خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابلائوں کو ٹالنے کا سبب
آپکا اردو بابااردو تحاریر

بلائوں کو ٹالنے کا سبب

از محمد یوسف برکاتی مئی 27, 2024
از محمد یوسف برکاتی مئی 27, 2024 0 تبصرے 81 مناظر
82

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

ہمارے یہاں پہلے جب کسی گائوں یا دیہات کی سیر وتفریح پر جاتے تھے تو کھلے صحنوں اور ہوادار دالانوں میں ہمیں گائے بھینس بندھی ہوئی نظر آتی تھیں اور مرغیاں اور بکریاں بھی دوڑتی ہوئی کھیلتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں اور ان کے درمیان ہی اس گھر کے لوگ چارپائی بچھا کر بیٹھ جاتے تھے لیکن آج کل کے دنیاوی پڑھے لکھے لوگ اس کو گندگی تصور کرکے منہ پر ماسک لگاکر ایسی جگہوں سے گزرتے ہیں گائوں اور دیہاتوں میں ہماری یہ تہذیب آج بھی قائم ہے بلکہ شہروں میں موجود وہ علاقے جہاں پرانے طرز کے لوگ اپنی زندگی میں مصروف ہیں آج بھی جب ہم گزرتے ہیں تو ہمیں گائے بھینس مرغی یا بکریوں سے بچکر گزرنا پڑتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ گھروں می جانور پالنے سے بلائیں ٹل جایا کرتی ہیں مطلب یہ کہ اگر اس گھر پر کوئی پریشانی یا بڑی مصیبت آنے والی ہو تو یہ جانور اپنی جان کا فدیہ اللہ کی راہ میں دے کر اس گھر کو اس آنے والی پریشانی سے چھٹکارا دلادیتے ہیں اب ہمارے بڑوں کی اس بات میں کتنی صداقت ہے اور کتنی سچائی ہے یہ ایک سوال ہے جو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں گردش کرتا ہوا نظر آتا ہے ہماری آج کی نئی نسل اس بات کو دقیانوسی یا پرانے خیالات کے لوگوں کی سوچ کہتے ہیں اب آیئے ہم اس سوال کا جواب مثنوی شریف کی اس حکایت میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

یہ حکایت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کی ہے کہ ایک شخص جانور پالنے کا شوقین تھا اس کے پاس ایک شاندار گھوڑا ایک عدد بیل ایک مرغا اور ایک کتا تھا ایک دن وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے جانوروں کی بولی سکھا دیجیئے کیونکہ میرے گھر میں جانور ہیں اور میں ان کے روز روز کے جھگڑوں سے تنگ ہوں لہذہ ان کی بولی بول کر میں سمجھا سکوں گا تو آپ علیہ السلام نے اس سے کہا کہ تیرا یہ شوق ٹھیک نہیں ہے تو اسے ترک کردے تو کہنے لگا کہ اس میں آپ علیہ السلام کا کیا نقصان ہے میرا اگر یہ شوق ہے تو اسے پورا کردیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب وہ زیادہ ضد کرنے لگا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے رب یہ شخص ضد کررہا ہے میں کیا کروں؟ تو فرمایا کہ اگر تیرے سمجھانے پر بھی یہ باز نہیں آتا تو اس کا شوق پورا کردو گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے جانوروں کی بولی سکھا دی اور وہ خوش ہوکر چلا گیا ایک دفعہ جب وہ شخص کھانا کھا کر فارغ ہوا تو اس کی خادمہ نے دسترخوان کو جھاڑ کر اٹھانا چاہا تو اس میں سے ایک روٹی کا ٹکڑا اچھل کر گرا روٹی کے ٹکڑے کو دیکھ کر کتا اور مرغا دونوں لپکے اور بھاگ کر روٹی اٹھانے کی کوشش کی لیکن روٹی مرغے کے ہاتھ لگ گئی اور وہ لیکر چھپ گئی ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

کتے نے کہا کہ اے ظالم تیرا کھانا تو دانہ ہے اور کہیں سے بھی مل جائے گا لیکن میں بھوکا ہوں مجھے روٹی کھانے دیتی تو تیرا کیا جاتا وہ شخص یہ منظر بھی دیکھ رہا تھا اور ان کی باتیں بھی سن رہا تھا مرغا بولا گھبرا نہیں کل ہمارے مالک کا بیل مرنے والا ہے بس پھر ہم جی بھر کر اس کو کھائیں گے یہ بات سن کر وہ شخص پریشان ہوگیا اور اسی وقت جاکر اس نے وہ بیل بازار میں سستے داموں بیچ دیا دوسرے دن وہ بیل واقعی میں مر گیا لیکن نقصان خریدار کا ہوا اس کا کوئی نقصان نہیں ہوا دوسرے دن کتا کہنے لگا یہ کیا ہوا مالک نے تو پہلے ہی بیل بیچ دیا ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

تو مرغے نے کہا کوئی بات نہیں کل اس کا گھوڑا بھی مر جائے گا ہم پھر اسے کھا لیں گے تو یہ بات بھی اس شخص نے سن لی اور نقصان سے بچنے کے لیئے اس نے وہ گھوڑا بھی بیچ دیا اور واقعی میں دوسرے دن گھوڑا بھی مر گیا تب کتے نے مرغے سے کہا کہ یہ سب تجھے کیسے معلوم ہوا تو وہ کہنے لگا جب کسی گھر میں کوئی بڑا سانحہ ہونا ہوتا ہے تو وہاں پر موجود جانوروں کو خبر ہوجاتی ہے اور مجھے معلوم ہوگیا تھا کہ اس گھر میں بھی ایسا ہونے والا ہے پہلے جب یہاں کچھ ہونے والا تھا تو بیل نے اسے اپنے اوپر لے لیا لیکن بیل یہاں نہیں مری اور مالک نے اسے بیچ دیا اگر ہمارا مالک بیل کو نہیں بیچتا اور وہ یہیں مرجاتی تو یہ بلا ٹل جاتی لیکن ایسا نہ ہوا پھر اس پریشانی نے دوبارا یہاں کا رخ کیا تو اسے گھوڑے نے اپنے اوپر لے لیا لیکن یہاں بھی وہ ہی کچھ ہوا جو بیل کے موقع پر ہوا تھا اگر مالک انہیں نہ بیچتا تو یہ بلا ٹل جاتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا حالانکہ ابھی ہم دونوں بھی موجود ہیں لیکن شاید اب اس پریشانی نے ہمارے مالک کی طرف رخ کرلیا ہے اور اسے اب اپنی جان گنوانی ہوگی ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

اس مرغے کی یہ بات سن کر کتے نے کہا وہ کیسے تو مرغے نے کہا کہ دیکھنا اب کل ہمارا مالک خود مرجائے گا پھر اس نے بات انداز بدلتے ہوئے کہا اور تو فکر نہ کر اس کے مرنے پر جو کھانے بنیں گے ہم خوب پیٹ بھر کر کھائیں گے ان کی یہ باتیں سن کر اس شخص کے پائوں تلے زمین نکل گئی اور وہ دوڑا دوڑا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور معافی مانگنے لگا کہنے لگا مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے معاف کر دیجیئے اور زندگی کی بھیک مانگنے لگا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کل تک تو بضد تھا کہ تجھے جانوروں کی بولی سکھائی جائے اور جب تجھے اپنی موت نظر آرہی ہے تو معافی مانگنے آیا ہے آپ علیہ السلام نے فرمایاجو میرے ہاتھ میں تھا میں نے کیا اب معاملہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے اب یہ معاملہ رب کے ہاتھ میں ہے اور اب وہ ہی ہوگا جو وہ چاہے گا ۔
اور دوسرے دن وہ شخص واقعی میں انتقال کرگیا ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

جب کبھی کاروبار میں نقصان یا گھر میں کوئی پریشانی ہو تو غم اور دکھ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے اللہ کی رضا اور اپنی جان کا فدیہ سمجھ کر صبر اور اس پر اس رب تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیئے اور یہ سوچنا چاہئیے کہ جو ہوا اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مرضی اور منشاء شامل حال تھی ہوسکتا ہے کہ یہ نقصان یا پریشانی ہماری جان پر آجاتی لیکن اسے رب تعالی نے اپنے فضل و کرم سے ہمارے کاروبار کی طرف موڑ دیا اور یہ نقصان ہماری جان کا صدقہ ہو اس لیئے اس پر پریشان نہیں ہونا چاہئے ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

اس حکایت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی اور ثابت ہوگئی کہ جو بات ہمارے بڑے بوڑھے اور بزرگ کہ گئے ان میں کئی باتوں میں بالکل صداقت اور سچ کا عنصر چھپا ہوا ہوتا ہے اور جہاں تک جانور پالنا اور پلے ہوئے جانور اس جگہ پر آنے والی بلا کو اپنے اوپر لیکر وہاں کے لوگوں کے جان کا صدقہ بن جاتے ہیں یہ بات بھی صحیح اور سچ ہے لہذہ ویسے بھی روزانہ نہیں تواکثر وبیشتر اپنا اور اپنے گھر کے تمام افراد کا صدقہ دیتے رہنا چاہیئے کہ صدقہ ہماری کئی بلائوں کو ٹالنے کا سبب بنتا ہے اور ہماری زندگی کو پریشانیوں اور تکلیفوں سے دور رکھتا ہے ۔

 

یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اظہار خود بخود کبھی انکار خود بخود
  • کافی تھا یہ کہنا ہی
  • یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو
  • گرم کوٹ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد یوسف برکاتی

اگلی پوسٹ
سیالکوٹ میں اردو شاعری کی روایت
پچھلی پوسٹ
مجھے بچہ نہیں چاہیے

متعلقہ پوسٹس

ہر عیب چھپاتے ہیں

اکتوبر 12, 2025

مشرقی عشق اور شاطر شرفا

دسمبر 7, 2020

جو سب عروجِ شوق کے تھے

مارچ 23, 2025

انٹرویو

فروری 5, 2020

نظام مملکت، موکلین اور جھاڑ پھونک

جنوری 20, 2021

خوابوں کی تعبیر نہیں ہے

ستمبر 27, 2025

وحید احمد

مارچ 30, 2020

درد کا دیپ جلاتے ہیں

مارچ 19, 2022

اس سے ہی چلتی ہے

دسمبر 20, 2022

کیسے کہوں وہ دل کا ہے

اکتوبر 14, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

ستمبر 13, 2026

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

سلام بحضور امام حسین (ع)

ستمبر 10, 2026

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

اردو شاعری

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

ستمبر 15, 2026

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

ستمبر 10, 2026

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

ستمبر 10, 2026

قصّہِ پارینہ

ستمبر 5, 2026

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

آیت نور اور ڈارک ویب

ستمبر 10, 2026

جھکے گا ظلم کا پرچم

ستمبر 6, 2026

6 ستمبر 1965

ستمبر 5, 2026

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • سلام بحضور امام حسین (ع)

    ستمبر 10, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کہانی محبت کی تم بھول جاتے

فروری 5, 2020

ہمیں ہی وہم تھا

نومبر 4, 2025

ہے کسی اور ہی مٹی پہ...

جنوری 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں