خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامآیت نور اور ڈارک ویب
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزتنویر اعوان

آیت نور اور ڈارک ویب

از تنویر اعوان ستمبر 10, 2026
از تنویر اعوان ستمبر 10, 2026 0 تبصرے 51 مناظر
52

آیت نور اور ڈارک ویب – وہ سوال جو ابھی باقی ہے

کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب نہ ملے تو مقدمہ بظاہر مکمل ہونے کے باوجود ادھورا رہتا ہے۔ آیت نور کا مقدمہ بھی اب میرے لیے ایسا ہی ایک سوال بن چکا ہے۔

رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان مسلسل یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ شاید اس مقدمے میں کوئی ایسا کردار ہے جسے بچایا جا رہا ہے یا جس تک تفتیش ابھی پوری طرح نہیں پہنچی۔ میں ان کے خدشے کو حتمی حقیقت نہیں کہتا، لیکن کئی دن سے ایک سوال میرے ذہن میں بھی گردش کر رہا ہے: پانچ سال کی ایک معصوم بچی کے ساتھ اتنا غیر معمولی اور ناقابلِ تصور ظلم آخر کیوں کیا گیا؟

کیا یہ چند مقامی افراد کا اچانک کیا گیا جرم تھا؟ کیا اس کے پیچھے کوئی ذاتی دشمنی تھی؟ کیا کوئی ایسا شخص بھی موجود تھا جو خود سامنے نہیں آیا مگر دوسرے کرداروں کو چلا رہا تھا؟ یا پھر اس ظلم کی تصویر یا ویڈیو بنانے، اسے کسی دوسرے شخص تک پہنچانے یا انٹرنیٹ کی خفیہ دنیا میں فروخت کرنے کا کوئی پہلو بھی موجود تھا؟

میرے پاس آخری امکان کا کوئی ثبوت نہیں۔ اس لیے اسے حقیقت کہنا بددیانتی ہوگی۔ لیکن تفتیش کا اصول یہ بھی ہے کہ جب کسی مقدمے میں غیر معمولی حالات، مختلف کردار، الگayat noor الگ معلومات رکھنے والے افراد اور برقی رابطوں کے سوال موجود ہوں تو کسی ممکنہ پہلو کو محض اس لیے رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سننے میں غیر معمولی لگتا ہے۔

آیت نور کے مقدمے میں پولیس کے اپنے بیانات کئی اہم سوال پیدا کرتے ہیں۔ پولیس کے مطابق دو سو سے زائد نگرانی کے کیمروں کا ریکارڈ حاصل کیا گیا، ان میں سے بارہ کیمروں کی تصاویر نے تفتیش میں مدد دی، کالوں کے ریکارڈ، جغرافیائی دائرہ بندی اور تقریباً بیس مشتبہ نمبروں کا فنی تجزیہ بھی کیا گیا۔ پولیس نے پانچ مشتبہ افراد کی شناخت کی بات بھی کی تھی۔

پھر مقدمہ ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے جہاں سوال مزید بڑھ جاتے ہیں۔ پولیس سے منسوب تفصیلات کے مطابق عثمان نے عدالت میں دیے گئے بیان میں طلحہ، قاسم اور دو نامعلوم افراد کا ذکر کیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ پہلے گرفتار ہونے والے عثمان، قاسم اور طلحہ میں سے کسی نے پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ آیت نور کو آخرکار کہاں چھوڑا گیا تھا۔ بعد میں حسن سامنے آیا اور پولیس کے مطابق اسی کی نشاندہی پر وہ کنواں ملا جہاں سے آیت نور کی لاش برآمد ہوئی۔

یہاں رک کر سوال کیجیے۔

اگر پہلے گرفتار افراد ایک ہی واقعے کے تمام مراحل سے پوری طرح واقف تھے تو لاش کے مقام سے لاعلم کیوں تھے؟ اگر وہ لاعلم تھے تو آیت کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک کون لے گیا؟ دو نامعلوم افراد کون تھے؟ ان میں سے کسی کا کردار بعد میں سامنے آنے والے شخص سے ملتا تھا یا وہ الگ لوگ تھے؟ اور اگر مختلف افراد کے پاس وقوعے کے مختلف حصوں کی معلومات تھیں تو اس پوری زنجیر کو ایک نقشے کی طرح عوام اور عدالت کے سامنے کیوں نہ رکھا جائے؟

سوال کسی ایک نوجوان کو مجرم ثابت کرنے کا نہیں، بلکہ معلومات کی زنجیر کو سمجھنے کا ہے۔

مقدمے کے ابتدائی مراحل میں ایک اور کم عمر شخص سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے پولیس کے دوسرے مشتبہ افراد تک پہنچنے کے دعوے بھی زیر بحث آئے۔ ایسے میں بنیادی سوالayat noor یہ ہونا چاہیے کہ کسی شخص کے پاس دوسرے مشتبہ فرد تک پہنچانے والی معلومات کہاں سے آئیں؟ وہ عینی شاہد تھا؟ کسی گفتگو سے واقف تھا؟ کسی کے رابطے میں تھا؟ یا اس نے محض ایک سراغ دیا تھا؟ کسی کو صرف اس بنیاد پر مجرم نہیں کہا جا سکتا، لیکن اس سراغ کا منبع معلوم کرنا تفتیش کا لازمی حصہ ہے۔

اس مقدمے کا سب سے تکلیف دہ حصہ آیت نور کی طبی رپورٹ ہے۔ آٹھ رکنی طبی مجلس کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ بچی کی موت شدید صدمے اور زیادہ خون بہنے سے ہوئی، جبکہ ڈی پی او ہری پور کے مطابق دونوں رانوں کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔ یہ تفصیلات اس جرم کی غیر معمولی سفاکی کو ظاہر کرتی ہیں۔

لیکن یہاں بھی ایک احتیاط بہت ضروری ہے۔ ایسے جرم کے بعد ہم غصے میں فوراً کہہ دیتے ہیں کہ ایسا کرنے والا ”ذہنی مریض” ہوگا۔ یہ اصطلاح استعمال کرتے ہوئے احتیاط ہونی چاہیے۔ ہر ذہنی بیماری کا شکار شخص خطرناک نہیں ہوتا اور نہ ہر سفاک مجرم لازماً ذہنی بیماری کا مریض ہوتا ہے۔ کسی شخص کی ذہنی کیفیت کا فیصلہ ماہرین کرتے ہیں۔ البتہ یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ اتنی شدید سفاکی کے پیچھے محرک کیا تھا: جنسی انحراف، انتقام، طاقت کا اظہار، گروہی جرم، کسی دوسرے شخص کی ہدایت، مالی فائدہ یا کچھ اور؟

یہیں سے انٹرنیٹ کی خفیہ دنیا کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

ایک بار پھر واضح کر دوں کہ آیت نور کے مقدمے کا خفیہ انٹرنیٹ سے تعلق ثابت نہیں ہوا۔ لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ پاکستان میں بچوں پر ظلم ریکارڈ کرکے خفیہ آن لائن حلقوں تک پہنچانے کا تصور محض کسی فلم کی کہانی ہے۔

جون 2025ء میں مظفرگڑھ سے ایسا مقدمہ سامنے آیا جہاں حکام کے مطابق چھ سے دس برس کے بچوں کو ایک نام نہاد کھیلوں کے مرکز میں لایا جاتا، ان پر ظلم کیا جاتا، اسے ریکارڈ کیا جاتا اور مواد خفیہ انٹرنیٹ پر فروخت کرنے کا الزام تھا۔ قومی ادارہ برائے تحقیقاتِ جرائمِ برقی نے کارروائی کی، بچوں کو بازیاب کیا اور گرفتاریاں ہوئیں۔

فروری 2026ء میں اسی قومی ادارے نے راولپنڈی میں ایک ملزم کی گرفتاری کے بعد چھ سو سے زیادہ بچوں سے متعلق قابلِ اعتراض ویڈیوز برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ تفتیش میں خفیہ انٹرنیٹ سے ممکنہ تعلق کا پہلو بھی شامل کیا گیا۔

اگست 2026ء میں سرگودھا میں کم سن بہن بھائی پر ظلم کی ویڈیو بنانے اور اسے خفیہ انٹرنیٹ پر ڈالنے کے الزام میں مقدمہ اور گرفتاریاں بھی سامنے آئیں۔ یہ الزام ابھی عدالتی جانچ کا محتاج ہے، مگر اتنا ضرور ثابت کرتا ہے کہ ہمارے تفتیشی ادارے خود ایسے امکانات کو فرضی کہانی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرتے۔

دنیا کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں۔ بین الاقوامی پولیس تنظیم اور یورپی پولیس ادارے برسوں سے ایسے جرائم کی نشاندہی کر رہے ہیں جن میں بچوں پر ہونے والا ظلم براہِ راست نشر کیا جاتا ہے، بیرون ملک موجود افراد رقم دے کر مخصوص نوعیت کا مواد بنوانے کی کوشش کرتے ہیں اور انٹرنیٹ کے خفیہ راستے مجرموں کو ایک دوسرے سے رابطے اور مواد کے تبادلے کی سہولت دیتے ہیں۔ یورپی پولیس کے مطابق بعض مجرمانہ حلقوں میں نیا اور پہلے نہ دیکھا گیا مواد خاص اہمیت رکھتا ہے۔

اسی لیے آیت نور کے مقدمے میں سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ”خفیہ انٹرنیٹ تھا یا نہیں؟” سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا اس امکان کی مکمل سائنسی جانچ ہوئی یا نہیں؟

کیا وقوعے سے متعلق کسی موبائل، کمپیوٹر، حافظہ رکھنے والے آلے یا آن لائن ذخیرے سے کوئی تصویر یا ویڈیو بنائی گئی؟ کیا کوئی فائل مٹائی گئی؟ کیا مٹایا گیا مواد واپس حاصل کرنے کی کوشش ہوئی؟ کیا گرفتار اور زیرِ تفتیش افراد سے منسلک نمبروں کے درمیان وقوعے سے پہلے یا بعد کوئی غیر معمولی رابطہ ہوا؟ کیا کسی ایسے شخص کا نمبر سامنے آیا جو جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا مگر ایک سے زیادہ کرداروں کے رابطے میں تھا؟ کیا کسی رقم کی منتقلی ہوئی؟ کیا رمز بند پیغام رسانی یا شناخت چھپانے والے انٹرنیٹ راستوں کے استعمال کے آثار ملے؟ کیا کسی مشترکہ فون، کمپیوٹر یا کسی تیسرے شخص کے آلے کو استعمال کیا گیا؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ہر شخص کے ہاتھ میں الگ موبائل ہونا ضروری نہیں۔ ایک ہی آلہ کئی لوگوں کے درمیان استعمال ہوسکتا ہے۔ ایک شخص رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک شخص وقوعے میں شریک ہوئے بغیر تصاویر، پیغام رسانی یا مالی لین دین سنبھال سکتا ہے۔ لہٰذا یہ دلیل کافی نہیں کہ کسی ملزم کے پاس اپنا موبائل نہیں تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ رابطہ کس ذریعے سے کر رہا تھا اور کس سے کر رہا تھا؟

قومی ادارہ برائے تحقیقاتِ جرائمِ برقی خود برقی آلات سے مٹائے گئے یا محفوظ اعداد و معلومات کے سائنسی معائنے، کمپیوٹر کے تجزیے اور بچوں کے آن لائن استحصال سے متعلق جرائم کی تحقیق کی صلاحیت رکھتا ہے۔

میری رائے میں آیت نور مقدمے میں یہی ایک کام تمام قیاس آرائیوں کا راستہ بند کر سکتا ہے: تمام متعلقہ برقی آلات، مشتبہ نمبروں، رابطوں، مالی لین دین اور دستیاب اعداد و معلومات کا آزادانہ اور مکمل سائنسی معائنہ کرایا جائے۔

اگر اس تحقیق میں انٹرنیٹ کی خفیہ دنیا، کسی تیسرے شخص، کسی خریدار یا منظم گروہ کا کوئی تعلق سامنے نہیں آتا تو بہت اچھا۔ اس امکان کا دروازہ ثبوت کے ساتھ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا جائے۔ لیکن دروازہ کھولے بغیر یہ اعلان کردینا کہ دوسری طرف کچھ نہیں ہے، مکمل تفتیش نہیں کہلاتی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق بھی آیت نور مقدمے کی ازسرنو تحقیقات اور عدالتی کمیشن کی سفارش کر چکی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ سوال صرف یہ نہیں کہ گرفتار کون ہوا؛ اصل سوال یہ ہے کہ پورا سچ سامنے آیا یا نہیں؟

آیت نور اکیلی نہیں۔

چند ہفتے پہلے کراچی میں صرف اٹھارہ ماہ کی آئزل کا مقدمہ سامنے آیا۔ پولیس کے مطابق اسے ایک قریبی رشتہ دار چیز دلانے کے بہانے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔

اس سے کچھ پہلے کراچی ہی میں چھ سالہ محمد ولی گھر کے قریب سے لاپتا ہوا۔ پولیس کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار شخص اس کا پڑوسی تھا۔ یعنی خطرہ ہمیشہ کسی اجنبی چہرے سے نہیں آتا؛ بعض اوقات بچہ اس شخص کے ساتھ چلا جاتا ہے جسے وہ پہلے سے جانتا اور جس سے خوف محسوس نہیں کرتا۔

یہ شاید اس پورے کالم کا سب سے اہم حصہ ہے۔

ہم بچوں کو ہمیشہ یہ سکھاتے ہیں کہ اجنبی کے ساتھ مت جانا، لیکن اب والدین کو اس سے ایک قدم آگے جانا ہوگا۔ چھوٹا بچہ کسی کے ساتھ بھی اکیلا نہیں جائے گا—چاہے وہ پڑوسی ہو، دور کا رشتہ دار ہو، جان پہچان والا نوجوان ہو، دکاندار ہو یا ایسا شخص جسے گھر والے برسوں سے جانتے ہوں۔

بچہ کھیلنے جائے تو معلوم ہو کہ کہاں ہے۔ اسے لینے اور واپس لانے کا بندوبست ہو۔ چند منٹ کی غیر معمولی تاخیر کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ بچوں کو جسمانی حدود کی عمر کے مطابق تربیت دی جائے۔ انہیں یہ اعتماد دیا جائے کہ اگر کوئی شخص انہیں ڈرائے، غلط انداز سے چھوئے، کوئی بات راز رکھنے کو کہے، تصویر یا ویڈیو بنائے تو وہ فوراً ماں باپ کو بتا سکتے ہیں اور انہیں ڈانٹ نہیں پڑے گی۔

آیت نور کا انصاف صرف چند افراد کو سزا ملنے کا نام نہیں ہونا چاہیے۔ آیت نور کا انصاف یہ ہے کہ اس مقدمے کا آخری کردار، آخری رابطہ، آخری نمبر، آخری آلہ اور آخری سوال بھی جانچا جائے۔

اگر بابر نواز خان کا خدشہ غلط ہے تو تفتیش اسے غلط ثابت کر دے۔

اگر خفیہ انٹرنیٹ کا کوئی تعلق نہیں تو سائنسی معائنہ اسے خارج کر دے۔

اگر کوئی پانچواں، چھٹا یا پس پردہ کردار نہیں تو شواہد یہ بات واضح کر دیں۔

لیکن اگر کہیں کوئی ایسی کڑی موجود ہے جسے ابھی تک چھوا ہی نہیں گیا تو اسے تلاش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

کیونکہ پانچ سالہ آیت نور اب خود بول نہیں سکتی۔

اس کے زخم سوال بن چکے ہیں۔

اور ان سوالوں کا جواب دینا پولیس، تفتیشی اداروں، عدالت اور ریاست سب پر قرض ہے۔

تنویر اعوان

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قرۃ العین حیدر
  • خوشبو کی کوئی منزل نہیں
  • موتیوں کا دیس قطر
  • ڈیڈی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
تنویر اعوان

اگلی پوسٹ
حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں
پچھلی پوسٹ
تقوی کی اعلی مثال

متعلقہ پوسٹس

عِشق حقیقی

جنوری 21, 2020

کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے...

ستمبر 29, 2025

بڑے گھر کی بیٹی

دسمبر 10, 2019

نعرہ

نومبر 15, 2016

کب ہمارے خیال ملتے ہیں

دسمبر 8, 2025

یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ

اکتوبر 14, 2025

عزت کے لیے

جنوری 21, 2020

نقاب رخ پہ لیئے آپ مسکراتے ہیں

دسمبر 8, 2025

میرا بچہ

مارچ 22, 2020

حقیقی حفاظت

جنوری 9, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اعداد و شمار میں نہیں تھے

دسمبر 7, 2025

کبھی تو دیکھیں وصال آنکھیں

دسمبر 8, 2025

منافقت سے بھری محبت

اکتوبر 12, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں