خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریراظہر عباس – شعری دشت کا تنہا مسافر
اردو تحاریراظہر عباس خانتحقیق و تنقیدڈاکٹر دانش عزیزمقالات و مضامین

اظہر عباس – شعری دشت کا تنہا مسافر

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 16, 2025 0 تبصرے 84 مناظر
85

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم

"اظہر عباس خان شعری دشت کا تنہا مسافر”

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے نعتی اشعار میں مدینہ منوّرہ کی خوشبو، حضورِ اکرم ﷺ سے عقیدت اور روحانی سرشاری کا ایک گہرا اور مؤثر جذبہ نمایاں ہے۔ شاعر نے نعت کے دائرے میں ایک ایسا وجدانی تجربہ پیش کیا ہے جو محض عقیدت نہیں بلکہ عرفانی شعور کی جھلک ہے:

پِھر آئی نَکیرَین کو خُوشبُوئے مَدِینہ
اُترا جو لَحد میں دِلِ یَکسُوئے مَدِینہ

یہ شعر قبر اور مدینہ کے بیچ ایک ماورائی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں ایمان کی وہ لطافت بولتی ہے جو مومن کے دل سے نکل کر عالمِ برزخ تک پھیل جاتی ہے۔ شاعر کا اندازِ بیان متانت اور تخیّل دونوں سے آراستہ ہے۔ اسی نعت میں وہ عقیدت کے انتہائی درجے کو یوں بیان کرتے ہیں:

بِن مانگے عَطا، دُنیا بھی جَنّت بھی خُدا بھی
کافِی ہے مُجھے اِک یَہی خُوئے مَدِینہ

یہاں شاعر کا عرفانی شعور واضح ہے۔ نعت اب صرف مدح نہیں بلکہ محبت اور فنا کا تجربہ بن جاتی ہے، جہاں مدینہ کا ذکر خود قربِ الٰہی کا مترادف ہے۔

اظہر عباس کی فکری جہت کا دوسرا رخ ان کے سلامیہ کلام میں نظر آتا ہے، جہاں کربلا کی ریت، حُرؓ کی توبہ، اصغرؓ کی شہادت اور زینبؓؓ کا صبر ایک ساتھ بولتے ہیں۔ شاعر کے الفاظ خواب اور حقیقت کی درمیانی لکیر مٹا دیتے ہیں:

خُود کو کَربَل میں دیکھا تھا پَہُنچا ہُوَا،
حُر نے مُجھ سے کہا: مَرحَبَا مَرحَبَا

تِیر لَگنے کو تھا، آنکھ ہی کھُل گئی،
خَواب کی تُو مِرے واٹ ہی لَگ گئی

یہ شعر وجدانی کیفیت کا مظہر ہے، جہاں عاشورہ کا منظر شاعر کے لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی سلام میں ایک فکری طنز اور روحانی سوال بھی جھلکتا ہے:

قَتلِ اَصغَرؓ پہ کوئی نَدامَت نہیں
پَر نَمازوں میں پَڑھتے ہیں صَلِّ عَلَیٰ

یہاں اظہر عباس امتِ مسلمہ کے تضاد پر نگاہ ڈالتا ہے۔ عقیدت اور غفلت کے اس امتزاج کو وہ علامتی انداز میں عیاں کرتا ہے۔
اظہر عباس خان کی غزل گوئی ان کے فنی شعور کی سب سے پختہ مثال ہے۔ ان کی غزلوں میں تغزّل، محاوراتی صفائی، صوتی آہنگ اور معنوی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان کے اشعار عشق، عقل اور عرفان کے بیچ ایک لطیف توازن قائم کرتے ہیں:

کسی کے آنے کے کامِل یَقِیں پہ چلتا ہے
یہ دِل ابھی بھی مُحَبَّت کے دِیں پہ چلتا ہے

یہاں ’’یقین‘‘ اور ’’محبت‘‘ کے مابین تعلق کا بیانیہ صوفیانہ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اسی غزل میں شاعر عقل و خرد کے تکبّر کو یوں چیلنج کرتا ہے:

مَجال ہے جو کبھی آئے اَہلِ دِل کی طرف
خِرَد کا زور ہمیشہ ذِہیں پہ چلتا ہے

یہ شعر ایک فکری مزاحمت ہے جو جدید انسان کے روحانی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔ غزل کا لہجہ سنجیدہ، مگر بیان سادہ اور پراثر ہے۔
اظہر عباس کی زبان میں ایک خاص شستگی اور مٹھاس ہے۔ وہ نہ غیرضروری لفاظی میں الجھتے ہیں نہ سطحی سادگی میں پناہ لیتے ہیں۔ ان کے مصرعے فصاحت اور بلاغت کے حسین امتزاج ہیں۔ روزمرہ کے لفظ بھی ان کے ہاں علامت بن جاتے ہیں۔

اظہر عباس کے عرفانی شعور کا نقطۂ عروج ان کی مشہور غزل ’’دیارِ عشق سے آئی نداءِ کن فیکون‘‘ میں نظر آتا ہے، جہاں تخلیقِ کائنات کو عشق کی قوت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

دِیارِ عِشق سے آئی نِداءِ کُن فَیَکُون
سو خُود کو پیش کیا ہے بَرائے کُن فَیَکُون

یہاں شاعر اپنے آپ کو تخلیقی نظام کا جزو سمجھتا ہے۔ اس غزل میں فلسفیانہ عمق کے ساتھ وجدانی کیفیت بھی موجود ہے۔ وہ ایک اور مقام پر کہتا ہے:

جہان کچھ بھی نہیں ہے سِوائے کُن فَیَکُون

اور پھر ایک فلسفیانہ سوال اٹھاتا ہے:

مُجھے بَتا مِرے عادِل کہ مَیں تو تھا ہی نہیں
تو پِھر مَیں کس لیے بَھگتوں سَزائے کُن فَیَکُون؟

یہ اشعار وجود، تقدیر اور خودی کے پیچیدہ رشتے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ سوالات نہ صرف فکری ہیں بلکہ ایک روحانی جستجو کا حصہ بھی ہیں۔

اظہر عباس خان کے یہاں کلاسیکی روایت کی جڑیں گہری ہیں۔ ان کے ہاں میر و غالب کی دردمندی، اقبال کی خودی، اور جگر مرادآبادی کی نرمی کے اثرات نظر آتے ہیں، مگر وہ تقلید نہیں کرتے۔ وہ روایت سے روشنی لے کر اپنی تخلیقی راہ تراشتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مصرعے آج کے قاری کے احساس سے ہم آہنگ معلوم ہوتے ہیں:

کہاں گُلاب، کہاں پر مِرے گُلال کے رُخ

یہ مصرعہ صرف رنگ کی بات نہیں کرتا بلکہ تخلیق اور تجربے کی حد بندیوں کو توڑ دیتا ہے۔ ان کی زبان میں زمان و مکان کی قید نہیں، بلکہ جذبے کی روانی ہے۔

شاعر کے مزاج میں متانت، تفکّر اور روحانی وقار نمایاں ہے۔ ان کے ہاں جذبے کی شدت کے باوجود اظہار کا ضبط قائم رہتا ہے۔ عشق کے تجربے کو وہ عقل کے تابع نہیں کرتے بلکہ دونوں کے درمیان ایک فنی توازن پیدا کرتے ہیں۔ جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں:

لِٹا کے اَپنی اَناؤں کو پائمال کے رُخ
جَبینِ وَصل گھُمائی تِرے خَیال کے رُخ

یہاں ’’اناؤں‘‘ کا ذکر محض نفسیاتی علامت نہیں بلکہ عرفانی صداقت کا استعارہ ہے۔ شاعر فنا اور بقا کے اس تصادم کو داخلی سکون میں بدل دیتا ہے۔

اظہر عباس خان کی شاعری روایت اور جدیدیت کے سنگم پر کھڑی ہے۔ ان کے کلام میں عقیدت بھی ہے، احتجاج بھی؛ وجد بھی ہے، شعور بھی۔ مدینہ سے کربلا تک، عشق سے عقل تک، یقین سے سوال تک — یہ سارا سفر ان کی شاعری میں نہایت نفاست سے طے ہوتا ہے۔ وہ اُن شعرا میں سے ہیں جو لفظ کے پردے میں جذبے کی حرارت، خیال کے بطن میں ایمان کی روشنی، اور شعر کے آہنگ میں دل کی دھڑکن چھپا دیتے ہیں۔
ان کے اشعار صرف پڑھے نہیں جاتے، محسوس کیے جاتے ہیں۔
ان میں سوز بھی ہے، سکون بھی؛سچائی بھی ہے، لطافت بھی۔
اظہر عباس خان کی شاعری اردو ادب کے اس تسلسل کی تازہ قندیل ہے جو میر سے غالب، غالب سے اقبال، اور اقبال سے آج تک دلوں کے آبگینوں میں سلسلہ در سلسلہ روشن چلی آرہی ہے

ڈاکٹر دانش عزیز

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پَب جی گیم- خطرناک معاشرتی بگاڑ!
  • سچائی کے پردے
  • سوچتی ہوئی بے باک شاعری
  • چھ چور قسم کی عادات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عدو کی صف میں وہ کس
پچھلی پوسٹ
تنہائی

متعلقہ پوسٹس

استعمار کی گرفت

جنوری 28, 2026

اللّٰہ کبھی کسی کو بھوکا نہیں سلاتا

جنوری 24, 2026

ذائقے کی لطیف حقیقت

دسمبر 25, 2024

ختم نبوتؐ پر کوئی سمجھوتہ ۔ نا ممکن

مئی 3, 2020

23 مارچ : قراردادِ پاکستان سے آج تک کا سفر

مارچ 23, 2026

سمے کا بندھن

جنوری 11, 2020

بلونت سنگھ مجیٹھیا

جنوری 28, 2020

ایکسپورٹ امپورٹ

جنوری 3, 2020

سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھا

جنوری 3, 2020

جدید ٹیکنالوجی

مارچ 18, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کوکھ جلی

مارچ 29, 2020

سر سید احمد خان کی خدمات

ستمبر 3, 2025

بلوچستان: واپسی کا سفر شروع

اکتوبر 24, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں