خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرملحد، سیکولر اور قادیانی اتحاد
اردو تحاریراردو کالمزاوریا مقبول جان

ملحد، سیکولر اور قادیانی اتحاد

اوریا مقبول جان کا کالم

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2019
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 18, 2019 0 تبصرے 514 مناظر
515

نیویارک میں اس سال 23مارچ کو یومِ پاکستان کی تقریب میں شرکت کے لیے جب میں لاہور ایئرپورٹ پر اپنی پرواز پر سوار ہونے کے لیے پہنچا تو ایک عرب ملک کی سرکاری ایئر لائن کے افراد نے مجھے لائن میں لگنے سے روک دیا اور کہا کہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے احکامات آئے ہیں کہ آپ امریکہ کے لیے کسی پرواز سے بھی روانہ نہیں ہو سکتے۔

میں نے سوال کیا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکہ کا حکم کیسے چل سکتا ہے۔ میرے پاس جائز سفری دستاویزات ہیں۔ پاسپورٹ ہے، امریکی ویزہ ہے، امریکہ یہ حکم اس وقت جاری کرے جب میں اس کی سرزمین پر قدم رکھوں، مجھے وہاں سے واپس بھیجے، لیکن سرزمین پاکستان پر اس کا حکم کیسے چلتا ہے لیکن مجھے سوار نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ کوئی رات ایک بجے کا وقت تھا، اس کے ٹھیک دو گھنٹے بعد قادیانیوں کے سرکاری اخبار ’’ربوہ ٹائمز‘‘ نے اسے ایک فاتحانہ انداز سے اپنی ویب سائٹ پر پوری تفصیل سے لگایا اور ساتھ وہ تاریخ بھی بیان کر دی کہ کب سے مجھے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی کے لیے مہم چلائی جا رہی تھی۔ انہوں نے گزشتہ سال دس مئی 2017ء کو مشہور زمانہ حسین حقانی کی بیوی اور ممبر پارلیمنٹ کا امریکی ایمبیسی کو متوجہ کر کے لکھے گئے اس ٹوئیٹ کو بھی خبر میں لگایا۔ Dear US embi Islamabad: Who issued Oraya Maqbool Jan a Visa? Jan Critical of Ahmadiya Jamat, Feminism, atheism, Secularism etc. محترم امریکی ایمبیسی اسلام آباد:کس نے اوریا مقبول جان کو امریکہ کا ویزا دیا ہے؟ جان احمدیہ جماعت،حقوق نسواں، الحاد اور سیکولر ازم کا سخت مخالف ہے۔ اس کے ساتھ ہی خبر میں کہا گیا کہ یہ ویزا اوبامہ کے زمانے میں دیا گیا تھا اور ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کی اوریا مقبول جان پر پابندی ظاہر کرتی ہے کہ وہ پاکستان جیسے "High Risk”(خطرناک) ملک کے ساتھ سختی سے پیش آ رہی ہے۔ آج ٹھیک سات ماہ بعد جب میں حضرت داتا گنج بخش کے عرس کے سلسلے میں 27اکتوبر 2018ء کو منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کے سلسلے میں جانے والا تھا تو ناروے کی اخباروں میں ایک طوفان کھڑا کیا گیا کہ میں وہاں نفرت پھیلانے آ رہا ہوں۔ اس ساری تحریک کی سرخیل ہیگی سٹورہاگ "Hege Storhaug”نامی ایک خاتون ہے جو 2015ء میں منظر عام پر آنے والی اپنی متعصبانہ کتاب "Islam, den 11, Landeplage”(اسلام دھرتی کا گیارہواں طاعون) ہے۔ اس معاشرے میں یہ غلیظ کتاب سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں سے ایک ہے او راس کے کے کئی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ یہ نوے کی دہائی میں دو سال پاکستان میں بھی رہی ہے اور اس نے پاکستان کے بارے میں ایک سفرنامہ بھی تحریر کیا ہے۔ اس نے ناروے میں جبری شادی اور ختنوں کے خلاف ڈاکومنٹریاں بنائیں اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس کے خلاف غم و غصہ کا عالم یہ تھا کہ 2007ء میں جب وہ گھر سے نکل رہی تھی تو اسے نامعلوم افراد نے زدوکوب کیا اور بے ہوش کر کے چھوڑ دیا۔

میری ناروے آمد سے پانچ روز قبل 22اکتوبر کو اس کے اخبار "Reselt”میں میرے خلاف دو مضامین شائع کیے، جن کا عنوان تھا ’’پاکستانی شدت پسند، ناروے میں مہمانِ خصوصی‘‘ مضامین کا آغاز یوں ہوتا ہے۔ ’’سیکولر آلائنس کو اتوار کو خبر ملی کہ 27اکتوبر کو پاکستانی شدت پسند اوریا مقبول جان کو زہرہ منظور سوسائٹی نے مدعو کیا ہے۔ یہ وہی اوریا مقبول جان ہے جو احمدیوں کو قتل کرنے کی بات کرتا ہے۔ اس کی یہودیوں سے دشمنی بھی چھپی ہوئی نہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ مارچ میں اس کی امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس کے بعد اخبار نے میرے ایک پروگرام ’’حرف راز‘‘ کے ایک حصے کو بددیانتی سے کاٹ چھانٹ کر وہ گفتگو لگائی جس میں مدیان نبوت کے خلاف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکرؓ کے عمل کا میں حوالہ دے رہا تھا۔ لیکن بعد کے حصے کو ہذف کر دیا گیا جس میں ان کے بحیثیت اقلیت حقوق کے بارے میں گفتگو کی گئی تھی۔

میرے خلاف اخبار میں شروع کی گئی اس مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس ہال میں یہ کانفرنس ہو رہی تھی انہوں نے بکنگ کینسل کر دی اور پوسٹر بازی کی مہم شروع کر دی گئی۔ اب یہ کانفرنس ایک مسجد میں ہو رہی ہے لیکن میں اپنے میزبان کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ اس لیے میں نے وہاں جانا منسوخ کر دیا ہے۔ البتہ اس اخبار میں غلط، بے بنیاد اور توڑ موڑ کر رپورٹ کے ضمن میں مقدمہ درج کروانے کی تیاری میں ہوں۔ ناروے اور امریکہ کا یہ کنکشن جس کی تار قادیانیوں کے ساتھ بندھی ہے۔ میرے خلاف اسی طرح کے بہت سے افسانے تراش کر مغربی میڈیا کو بیچنے میں مصروف ہے۔ ایک مضحکہ خیز کہانی 20ستمبر 2016ء کو امریکی پریس میں پھیلائی گئی۔ یہ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم کا حصہ تھا۔ کہانی کا عنوان تھا: Taliban Activist who met with clintan in Pakistan Promotes Hatered for Jews. ’’طالبان کے لیے سرگرم عمل شخص کی پاکستان میں کلنٹن سے ملاقات، وہ شخص جو یہودیوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرتا ہے‘‘۔ اس دور کی کوڑی اور سازشی تھیوری گھڑنے کے عمل کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ 2009ء کی بات ہے جب میں ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی لاہور تھا تو ہیلری کلنٹن پاکستان آئی جسے میں نے کوئی ایک گھنٹہ تک بادشاہی مسجد اور ملحقہ جگہوں کا سرکاری طور پر دورہ کروایا۔ سات سال بعد مضمون نگار نے ایک کہانی گھڑی کہ دراصل ہیلری کلنٹن اور اوریا مقبول جان کی یہ ملاقات اخوان المسلمون کی خاتون ہما عابدین نے کروائی۔ اس کے ساتھ مجھے کوئٹہ کا ظاہر کر کے یہ کہا گیا کہ نیوجرسی اور نیویارک میں بم دھماکے کرنے والے میرے پڑوس میں تیار ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مجھے خواتین دشمن، مغربی لائف سٹائل کا ناقد، مرضی سے جنسی تعلقات کا مخالف، ملالہ یوسف زئی سے نفرت کرنے والا اور خصوصی طور پر احمدیوں کا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔

یہاں ناروے کنکشن کا اظہار ہوتا ہے۔ مئی 2016ء میں ناروے کی ایک جامع مسجد میں میرے خطبۂ جمعہ کا موضوع یاجوج اور ماجوج کے ساتھ یہودیوں سے آخری جنگ یعنی ملحمتہ الکبریٰ تھا۔ اس 45منٹ کے پورے خطبے کو انگریزی میں ترجمہ کر کے اس مضمون کا حصہ بنایا گیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ میں مسلمانوں کو یہودیوں کے خلاف لڑنے پر اکساتا ہوں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ میرے خلاف اتنی زیادہ محنت، عرض ریزی کیوں۔ کیا میں واقعی ایک خطرناک انسان ہوں جو ہر سیکولر، ملحد اور قادیانی کی نیندیں اڑا سکتا ہے۔ ایسا تو ہرگز نہیں۔

ایک کمزور، ناتواں شخص جس کے ہاتھ میں اللہ نے قلم تھمایا ہے اور شاید زبان میں تاثیر دی ہے۔ یہ سب لوگ مجھ سے نہیں اللہ کی ان دونوں نعمتوں سے خائف ہیں۔ میں اللہ سے نعمتوں کے زوال سے پناہ مانگتا ہوں۔

بشکریہ

roznama 92

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حج اکبر
  • قدرت کا نازک رقاص
  • راز داں
  • بائی کے ماتم دار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دل کی بات لبوں پر لا کر
پچھلی پوسٹ
موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں

متعلقہ پوسٹس

EPA کا مضحکہ خیز حکم نامہ

اکتوبر 2, 2025

بنام مولوی منشی حبیب اللہ خاں المتخلص بہ ذکاؔ

دسمبر 8, 2019

اللہ نے پھر اک اور شب دی

فروری 14, 2025

شوگر ڈیڈی اور ٹرافی وائف

ستمبر 7, 2021

زندگی سانس کے بغیر ممکن نہیں

جولائی 31, 2022

روپا

فروری 14, 2022

جالِ عنکبوت

دسمبر 22, 2024

بدترین جانوروں کا مسکن

دسمبر 13, 2019

ملاوٹ

جنوری 16, 2020

تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن

جنوری 15, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زندگی اک کھلی کتاب ھے

دسمبر 26, 2025

گل بانو اور فائزہ کی دوستی

اپریل 1, 2023

تصنیف وتالیف کی اہمیت

نومبر 15, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں