خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریراظہر عباس – شعری دشت کا تنہا مسافر
اردو تحاریراظہر عباس خانتحقیق و تنقیدڈاکٹر دانش عزیزمقالات و مضامین

اظہر عباس – شعری دشت کا تنہا مسافر

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2025 0 تبصرے 64 مناظر
65

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم

"اظہر عباس خان شعری دشت کا تنہا مسافر”

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے نعتی اشعار میں مدینہ منوّرہ کی خوشبو، حضورِ اکرم ﷺ سے عقیدت اور روحانی سرشاری کا ایک گہرا اور مؤثر جذبہ نمایاں ہے۔ شاعر نے نعت کے دائرے میں ایک ایسا وجدانی تجربہ پیش کیا ہے جو محض عقیدت نہیں بلکہ عرفانی شعور کی جھلک ہے:

پِھر آئی نَکیرَین کو خُوشبُوئے مَدِینہ
اُترا جو لَحد میں دِلِ یَکسُوئے مَدِینہ

یہ شعر قبر اور مدینہ کے بیچ ایک ماورائی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں ایمان کی وہ لطافت بولتی ہے جو مومن کے دل سے نکل کر عالمِ برزخ تک پھیل جاتی ہے۔ شاعر کا اندازِ بیان متانت اور تخیّل دونوں سے آراستہ ہے۔ اسی نعت میں وہ عقیدت کے انتہائی درجے کو یوں بیان کرتے ہیں:

بِن مانگے عَطا، دُنیا بھی جَنّت بھی خُدا بھی
کافِی ہے مُجھے اِک یَہی خُوئے مَدِینہ

یہاں شاعر کا عرفانی شعور واضح ہے۔ نعت اب صرف مدح نہیں بلکہ محبت اور فنا کا تجربہ بن جاتی ہے، جہاں مدینہ کا ذکر خود قربِ الٰہی کا مترادف ہے۔

اظہر عباس کی فکری جہت کا دوسرا رخ ان کے سلامیہ کلام میں نظر آتا ہے، جہاں کربلا کی ریت، حُرؓ کی توبہ، اصغرؓ کی شہادت اور زینبؓؓ کا صبر ایک ساتھ بولتے ہیں۔ شاعر کے الفاظ خواب اور حقیقت کی درمیانی لکیر مٹا دیتے ہیں:

خُود کو کَربَل میں دیکھا تھا پَہُنچا ہُوَا،
حُر نے مُجھ سے کہا: مَرحَبَا مَرحَبَا

تِیر لَگنے کو تھا، آنکھ ہی کھُل گئی،
خَواب کی تُو مِرے واٹ ہی لَگ گئی

یہ شعر وجدانی کیفیت کا مظہر ہے، جہاں عاشورہ کا منظر شاعر کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی سلام میں ایک فکری طنز اور روحانی سوال بھی جھلکتا ہے:

قَتلِ اَصغَرؓ پہ کوئی نَدامَت نہیں
پَر نَمازوں میں پَڑھتے ہیں صَلِّ عَلَیٰ

یہاں اظہر عباس امتِ مسلمہ کے تضاد پر نگاہ ڈالتا ہے۔ عقیدت اور غفلت کے اس امتزاج کو وہ علامتی انداز میں عیاں کرتا ہے۔
اظہر عباس خان کی غزل گوئی ان کے فنی شعور کی سب سے پختہ مثال ہے۔ ان کی غزلوں میں تغزّل، محاوراتی صفائی، صوتی آہنگ اور معنوی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان کے اشعار عشق، عقل اور عرفان کے بیچ ایک لطیف توازن قائم کرتے ہیں:

کسی کے آنے کے کامِل یَقِیں پہ چلتا ہے
یہ دِل ابھی بھی مُحَبَّت کے دِیں پہ چلتا ہے

یہاں ’’یقین‘‘ اور ’’محبت‘‘ کے مابین تعلق کا بیانیہ صوفیانہ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اسی غزل میں شاعر عقل و خرد کے تکبّر کو یوں چیلنج کرتا ہے:

مَجال ہے جو کبھی آئے اَہلِ دِل کی طرف
خِرَد کا زور ہمیشہ ذِہیں پہ چلتا ہے

یہ شعر ایک فکری مزاحمت ہے جو جدید انسان کے روحانی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔ غزل کا لہجہ سنجیدہ، مگر بیان سادہ اور پراثر ہے۔
اظہر عباس کی زبان میں ایک خاص شستگی اور مٹھاس ہے۔ وہ نہ غیرضروری لفاظی میں الجھتے ہیں نہ سطحی سادگی میں پناہ لیتے ہیں۔ ان کے مصرعے فصاحت اور بلاغت کے حسین امتزاج ہیں۔ روزمرہ کے لفظ بھی ان کے ہاں علامت بن جاتے ہیں۔

اظہر عباس کے عرفانی شعور کا نقطۂ عروج ان کی مشہور غزل ’’دیارِ عشق سے آئی نداءِ کن فیکون‘‘ میں نظر آتا ہے، جہاں تخلیقِ کائنات کو عشق کی قوت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

دِیارِ عِشق سے آئی نِداءِ کُن فَیَکُون
سو خُود کو پیش کیا ہے بَرائے کُن فَیَکُون

یہاں شاعر اپنے آپ کو تخلیقی نظام کا جزو سمجھتا ہے۔ اس غزل میں فلسفیانہ عمق کے ساتھ وجدانی کیفیت بھی موجود ہے۔ وہ ایک اور مقام پر کہتا ہے:

جہان کچھ بھی نہیں ہے سِوائے کُن فَیَکُون

اور پھر ایک فلسفیانہ سوال اٹھاتا ہے:

مُجھے بَتا مِرے عادِل کہ مَیں تو تھا ہی نہیں
تو پِھر مَیں کس لیے بَھگتوں سَزائے کُن فَیَکُون؟

یہ اشعار وجود، تقدیر اور خودی کے پیچیدہ رشتے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ سوالات نہ صرف فکری ہیں بلکہ ایک روحانی جستجو کا حصہ بھی ہیں۔

اظہر عباس خان کے یہاں کلاسیکی روایت کی جڑیں گہری ہیں۔ ان کے ہاں میر و غالب کی دردمندی، اقبال کی خودی، اور جگر مرادآبادی کی نرمی کے اثرات نظر آتے ہیں، مگر وہ تقلید نہیں کرتے۔ وہ روایت سے روشنی لے کر اپنی تخلیقی راہ تراشتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مصرعے آج کے قاری کے احساس سے ہم آہنگ معلوم ہوتے ہیں:

کہاں گُلاب، کہاں پر مِرے گُلال کے رُخ

یہ مصرعہ صرف رنگ کی بات نہیں کرتا بلکہ تخلیق اور تجربے کی حد بندیوں کو توڑ دیتا ہے۔ ان کی زبان میں زمان و مکان کی قید نہیں، بلکہ جذبے کی روانی ہے۔

شاعر کے مزاج میں متانت، تفکّر اور روحانی وقار نمایاں ہے۔ ان کے ہاں جذبے کی شدت کے باوجود اظہار کا ضبط قائم رہتا ہے۔ عشق کے تجربے کو وہ عقل کے تابع نہیں کرتے بلکہ دونوں کے درمیان ایک فنی توازن پیدا کرتے ہیں۔ جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں:

لِٹا کے اَپنی اَناؤں کو پائمال کے رُخ
جَبینِ وَصل گھُمائی تِرے خَیال کے رُخ

یہاں ’’اناؤں‘‘ کا ذکر محض نفسیاتی علامت نہیں بلکہ عرفانی صداقت کا استعارہ ہے۔ شاعر فنا اور بقا کے اس تصادم کو داخلی سکون میں بدل دیتا ہے۔

اظہر عباس خان کی شاعری روایت اور جدیدیت کے سنگم پر کھڑی ہے۔ ان کے کلام میں عقیدت بھی ہے، احتجاج بھی؛ وجد بھی ہے، شعور بھی۔ مدینہ سے کربلا تک، عشق سے عقل تک، یقین سے سوال تک — یہ سارا سفر ان کی شاعری میں نہایت نفاست سے طے ہوتا ہے۔ وہ اُن شعرا میں سے ہیں جو لفظ کے پردے میں جذبے کی حرارت، خیال کے بطن میں ایمان کی روشنی، اور شعر کے آہنگ میں دل کی دھڑکن چھپا دیتے ہیں۔
ان کے اشعار صرف پڑھے نہیں جاتے، محسوس کیے جاتے ہیں۔
ان میں سوز بھی ہے، سکون بھی؛سچائی بھی ہے، لطافت بھی۔
اظہر عباس خان کی شاعری اردو ادب کے اس تسلسل کی تازہ قندیل ہے جو میر سے غالب، غالب سے اقبال، اور اقبال سے آج تک دلوں کے آبگینوں میں سلسلہ در سلسلہ روشن چلی آرہی ہے

ڈاکٹر دانش عزیز

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اک مصرعے نے چوم لیا درد ہمارا
  • قومی یکجہتی اور اردو زبان
  • بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم
  • اہل بیت اطہارسے محبت وعقیدت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عدو کی صف میں وہ کس
پچھلی پوسٹ
تنہائی

متعلقہ پوسٹس

خونی تھوک

نومبر 22, 2019

بیوہ کا راز

مئی 20, 2020

قاسم

جنوری 19, 2020

انسان کے باطن کو جگانے والا مہینہ

فروری 21, 2026

شیشہ گھاٹ

جون 15, 2020

تاریکی

اکتوبر 14, 2025

عشق، محنت اور خواب

جنوری 1, 2025

مولانا دستار نیازی

مئی 10, 2020

ماسی گُل بانو

نومبر 2, 2019

کرفیو کا ایک سال

اگست 11, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جب سامنے والا کباڑیا ہو

دسمبر 16, 2025

جنّتی جوڑا

دسمبر 30, 2019

بروٹس سے میر جعفر تک

اکتوبر 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں