خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرکینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ

روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 12, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 12, 2019 0 تبصرے 376 مناظر
377

کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ

کئی دفعہ بڑے بڑے سوالوں کا جواب نہ کسی علم میں نہ کسی دانش میں نہ دانشوروں کے ہاں اور نہ کتابوں میں ملتا ہے، وہ غیر متوقع طور پر کسی چھوٹی سی جگہ سے مل جاتا ہے۔ میرے ساتھ یہی ہوا،کرتار پور راہداری کے کھلنے کے معاملے کو لے کر میں بھی اوروں کی طرح کبھی بدگمانی کبھی خوش گمانی کا شکار ہو رہی تھی۔۔ رین بو کے سات رنگوں کی طرح دل کے رنگ بھی سات ہی ہو رہے تھے، کبھی نیلا کبھی اودا کبھی پیلا۔۔سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایک طرف کشمیر کا معاملہ، جہاں انڈیا کی ہٹ دھرمی اور بدمعاشی ہضم نہیں ہو رہی اور دوسری طرف ہم کرتار پور کا راستہ بھی کھول دیں۔۔ وہ تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو ہماری کشادہ دلی کیا معجزہ دکھا دے گی؟اور پھر کبھی یہ شک کہ سکھ کہیں ہمارا پنجاب بھی نہ مانگ لیں۔۔ بڑی سکیمیں۔جاسوسیاں۔۔سازشیں اور نہ جانے کیا کیا۔۔
اس موضوع پر جتنے بھی آرٹیکل لکھے جارہے تھے سب کے سب پڑھنے کی کوشش میں لگی ہو ئی تھی کہ کچھ نظر میں آنے سے رہ نہ جائے۔۔ مگر دل ایک فیصلہ کر نہیں پا رہا تھا اور دماغ کا فیصلہ تو ویسے ہی ہم جیسوں کا بعد میں آتا ہے۔۔۔۔
ایسی کنفیوژن میں مجھے اپنے ہیئر ڈریسر کے پاس جانے کا اتفاق ہوا۔جہاں سے میں سالوں سے بچوں کی اور اپنی بھی ہیئر کٹنگ کر واتی ہوں۔۔اس سیلون کا مالک کلین شیو سکھ لڑکا بنٹی ہے،ایمپلائیز میں ہر طرح کی نیشنیلٹی کی جن میں پاکستانی، انڈین، سپینش اوررشین لڑکیاں ہیں۔مالک کا ایک کزن بھی ہے، ظاہر ہے وہ بھی سکھ ہی ہے اور وہ بھی کلین شیوڈ ہی ہے۔ میں جب بھی وہاں جاتی ہوں، ایک فیملی کا احساس ہو تا ہے۔ حال چال یہ وہ، کے بعد اگر تو کوئی خاتون ایمپلائی میرا کام کر رہی ہوں تو میری تحریروں کے بعد ان کے زنانہ مسائل، ساس نے یہ کہہ دیا، خاوند نے وہ کہہ دیا ٹائپ گفتگو ہو تی رہتی ہے اور وقت کٹ جا تا ہے۔اور اگربنٹی یااس کا کزن وکی آجائیں تو میری تحریروں،ٹاک شو، فلم،سیاست، مذہب سب پر بات ہو تی ہے بلکہ وکی کا مطالعہ تو اتنا وسیع کہ انڈو پاک تاریخ میں ہمارے کئی نام نہاد دانشوروں کو پیچھے چھوڑ جائے،ذوالفقار علی بھٹو ہو یا نہرو یا ضیاالحق، مجھے ان کے متعلق وکی سے بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔
۔ میرے علاوہ بھی جتنے لوگ وہاں کام کروانے آتے ہیں، سب کے ساتھ ان سیلون والوں کا سلوک بہت دوستانہ ہو تا ہے۔
مگرمیرا مرتبہ باقی گاہکوں سے ایک درجہ یوں بلند ہو جاتا ہے کہ مجھے کبھی کبھار وہاں کوفی شوفی کی آفر بھی ہو جاتی ہے۔
“باجی ٹم ہارٹن جا رہے کوفی پینی جے”۔۔خیرمحلے کے نائی والی دکان جیسے ماحول میں بیٹھ کر کئی مرتبہ وہاں دیوار پر لگے ایل سی ڈی پر کر کٹ میچ بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔۔۔ سیلون میں سب پاکستانی انڈین بال کٹوانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور ساتھ ساتھ میچ دیکھ رہے ہیں اور خوب نعرے لگ رہے ہیں۔۔ ایک ایسے ہی دن میرے وہاں بیٹھے بیٹھے پاکستان میچ جیت گیا تو میں نے خوشی میں ساتھ والی دکان سے بھاگ کر مٹھائی پکڑی اور کاونٹر پر رکھ دی تاکہ ہماری خوشی میں سب خوش ہوں۔سکھ بردارن کے چہروں پر وہ خوشی نہ تھی جو میں دیکھنے کی متمنی تھی کہ جب اتنا دوستانی بردارانہ ماحول ہے تو پھر بھی پاکستان کی جیت وہ بھی انڈیا کے خلاف نہیں بلکہ انگلینڈ کے خلاف ہے تو یہ اسطرح خوش کیوں نہیں ہو رہے۔۔خیر۔۔سوچا وہی اینٹی پاکستان جذبات۔۔ان باتوں سے ہٹ کروکی کے کرکٹ کی تاریخ سمیت حالیہ تبصرے بھی قابل ِ تحسین ہوتے ہیں۔۔
ایک بات جو مجھے تکلیف دیتی تھی۔۔ وہ تھی انڈیا کے اندر اقلیتیوں کے ساتھ سلوک اس بات پر وکی، یا بنٹی انتہائی نیوٹرل ہو نے کے باوجود ایک متعصابانہ رویہ رکھتے تھے اور مکمل انکاری ہو جاتے تھے کہ انڈیا کے اندر کوئی ایسا غیر مساوی سلوک بھی موجود ہے، دوسری بات ان کا الگ وطن” پاکستان “کے بننے پر اختلاف ;
“تسی زیادہ سارے لوگ انڈیا وچ ہوندے تے تسی وڈی اقلیت ہونا سی کھل کے مقابلہ کر دے “۔ میں کہتی؛ “اقلیت چھوٹی ہو یا بڑی ہوتی تو اقلیت ہی ہے۔۔ساڈے بزرگ ہندو انتہا پسندی دا چہرہ نہ دیکھدے تے انہوں نے کیوں وکھرا ہو نا سی؟ ”
خیر یہ بحث ہو تی رہتی تھی۔۔۔۔
خیر میں بھی اور وہ لوگ بھی اپنی اپنی بات پر ڈٹے بھی رہتے مگر احترام کا دامن تھامے۔
پھر ایک دن وکی نے کہا: “باجی آپ اپنے ٹاک شو میں خالصتانیوں کو کیوں بلاتی ہیں؟ یہ کوئی تحریک ہے ہی نہیں۔۔ ہے بھی تھی تو ختم ہو چکی ہے۔ ۴۸ کے بعد بس اب باہر کے ملکوں میں ہی دو چار بندے راگ الاپتے ہیں۔ ہمیں انڈیا میں کو ئی تنگی نہیں ہے۔ انڈیا بڑا وڈیا ملک اے۔۔ پاکستان کی طرح نہیں کہ جہاں اقلیتیوں پر ظلم ہو تا ہے اور انہیں دبایا جا تا ہے۔۔ تہاڈا پاکستان ضیالحق نے برباد کر دتا اے۔۔ طالبان اوتھے ہو ندے۔دہشت گرد اوتھے ہوندے، انڈیا نوں سکھ دا ساء نہیں لین دیندے تسی لوگ۔” وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔اور میں نے یعنی دل ِ ناتواں نے یہاں بھی مقابلہ خوب کیا مگر اس کی آنکھوں میں موجود اپنے بیان پر یقین میں مٹا نہیں سکی۔۔
یہاں تک کہ وکی انڈیا میں پھیلی غربت اور تھڑوں پر سوئے لوگ جو میں اپنی آنکھوں سے دلی میں دیکھ کر آئی تھی، ان حقیقتوں کو بھی میرے یا کسی بھی پاکستانی کے سامنے ماننے سے انکاری رہتا تھا۔ اور یہ بات انڈینز میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو ئی ہے کہ وہ پاکستانیوں کے سامنے کبھی اپنی کمزوری کو نہیں اچھالتے بلکہ گناہ تک چھپا نے کی عادت میں مبتلا ہیں۔ ہمارے دانشوروں کی طرح پیٹ سے کپڑا اٹھا اٹھا کر ڈھنڈورا پیٹنا ان کے کسی بھی لیول کے بندے کو نہیں آتا تھا۔۔حتی کہ وہاں کے ٹیکسی ڈرائیور کو بھی پتہ چل جائے کہ آپ کا تعلق پاکستان سے ہے تو انڈیا کے گن گانے شروع کر دیتے ہیں۔۔۔
مگر کرتار پو ر راہداری کے کھلنے کے اگلے ہی دن اس سیلون میں ایک عجیب صورتحال تھی۔ میں جیسے ہی داخل ہو ئی، وکی کسی اور کے بال کاٹنے میں مشغول تھا۔مجھے دیکھتے ہی دور سے سیلوٹ کیا، عزت تو پہلے بھی بہت کیا کرتے تھے، مگر آج اتنا ٹکا کے سیلوٹ؟۔۔ میں نے مسکرا کر دور سے ہاتھ ہلا دیا۔ اتوار کے دن کچھا کھچ بھرا ہوا ہال،اتنی مصروفیت کے باوجود،بنٹی نے کہا:” باجی تسی جانا نہیں ”
کیونکہ بھرا ہال دیکھ کر میں سوچ رہی تھی واپس چلی جاوں پھر آجاوں گی اتنی دیر کون بیٹھے۔۔بنٹی نے میری نظریں پڑھ لی تھیں۔۔
” تسی ایتھے بیٹھو میں ہنے کڑی نوں کہنا واں۔۔۔”پھر چمکتی آنکھوں، دہکتے گالوں سے اس نے مجھے شکریہ کہا۔ میں کاونٹر پر پڑے مٹھائی کے دو ڈبوں کو دیکھ کر سمجھ گئی کہ شکریہ کیوں کہہ رہا ہے، کیوں نہ سمجھتی ایک کے اوپر کرتار پور کی راہداری کھلنے پر مبارکباد لکھ کر ڈبہ رکھا ہوا تھا۔ “باجی مٹھائی کھادے بغیر نہیں جانا۔۔ یہ ہمارے پاکستانی کلائنٹ رکھ کر گئے ہیں۔۔ اور کل ہم نے سارا دن ڈسکاونٹٹد پرائس یا فری کام کیا سب پاکستانیوں کا۔۔۔ آپ نے ہم لوگوں کو بہت بڑی خوشی دی۔۔” اور پھر عمران خان اور پاکستان کی تعریفوں کے انبار لگنے لگے۔۔۔
مجھے حیرت سے زیادہ پریشانی ہو نے لگی، میں جو سالوں سے ان لوگوں کے ساتھ سر کھپا رہے تھی اور جو باتیں میں کہتی تھی، مثلا ہندو انتہا پسند ذہینت کی، ہندوستان میں مذہبی شدت پسندی کی، تنگ نظری کی، دوسرے مذاہب کو برداشت نہ کر سکنے اور خود کو برتر سمجھنے کی عادت کی۔۔آج وہ سب باتیں وکی، بنٹی،(وہ سکھ جو ہندستانی ہونے کے ناطے اس دھرتی سے اپنی وفاداری کے ثبوت پر اس کی برائیوں پر بھی پردہ ڈالتے رہتے تھے اورکسی ٹیپیکل ہندوستانی کی طرح ہر بات کا مورد ِ الزام پاکستان کو ٹھہراتے رہتے تھے یکا یک ہندوستان اور پاکستان کے بارے میں ان کے نظریات بدل چکے تھے۔۔۔ اور آج تو بنٹی نے (جووکی سے زیادہ محتاط ہوا کرتا تھا):” تہاڈی بابری مسجد دا فیصلہ آیا،انڈین مسلم چُوں بھی نہیں کر سکتے۔وہاں کوئی بول نہیں سکتا۔۔ “میں نے کہااتنا سخت ماحول ہے تو پہلے کیوں بولتے تھے۔۔ میں یہی تو کہا کرتی تھی تو مجھے جھٹلا دیا کرتے تھے۔۔ کہنے لگا باجی تب لگتا تھا کیا فائدہ، جہاں رہنا وہاں اپنے لئے کیوں مسئلہ پیدا کرنا۔۔ لیکن اب پاکستان نے یہ کر دیا، ہم پر اتنا بڑا احسان ہے کہ میں آپ کو لفظوں میں نہیں بتا سکتا۔۔ ۵ کلومیڑ کے فاصلے سے ہم نے اپنے ماپوں کو دوربینیں لگا کروہاں جانے کے لئے تڑپتے دیکھا ہے۔۔ ہم کتنے خوش ہیں اس کا اظہار الفاظ میں نہیں کر سکتے مگر ہمارے دل احترام سے بھر گئے ہیں۔ اب کس منہ سے انڈیا کے لئے جھوٹ بولیں اور پاکستان کو برا کہیں۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ جو مٹھائی کا ڈبہ پڑا ہے، اور یہ جو تین ہندو ابھی ابھی آپ کے آگے گئے ہیں، اور کل سے جو بھی ہندو آرہا ہے، کسی نے ڈبہ کھول کے دیکھا تک نہیں، اوپر سے ہی مبارک کا پیغام پڑھ کر منہ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی ہم سے محبت۔۔”۔۔تو سکھ کی آنکھ سے ہندو کی محبت کا جھوٹا پردہ ہٹ گیا۔۔۔ایک راستہ کھلنے سے۔۔دماغ کے کئی در بھی کھل سکتے ہیں میں جو ہمیشہ یہی سمجھتی آئی تھی کہ مذہب، انسانوں میں تقسیم کی وجہ بنتا ہے۔ اس دن اس بنٹی کے سیلون میں بیٹھ کر احساس ہوا کہ مذہب کا “پتا” ٹھیک طرح چل لو تو دلوں کو جوڑنے والی اس سے بڑی وجہ دنیا میں کو ئی اور نہیں ہو سکتی۔۔ خان کے پاکستان نے یہ پتاٹھیک چل لیا ہے۔۔سکھوں کے دل جیت لئے۔۔ مودی کے ہندوستان نے بابری مسجد کا فیصلہ مسجد کی تعمیر کے خلاف دے کر مسلمانوں کی نفرت خرید لی ہے۔۔۔۔
ایک فیصلے کی پھونک سے سے ہندوستان کی سیکولرازم کا راز فاش ہوا اور اسی طرح کی ایک پھونک سے پاکستان کی مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت کی بدنامی غائب ہو تی نظر آئی۔۔۔اسی کو معجزہ کہتے ہیں۔۔۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چالیسواں دن
  • مخفی دوربین
  • مہا لکشمی کا پل
  • اُلٹی دنیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
لفظ جب منہ سے نکلتا ہے نظر آتا ہے
پچھلی پوسٹ
گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

متعلقہ پوسٹس

خدا پرستی کا نسخہ

دسمبر 29, 2019

کیا اسیری کیا رہائی

اکتوبر 14, 2025

ایچی سن کالج – شاندار ادارہ یا اشرافیہ کا قلعہ؟

اپریل 2, 2026

آسمان، چاند، ستارے اور انسان کی تلاش

مارچ 24, 2025

غلام سے امامِ امت تک

جنوری 10, 2026

پراپرٹی ڈیلنگ

اکتوبر 12, 2025

مدھر ملن کی شبھ گھڑی

مئی 17, 2024

ججز استعفیٰ کیوں دے رہے ہیں ؟

نومبر 26, 2025

تبدیلی کہاں پہنچی!

جولائی 2, 2021

ایک عجیب وحشت

جنوری 5, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عباسی حکومت میں کتابوں اور کتب...

مارچ 9, 2026

رمضان اور متزلزل ایمان

اپریل 23, 2021

نوجوان اور ورچوئل دنیا کی گرفت

اگست 23, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں