادثات ‘بیماری‘ مالی نقصان ‘تجاری خسارے اور متعدد آلام میں گر چکے ہیں۔ بے حیائی ‘فحاشی ‘عریانی ‘تہذیب و اخلاق کی پستی نے ہمیں تباہی کے دہانے لا کھڑا کر دیا۔ ہمارا معاشرہ تو کجا ء ہمارے اداروں میں بھی درس ِ اخلاق کا فقدان ہوتا جا رہا‘ سیمنار‘ روشن خیالی کے نام پر خود اپنی ہی تباہی کا سامان کیا جانے لگا ‘علم ‘دنیاوی جا ہ و جلا ل کے ہوتے بھی ہمارا قلب ویران ہے۔ دراصل جس جگہ سکون ہے وہ ہم منزل ہی بھول چکے۔ منزل تک پہنچنے کے لیے ہی تو دماغ میں فکر کا دِیا ٗ دل میں وجدان کی ہمہ بین آنکھ لگائی ٗ جسم میں عروق و اعصاب کا حیرت انگیز جال بچھایا ٗ کاروان ِ بہار کو رنگ و بو دیا۔ساتھ ہی فرمایا ”جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور احکام ِ خداوندی کو مانتے ہیں ٗ جو شرک کے عیب سے پاک ہیں ٗ جو اللہ کی راہ میں حسب ِ استطاعت صرف کرتے ہیں اور جن کے دل اس خیال سے لرزاں رہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے پاس جانا ہے۔ ہماری کسی بھی شے میں خلوص‘ انسانی کا احترام ‘رشتوں کا تقدس ‘پہچان ہی حرف غلط کی طرح مٹ گی۔ دوسرے سے دور ہو چکے کیا انسانیت کی تذلیل ہے کہ وہی کمزور افراد جنہیں تقریبات میں ساتھ تو لایا جاتا ہے مگر وہ کھڑے رہتے ہیں اور ہم وی آئی پی بن کر ان کے سامنے کھانا کھاتے ہیں۔
اسلام کے زریں اصولوں پر غیروں نے عمل کیا ترقی کی منازل کے عروج تک جا پہنچے اور ہم اخلاق کے بدترین گھاٹی کے مسافر بن گے۔ ایک مغربی حکیم کا قول: نفرت نفرت سے نہیں ختم ہو سکتی ‘اس پر محبت سے غلبہ حاصل کرو ‘دُنیا کو محبت کرنا سکھاؤاور جنت اپنی تمام تر رنگینوں ‘رعنائیوں کے ساتھ یہیں نمودار ہو جائے گی۔ ترک ِ محبت موت ہے۔ جدید تعلیم کی محنت لا حاصل ہے ایسی تعلیم ہی کیا جو کم از کم انسانیت‘ تہذیب ‘آداب ِ زندگی کے طور طریقے ہی نہ بتا سکے۔ہماری بے حیائی ‘روشن خیالی ہمیں لے نہ ڈوبے۔ جدید تعلیم یاقتہ افراد جو کہ اپنی ہی اخلاقی تہذیب ‘معاشرتی اقدار‘ حجاب کو ضعف العقیدہ لوگوں کی تخلیق سمجھتے ہیں۔ ہم کامیابی کا راستہ چھوڑ کر کامیابی کے متلاشی ‘ایسے ہی ہے جیسے مردہ گھوڑے پر چابک برسانا۔یہ کامیابی نہیں بلکہ انسانیت ڈوب رہی ہے۔ہمیں اپنے اسلاف کے نقش ِ قدم پر چلنا ہوگا۔ہماری جملہ معاشی نظام سودی ہو چکا ‘جو ترقی نہیں‘ تنزلی کا باعث ہے۔

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چنگ و رباب لے لیے تلوار کے عوض
  • رات کی مسافر
  • لازم ہے وہ ہر بات کو ترتیب سے رکھے
  • رہائی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حافظ محمد نفیس
پچھلی پوسٹ
حوا کی بیٹی

متعلقہ پوسٹس

شب زفاف جب داغدار ہو جائے (حصہ دوئم )

نومبر 29, 2019

ڈاکٹر وحید احمد کا نظم نامہ

جون 2, 2020

ایک تو دھوپ نہیں اس پہ یہ سہرا بھی نہیں

اپریل 4, 2020

جینا مرنا تمھیں سے سیکھا ہے

نومبر 2, 2021

تجھے یہ وہم کہ چہرے کو کب سمجھتا ہوں

جنوری 28, 2020

وقار در جامۂ سپید

جون 1, 2025

وہ رات جاچکی، وہ ستارہ بھی جا چکا

جون 12, 2020

علامہ اقبال کی ایک رباعی

مارچ 29, 2025

سیاہ جھیل سی آنکھیں

جولائی 31, 2022

پرند گھر پہ بلاتا ہوں

مئی 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ادھورے پن کی رفتہ رفتہ

اکتوبر 7, 2025

مجھے بچہ نہیں چاہیے

مئی 28, 2024

دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا...

جولائی 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں