خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےسانجھ
اردو افسانےاردو تحاریرشوکت صدیقی

سانجھ

ایک اردو افسانہ از شوکت صدیقی

از سائیٹ ایڈمن جنوری 5, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 5, 2020 0 تبصرے 577 مناظر
578

لالہ جی کو یہ بات کھل گئی کہ بڑھیا(لالائن) نے بال کٹوا دئیے۔ اور ان سے پوچھا بھی نہیں۔

پچھلے مہینے ان کی بہو مائیکے گئی تھی تو اپنی ساس کو ساتھ لے گئی تھی، دلی۔ کہ ٹرین میں گود کے بچے کو سنبھالنے میں آسانی رہے گی۔

لالہ جی سے خود مایا دیوی نے پوچھا تھا ’’بہوکہہ رہی ہے دلی چلنے کے لیے ، جاؤں؟‘‘

’’ہاں ہاں ضرور جاؤ۔ ٹرین کے دھکم دھکے میں بیچاری بہو کیسے سنبھالے گی بچے کو؟‘‘

ان کی بہو ’’منی‘‘ کے پتا ریٹائرڈ کرنل ہیں۔ منی کے دو بھائی بھی ملٹری میں بڑے عہدوں پرہیں۔ کرنل صاحب کا پارٹیوں میں آنا جانا آج بھی اسی طرح جاری ہے ۔ ظاہر ہے، انکی پتنی انہی کے اسٹائل میں رہتی ہیں۔ ماڈران ہیں، سٹائلش ہیں۔ انہوں نے بال کٹوا رکھے ہیں۔ اس بار مایا دیوی کے بھی کٹوا دئیے۔

دو ہفتے بعد، بمبئی واپس لوٹیں تو لالہ جی دیکھ کر دنگ رہ گئے ’’یہ بالوں کا کیا کیا تم نے؟‘‘

’’سمدھن نے کٹوا دئیے۔ اپنی طرح بنوا دئیے‘‘۔ یہ کہہ کر مایا ہنسیں ضرور، لیکن ایک سایہ جو گزرا، اس کے پتی کی آنکھ سے، وہ اس سے ڈر گئیں۔ اپنے شوہر کی نظر وہ پہنچانتی تھیں۔ اڑتالیس برس کا ریاض تھا۔ کھسیانی سی بولیں۔ ’’پھر رکھ لوں گی۔ بڑھ جائیں گے‘‘۔

لالہ جی چپ چاپ اندر چلے گئے اور بیٹھک میں جا کر بیٹھ گئے۔

رات کھانے کی میز پر بھی ان کا موڈ بجھا بجھا ہی رہا۔ منوج نے پوچھا۔ منی نے بھی بس سرہلا دیا۔ ’’کچھ نہیں‘‘۔

مایا دیوی نے جب پوچھا۔ ۔۔ ’’طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ تو جواب کچھ اور ہی دیا۔ ’’تمہارے بال تو بہت اچھے تھے۔ خوبصورت تھے۔ کٹوا کیوں دئیے؟‘‘ کوئی جواب نہ ملا تو بولے۔ ’’اور تم نے۔۔۔ مجھ سے پوچھا بھی نہیں‘‘۔

منوج ہنستا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔ ’’بابوجی کو ابھی تک ماں کے بالوں کی فکر لگی ہے۔ ستر بہتر کے ہوگئے لیکن مزاج سے عشق نہیں گیا ابھی‘‘۔

منی، بڑی کوکنگھی کررہی تھی ہنس کے پوچھا۔ ’’بابوجی کی کیا لو میرج ہوئی تھی؟‘‘

’’نہیں۔ ماں کی شادی تو میرے سامنے ہوئی۔ ان کے ماں باپ نے کروائی تھی‘‘۔

’’مطلب؟۔۔۔۔‘‘

’’دونوں نے گھر سے بھاگ کے کورٹ میں شادی کرلی تھی۔ چار پانچ سال بعد میں پیدا ہوا۔ میری پیدائش کے بعد دونوں کے ماں باپ نے معاف کر دیا اور صلح ہوگئی۔۔۔۔ ماں مجھے لے کر پیرینٹس (والدین) کوملنے گئی تو انہوں نے بابو جی کو گھر سے نکال دیا یہ کہہ کے ، کہ بچو، جاؤ، اب برات لے کر آؤ، تب لڑکی دیں گے، تب دوبارہ شادی ہوئی ان کی۔ مجھے یاد تو نہیں لیکن ۔۔ پتہ ہے۔تصویر بھی ہے۔

لالہ ہیم راج کو کھانے کے بعد سیر کی پرانی عادت تھی۔ کچھ دیر ٹہلنے کے لیے باہر چلے جاتے تھے۔ نکڑ سے ایک پان بنواتے، اپنی طرح کا ۔عمر کے ساتھ سپاری ضرور کم ہوگئی تھی۔ لیکن اس روز وہ پنواڑی کی دوکان سے پہلے ہی لوٹ آئے۔ اتنی سی بات پتہ نہیں کیوں، بھنورو کی طرح ان کی سوچ میں اٹک گئی تھی۔۔۔ سانجھ ہی تو ہے۔اسے حق کہہ لو۔ ادھیکار کہہ لو یا۔۔ ۔ کوئی مناسب لفظ ملا نہیں ۔ ایسے لگ رہا تھا انکی کوئی بڑی قیمتی چیز چورہی ہوگئی ہے۔

جب منوج پیدا ہوا تھا تو پہلے پہل ان کے ادھیکار پر سینہہ لگی تھی۔ مذاقاً بیوی سے کہا ’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے بھئی ہم ،خود ہی کپڑے نکال لیں گے۔ تم دیکھو اپنے بیٹے کو۔ آتے ہی ہمارا بستر الگ کروا دیا اس چھٹنکی بھر کے لونڈے نے !‘‘

’’چھٹنکی بھر مت کہو۔ آٹھ پاؤنڈ کا بیٹا دیا ہے آپ کو‘‘۔

’’لیکن یہ تو بتا دو کہ پہنوں کیا؟ ہلٹن صاحب کے ہاں جانا ہے‘‘۔

’’نکٹائی تو ہرگز مت لگانا۔ بڑی اوت لگتی ہے آپ کے گلے میں۔ اسکارف لگا کے چلے جاؤ‘‘۔

پھر پنکی پیداہوئی تو کچھ اور کٹاؤ ہوا انکے ادھیکاروں کا۔ کھانا نوکرانی کے ہاتھ کا ملنے لگا۔ لیکن دال کا بگھار، مایا خود لگاتی تھیں۔ کوئی اور لگائے تو انہیں فوراً پتہ چل جاتا تھا۔ مایا دیوی کو بڑا فخر تھااس بات پر۔ ایک بار دال میں سے، لمبا سا بال نکل آیا۔ لالہ جی نے کوکرانی کو نکال دیا۔ مایا سے بولے ’’تمہارا بال ہوتا تو میں بٹوے میں رکھ لیتا۔ لیکن میں اس نوکرانی کے بال برداشت نہیں کرسکتا۔ اسے کہو، کام کرنا ہے تو سر منڈوا کے آئے‘‘۔

’’آئے ہائے، سہاگن بیچاری۔ وہ کیوں سر منڈوادے؟ کوئی ودھوا ہے؟‘‘

’’تو پھر کوئی نوکر رکھ لو‘‘۔

تب سے نوکر ہی رہا گھر میں۔۔۔ اب آکے چولہا چوکا بہونے سنبھالا تو ایک دن اسے بھی کہہ دیا ’’کھانا بناتے ہوئے بال کھلے مت رکھا کرو بیٹی، آنکھ پر آتے ہیں‘‘۔

منی نے کس کے جوڑا بنا لیا۔ لیکن بات مایا کی نظر سے بچ نہ سکی۔ وہ جان گئی تھی کہ آج تک نوکرانی والی بات وہ بھولے نہیں۔ دو چار روز تو بات ہنسی مذاق میں ٹلتی رہی۔ ماں دل ہی دل میں اترا بھی رہی تھیں کہ لالہ جی اس بڑھاپے میں بھی اپنا عشق جتا رہے ہیں۔ روٹھے سے رہتے ہیں لیکن کچھ روز اور گزرے تو سب نے دیکھا کہ باپوجی نے ماں سے بات کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ مایا بھی کچھ بے حال ہونے لگیں۔ بڑھاپے کی روٹھائی، انہیں جوانی سے بھی زیادہ جان لیوا لگنے لگی۔ کھانے کی میز پر سب ملتے، اور لالہ جی چپ چاپ کھانا کھا کر اٹھتے اور سیر کو نکل جاتے۔ سیر بھی کوئی چھوٹی ہونے لگی تھی۔مایا نے پوچھا تو جواب دیا ’’اب جلدی تھک جاتا ہوں‘‘۔

ایک بے دلی سی رہنے لگی گھر میں۔ ساتھ ہی ایک دبا دبا سا تناؤ بھی شروع ہوگیا۔ کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے منوج نے کہا ’’بابو جی، آپ چشمے کا فریم بدل لیجئے۔ آج کل بڑے نئے نئے ڈیزائن ملتے ہیں۔۔۔‘‘

’’یہ ڈیزائن تمہاری ماں کا پاس کیا ہوا ہے بھئی‘‘۔

’’ماں کا؟‘‘ منی نے حیرت سے پوچھا۔

’’ہاں انہیں گول فریم اچھا نہیں لگتا تھا۔ہم نے چورس لے لیا۔ پھرکالے فریم پراعتراض ہوا انہیں ، تو ہم نے براؤن لے لیا‘‘۔

ایک روز کھانے پر بیٹھے تو چونک کر دیکھا مایا کی طرف، ’’آج بگھار تم نے لگایا ہے؟‘‘

مایا کو جی بھرآیا۔ بہو نے پوچھا۔۔۔ ’’آپ کو کیسے معلوم ہوا؟‘‘

’’ارے بیٹی، تمہاری ساس کے بگھار میں ہمیں ان کے ہاتھوں کی خوشبو آجاتی ہے‘‘۔

لیکن ان کی خاموشی برقرار رہی۔ جب دبی دبی سنوائی کا بھی اثر نہ ہوا تو منی نے ایک دن صاف صاف معافی مانگ لی ’’مجھ سے غلطی ہو گئی بابو۔ میں اپنی ممی کو منع نہیں کر سکی۔ اور ممی بھی تو مان ہی گئیں!‘‘ وہ دونوں کو ممی کہتی تھی۔ اپنی ماں کو بھی ، ساس کو بھی۔

منوج نے مناتے ہوئے کہا ’’کوئی بات نہیں بابوجی۔ بال ہیں پھر بڑھ جائیں گے‘‘۔

ایک دبی سی مسکراہٹ کے ساتھ بابو جی بولے ’’باتیں بڑی معمولی ہیں بیٹا۔ نہ ہونے سے کوئی دنیا ادھر کی ادھر نہیں ہوجاتی۔ لیکن زندہ رہنے کا رس بنا رہتا ہے۔ بس۔ ہم بوڑھے ہو گئے ہیں، ایک دوسرے سے بیگانے تونہیں ہوگئے۔۔۔‘‘

اگلے دن ہی بابوجی نے کہا ’’میں کچھ دن کے لیے پنکی کے پاس رہ آتا ہوں۔۔۔ ذرا تبدیلی ہوجائے گی‘‘۔

پنکی جبل پور میں بیاہی ہوئی تھی۔معمولی سے پس وپیش کے بعد سب مان بھی گئے۔ منوج نے تو مذاق بھی کیا۔ ’’ٹھیک ہے جب تک ماں کے بال بھی کچھ اورلمبے ہو جائیں گے‘‘۔

ماں نے سمجھایا۔۔۔’’بیٹی کے ہاں زیادہ دن مت رک جانا۔ ٹھیک نہیں ہوتا۔۔۔ جلدی لوٹنا‘‘۔

دوسرے دن لالہ جی ٹرین سے روانہ ہو گئے۔

دو دن، چار دن، چھ دن، ہفتہ گزر گیا۔ لیکن لالہ جی جبل پور نہیں پہنچے۔ سب کو فکر ہو گئی۔ دوستوں، رشتہ داروں کے ہاں کھوج شروع ہوئی۔ خدا نہ کرے کوئی حادثہ نہ ہو گیا ہو راستے میں ۔ کچھ ہوتا بھی تو لالہ جی خبر کرتے۔ کوئی معقول وجہ ان کے غائب ہونے کی سمجھ میں نہ آئی۔ بہت مایوس ہونے کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور اخباروں میں تصویر چھاپ دی گئی۔۔۔ مگر سراغ ندارد! پریشانی اس حد کو پہنچی کہ ممکن ، نا ممکن ہر طرح کے خیالات ذہن سے گزرنے لگے۔

ڈھائی مہینے گزرگئے اور ایک دن اچانک ایک خط ملا۔ بدری ناتھ کے کسی آشرم سے۔ لالہ ہیم راج بہت بیمار تھے۔ ان کی حالت بہت نازک تھی۔ اور آشرم کے کسی پنڈت نے ان کی ڈائری سے پتہ لے کرخط لکھ دیا تھا۔

سب لوگ فورا بدری ناتھ پہنچ گئے۔۔۔ بس ذرا سی دیر ہوگئی۔ اسی صبح ان کا دیہانت ہو گیا تھا۔

داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ بال بڑھ کر جٹائیں بن گئی تھیں۔ چٹائی پر پڑے ہوئے بالکل سنیاسی لگ رہے تھے۔

مایادیوی نے چوڑیاں توڑ کے پھینک دیں۔ اور ان کے کان کے پاس جا کر پوچھا ’’اب بتاؤ۔۔ بال کٹوا دوں؟ اب تو منڈن کروانا ہوگا۔ ودھوا ہوں نا‘‘۔

اور اس بار لالہ جی سے پوچھ کے، بڑھیا نے سر منڈوا دیا۔

گلزار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مریم نواز ہیلتھ کلینک
  • پاکستان کی ترقی کا راستہ
  • کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ
  • سفید کبوتری از زکریا تامر​
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جب سے کتاب زیست کا رنگ جمال ہیں
پچھلی پوسٹ
کیسی اُفتاد آپڑی دل پر

متعلقہ پوسٹس

جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ

نومبر 29, 2019

محبت سے محبت ہے

جولائی 31, 2022

اجنبی آنکھیں

اپریل 25, 2019

کتابی باتیں اور عملی لوگ!

جنوری 14, 2021

سمندر کی گہرائیوں میں

دسمبر 23, 2024

پانچویں نسل کی جنگ اور پاکستان!

ستمبر 19, 2021

مونا لیزا

جنوری 5, 2020

سب سے بہترین گفتگو

جولائی 15, 2020

سزائے موت یا عام معافی

مئی 3, 2024

استعمار کی گرفت

جنوری 28, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاکستان کی خوشحالی کا راستہ

اکتوبر 29, 2025

ایک پھول کم پڑ جائے گا

جنوری 12, 2026

نقظہ نواز

جنوری 1, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں