خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامانسان کے باطن کو جگانے والا مہینہ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہیوسف صدیقی

انسان کے باطن کو جگانے والا مہینہ

از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 21, 2026 0 تبصرے 54 مناظر
55

رمضان المبارک سال کے بارہ مہینوں میں محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی موسم ہے جو انسان کے ظاہر سے زیادہ اس کے باطن کو مخاطب کرتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب روزمرہ کی مصروفیات کے شور میں دب جانے والی اندرونی آواز دوبارہ سنائی دینے لگتی ہے۔ بھوک اور پیاس کا ظاہری تجربہ دراصل انسان کو اس کے اپنے وجود کے قریب لے آتا ہے۔ روزہ ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی، اپنے رویوں اور اپنی ترجیحات کا ازسر نو جائزہ لیں۔ گویا رمضان ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل صورت دیکھ سکتا ہے۔

اگر گہرائی سے سوچا جائے تو رمضان ایک ہمہ جہت تربیتی نظام کی حیثیت رکھتا ہے۔ سحری کے لیے بروقت بیدار ہونا، پورا دن ضبط اور تحمل کے ساتھ گزارنا، زبان اور نگاہ کی حفاظت کرنا، اور عبادات کی پابندی اختیار کرنا ایک مکمل تربیتی عمل ہے۔ یہ تربیت محض وقتی نہیں بلکہ اس کا مقصد انسان کی شخصیت میں ایسی پختگی پیدا کرنا ہے جو رمضان کے بعد بھی برقرار رہے۔ صبر، نظم و ضبط اور برداشت جیسی صفات اسی مسلسل مشق سے پروان چڑھتی ہیں۔ یوں رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کردار کی تعمیر کسی ایک عمل سے نہیں بلکہ مستقل کوشش سے ہوتی ہے۔

بھوک کا تجربہ اس مہینے کا ایک مرکزی پہلو ہے، مگر اس کا مفہوم صرف جسمانی نہیں۔ یہ احساس انسان کو نعمتوں کی اصل قدر سے روشناس کراتا ہے۔ جب پانی کا ایک گھونٹ بھی قیمتی محسوس ہونے لگے تو دل میں شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی شکر انسان کو عاجزی کی طرف لے جاتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی سہولتیں اس کا حق نہیں بلکہ عطا ہیں۔ یہ شعور انسان کے اندر نرم دلی اور دوسروں کے لیے احساس پیدا کرتا ہے، جو ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔

رمضان کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ اس کی برکتوں سے متاثر ہوتا ہے۔ مساجد کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں، گھروں میں عبادت اور ذکر کا ماحول قائم ہوتا ہے، اور باہمی تعاون کا جذبہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ افطار کے دسترخوان صرف کھانے کی ترتیب نہیں بلکہ باہمی محبت اور سخاوت کی علامت بن جاتے ہیں۔ اس مہینے میں لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، شکوے شکایات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور خیر خواہی کو فروغ ملتا ہے۔ گویا رمضان معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔

رمضان ہمیں خاموش تبدیلی کا درس بھی دیتا ہے۔ اس مہینے کی اصل روح دکھاوے سے دور رہ کر اپنے باطن کی اصلاح میں پوشیدہ ہے۔ جب انسان تنہائی میں اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے، اپنی کوتاہیوںaftari کو پہچانتا ہے اور بہتری کا عزم کرتا ہے تو ایک حقیقی انقلاب جنم لیتا ہے۔ یہ انقلاب شور و غوغا کے بغیر انسان کے اندر برپا ہوتا ہے مگر اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ اسی خاموش اصلاح کے ذریعے کردار میں وہ پختگی پیدا ہوتی ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں جھلکتی ہے۔

وقت کی قدر کا احساس بھی رمضان کی ایک اہم عطا ہے۔ سحری سے افطار تک کا ہر لمحہ معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ انسان اپنے معمولات کو منظم کرتا ہے، عبادت کے لیے وقت نکالتا ہے اور اپنی ترجیحات کو ازسر نو ترتیب دیتا ہے۔ یہ شعور اگر رمضان کے بعد بھی برقرار رہے تو زندگی میں ایک مثبت نظم پیدا ہو سکتا ہے۔ درحقیقت وقت کا احترام ہی کامیاب زندگی کی بنیاد ہے، اور رمضان ہمیں عملی طور پر یہ سبق سکھاتا ہے۔

یہ مہینہ روحانی صفائی کا موسم بھی ہے۔ جس طرح بارش زمین کی گرد کو دھو دیتی ہے، اسی طرح عبادت، دعا اور تلاوت انسان کے دل کو تازگی عطا کرتی ہے۔ کینہ، حسد اور بے چینی جیسی کیفیات کمزور پڑنے لگتی ہیں اور ان کی جگہ سکون اور امید لے لیتی ہے۔ مشکلات میں گھرے افراد کے لیے رمضان امید کا پیغام بن کر آتا ہے۔ دعا کے لیے اٹھنے والے ہاتھ انسان کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ رحمت کے دروازے بند نہیں ہوتے۔ یہی یقین اسے نئے حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔

تاہم رمضان کا سب سے اہم پہلو اس کے بعد کا مرحلہ ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے ایک مہینہ کیسے گزارا بلکہ یہ ہے کہ اس مہینے نے ہمیں کتنا بدلا۔ اگر صبر، شکر، نظم اور نرم دلی جیسی صفات ہماری زندگی کا مستقل حصہ بن جائیں تو یہی رمضان کی حقیقی کامیابی ہے۔ بصورت دیگر یہ مہینہ ایک خوبصورت یاد تو بن جاتا ہے مگر اس کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔

رمضان ہر سال آتا ہے اور ہمیں ایک نیا موقع دیتا ہے۔ یہ موقع خود کو پہچاننے، اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے اور بہتر انسان بننے کا ہے۔ جو شخص اس مہینے کے پیغام کو سمجھ لیتا ہے، اس کے لیے رمضان محض عبادات کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ زندگی کو سنوارنے کا ایک مکمل نصاب بن جاتا ہے۔ آخرکار یہی وہ مہینہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی ظاہری مصروفیات میں نہیں بلکہ باطن کی اصلاح میں پوشیدہ ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فقیروں کی پہاڑی
  • قدرت سے قیمت تک
  • بنام سید بدر الدین احمد المعروف بہ فقیر صاحب
  • بیٹی، ماں اور نانی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یہ خود غرض ہے یہ کم نسب
پچھلی پوسٹ
ہم کہیں کے نہ رہے!

متعلقہ پوسٹس

اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ

مارچ 18, 2026

ملحد، سیکولر اور قادیانی اتحاد

اکتوبر 18, 2019

رحمتِ دو جہاں اے حبیبِؐ خدا

دسمبر 20, 2019

پریشر ککر، دھواں اور خواب

دسمبر 17, 2019

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

پچاس چھ لفظی کہانیاں

دسمبر 23, 2021

عیدکادن

جنوری 14, 2021

‪فوتگی کا مینیو

دسمبر 18, 2025

اعتماد کا فن

دسمبر 22, 2024

گاڈ سیو دا کنگ

مارچ 24, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وہ پودے جن کی خوشبو سےمچھر...

مئی 26, 2023

آشیانہ

جنوری 22, 2020

قادرا قصائی

جنوری 19, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں