خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابلائوں کو ٹالنے کا سبب
آپکا اردو بابااردو تحاریر

بلائوں کو ٹالنے کا سبب

از محمد یوسف برکاتی مئی 27, 2024
از محمد یوسف برکاتی مئی 27, 2024 0 تبصرے 63 مناظر
64

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

ہمارے یہاں پہلے جب کسی گائوں یا دیہات کی سیر وتفریح پر جاتے تھے تو کھلے صحنوں اور ہوادار دالانوں میں ہمیں گائے بھینس بندھی ہوئی نظر آتی تھیں اور مرغیاں اور بکریاں بھی دوڑتی ہوئی کھیلتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں اور ان کے درمیان ہی اس گھر کے لوگ چارپائی بچھا کر بیٹھ جاتے تھے لیکن آج کل کے دنیاوی پڑھے لکھے لوگ اس کو گندگی تصور کرکے منہ پر ماسک لگاکر ایسی جگہوں سے گزرتے ہیں گائوں اور دیہاتوں میں ہماری یہ تہذیب آج بھی قائم ہے بلکہ شہروں میں موجود وہ علاقے جہاں پرانے طرز کے لوگ اپنی زندگی میں مصروف ہیں آج بھی جب ہم گزرتے ہیں تو ہمیں گائے بھینس مرغی یا بکریوں سے بچکر گزرنا پڑتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ گھروں می جانور پالنے سے بلائیں ٹل جایا کرتی ہیں مطلب یہ کہ اگر اس گھر پر کوئی پریشانی یا بڑی مصیبت آنے والی ہو تو یہ جانور اپنی جان کا فدیہ اللہ کی راہ میں دے کر اس گھر کو اس آنے والی پریشانی سے چھٹکارا دلادیتے ہیں اب ہمارے بڑوں کی اس بات میں کتنی صداقت ہے اور کتنی سچائی ہے یہ ایک سوال ہے جو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں گردش کرتا ہوا نظر آتا ہے ہماری آج کی نئی نسل اس بات کو دقیانوسی یا پرانے خیالات کے لوگوں کی سوچ کہتے ہیں اب آیئے ہم اس سوال کا جواب مثنوی شریف کی اس حکایت میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

یہ حکایت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کی ہے کہ ایک شخص جانور پالنے کا شوقین تھا اس کے پاس ایک شاندار گھوڑا ایک عدد بیل ایک مرغا اور ایک کتا تھا ایک دن وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے جانوروں کی بولی سکھا دیجیئے کیونکہ میرے گھر میں جانور ہیں اور میں ان کے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ ہوں لہذہ ان کی بولی بول کر میں سمجھا سکوں گا تو آپ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ تیرا یہ شوق ٹھیک نہیں ہے تو اسے ترک کردے تو کہنے لگا کہ اس میں آپ علیہ السلام کا کیا نقصان ہے میرا اگر یہ شوق ہے تو اسے پورا کردیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب وہ زیادہ ضد کرنے لگا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے رب یہ شخص ضد کررہا ہے میں کیا کروں؟ تو فرمایا کہ اگر تیرے سمجھانے پر بھی یہ باز نہیں آتا تو اس کا شوق پورا کردو گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے جانوروں کی بولی سکھا دی اور وہ خوش ہوکر چلا گیا ایک دفعہ جب وہ شخص کھانا کھا کر فارغ ہوا تو اس کی خادمہ نے دسترخوان کو جھاڑ کر اٹھانا چاہا تو اس میں سے ایک روٹی کا ٹکڑا اچھل کر گرا روٹی کے ٹکڑے کو دیکھ کر کتا اور مرغا دونوں لپکے اور بھاگ کر روٹی اٹھانے کی کوشش کی لیکن روٹی مرغے کے ہاتھ لگ گئی اور وہ لیکر چھپ گئی ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

کتے نے کہا کہ اے ظالم تیرا کھانا تو دانہ ہے اور کہیں سے بھی مل جائے گا لیکن میں بھوکا ہوں مجھے روٹی کھانے دیتی تو تیرا کیا جاتا وہ شخص یہ منظر بھی دیکھ رہا تھا اور ان کی باتیں بھی سن رہا تھا مرغا بولا گھبرا نہیں کل ہمارے مالک کا بیل مرنے والا ہے بس پھر ہم جی بھر کر اس کو کھائیں گے یہ بات سن کر وہ شخص پریشان ہوگیا اور اسی وقت جاکر اس نے وہ بیل بازار میں سستے داموں بیچ دیا دوسرے دن وہ بیل واقعی میں مر گیا لیکن نقصان خریدار کا ہوا اس کا کوئی نقصان نہیں ہوا دوسرے دن کتا کہنے لگا یہ کیا ہوا مالک نے تو پہلے ہی بیل بیچ دیا ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

تو مرغے نے کہا کوئی بات نہیں کل اس کا گھوڑا بھی مر جائے گا ہم پھر اسے کھا لیں گے تو یہ بات بھی اس شخص نے سن لی اور نقصان سے بچنے کے لیئے اس نے وہ گھوڑا بھی بیچ دیا اور واقعی میں دوسرے دن گھوڑا بھی مر گیا تب کتے نے مرغے سے کہا کہ یہ سب تجھے کیسے معلوم ہوا تو وہ کہنے لگا جب کسی گھر میں کوئی بڑا سانحہ ہونا ہوتا ہے تو وہاں پر موجود جانوروں کو خبر ہوجاتی ہے اور مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ اس گھر میں بھی ایسا ہونے والا ہے پہلے جب یہاں کچھ ہونے والا تھا تو بیل نے اسے اپنے اوپر لے لیا لیکن بیل یہاں نہیں مری اور مالک نے اسے بیچ دیا اگر ہمارا مالک بیل کو نہیں بیچتا اور وہ یہیں مرجاتی تو یہ بلا ٹل جاتی لیکن ایسا نہ ہوا پھر اس پریشانی نے دوبارا یہاں کا رخ کیا تو اسے گھوڑے نے اپنے اوپر لے لیا لیکن یہاں بھی وہ ہی کچھ ہوا جو بیل کے موقع پر ہوا تھا اگر مالک انہیں نہ بیچتا تو یہ بلا ٹل جاتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا حالانکہ ابھی ہم دونوں بھی موجود ہیں لیکن شاید اب اس پریشانی نے ہمارے مالک کی طرف رخ کرلیا ہے اور اسے اب اپنی جان گنوانی ہوگی ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

اس مرغے کی یہ بات سن کر کتے نے کہا وہ کیسے تو مرغے نے کہا کہ دیکھنا اب کل ہمارا مالک خود مرجائے گا پھر اس نے بات انداز بدلتے ہوئے کہا اور تو فکر نہ کر اس کے مرنے پر جو کھانے بنیں گے ہم خوب پیٹ بھر کر کھائیں گے ان کی یہ باتیں سن کر اس شخص کے پائوں تلے زمین نکل گئی اور وہ دوڑا دوڑا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور معافی مانگنے لگا کہنے لگا مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے معاف کر دیجیئے اور زندگی کی بھیک مانگنے لگا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کل تک تو بضد تھا کہ تجھے جانوروں کی بولی سکھائی جائے اور جب تجھے اپنی موت نظر آرہی ہے تو معافی مانگنے آیا ہے آپ علیہ السلام نے فرمایاجو میرے ہاتھ میں تھا میں نے کیا اب معاملہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے اب یہ معاملہ رب کے ہاتھ میں ہے اور اب وہ ہی ہوگا جو وہ چاہے گا ۔
اور دوسرے دن وہ شخص واقعی میں انتقال کرگیا ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

جب کبھی کاروبار میں نقصان یا گھر میں کوئی پریشانی ہو تو غم اور دکھ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے اللہ کی رضا اور اپنی جان کا فدیہ سمجھ کر صبر اور اس پر اس رب تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیئے اور یہ سوچنا چاہئیے کہ جو ہوا اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مرضی اور منشاء شامل حال تھی ہوسکتا ہے کہ یہ نقصان یا پریشانی ہماری جان پر آجاتی لیکن اسے رب تعالی نے اپنے فضل و کرم سے ہمارے کاروبار کی طرف موڑ دیا اور یہ نقصان ہماری جان کا صدقہ ہو اس لیئے اس پر پریشان نہیں ہونا چاہئے ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

اس حکایت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی اور ثابت ہوگئی کہ جو بات ہمارے بڑے بوڑھے اور بزرگ کہ گئے ان میں کئی باتوں میں بالکل صداقت اور سچ کا عنصر چھپا ہوا ہوتا ہے اور جہاں تک جانور پالنا اور پلے ہوئے جانور اس جگہ پر آنے والی بلا کو اپنے اوپر لیکر وہاں کے لوگوں کے جان کا صدقہ بن جاتے ہیں یہ بات بھی صحیح اور سچ ہے لہذہ ویسے بھی روزانہ نہیں تواکثر وبیشتر اپنا اور اپنے گھر کے تمام افراد کا صدقہ دیتے رہنا چاہیئے کہ صدقہ ہماری کئی بلائوں کو ٹالنے کا سبب بنتا ہے اور ہماری زندگی کو پریشانیوں اور تکلیفوں سے دور رکھتا ہے ۔

 

یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • 05 فروری:یوم ِیکجہتی کشمیر!
  • تجھ کو غیروں سے
  • یادش بخیریا
  • قیدی چڑیاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد یوسف برکاتی

اگلی پوسٹ
سیالکوٹ میں اردو شاعری کی روایت
پچھلی پوسٹ
مجھے بچہ نہیں چاہیے

متعلقہ پوسٹس

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

یہی تو بات … گوارا نہیں محبت کو

مئی 28, 2020

تم نے ہی مشکل میں ڈالا

مئی 9, 2025

‘لا’ سے ‘کن ‘کا سفر

مئی 18, 2020

اودھ کی شام

جنوری 3, 2020

کرنسی نوٹوں کی تبدیلی

ستمبر 1, 2024

جج صاحب سیاست میں

نومبر 15, 2025

روشنی

دسمبر 10, 2019

میرے مالک گواہ رہنا

اپریل 23, 2021

آن زبان اور جان

مئی 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا

اسلامی گوشہ

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

اردو شاعری

انسانیت

جولائی 31, 2026

تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو...

جولائی 31, 2026

مری زندگی تو فراق ہے

جولائی 30, 2026

اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

جولائی 26, 2026

آئینے کی کرچیاں

جولائی 24, 2026

اردو افسانے

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

اردو کالمز

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

سرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے!

جولائی 25, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

    جولائی 26, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

 کمپی کاری کا قاتل

نومبر 23, 2019

بے حسی کب ہے

جون 20, 2024

پیرہن اور بھی تابناک ہوا

جنوری 14, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں