خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرنئے دور کی چالبازیاں
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرحافظ مظفر محسن

نئے دور کی چالبازیاں

حافظ مظفر محسن کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020 1 تبصرہ 562 مناظر
563

نئے دور کی چالبازیاں 

دنیا میں سب زیادہ جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ ہے ’’سوری‘‘۔۔۔ حالانکہ یہ لفظ محاورۃً استعمال ہوتا ہے۔ عملی طور پر نہ کوئی کسی سے ’’سوری‘‘ کرتا ہے نہ ہی آج کے دور میں کوئی کسی کو معاف کرنے کی پوزیشن میں ہے کسی کا دل جلا دو۔۔۔ کسی کو رُلا دو۔۔۔ ’’سوری‘‘ کر لو اور بس۔۔۔ بوسیدہ۔۔۔ زہریلی دوائیاں مریضوں کو کھلا دو اور اُن کو موت کے منہ میں پہنچا دو اور پھر ’’سوری‘‘ کر لو ۔۔۔ بات ختم۔۔۔ یہی نہیں گدھے کا گوشت کھلا دو، کیمیکل ملا دودھ پلا دو۔۔۔ سوری۔۔۔ ویری سوری ۔۔۔
استاد کمر کمانی کہتا ہے کہ ’’سوری‘‘ سے بھی زیادہ جو لفظ دنیا میں مُستعمل ہے وہ ہے ’’حرامی‘‘۔۔۔ لیکن یہ لفظ زیادہ تر انگلش بولنے والے بوزن “BASTARD” بولتے ہیں۔ اوسطاً ہر انگریز نے دوسرے انگریز کو زندگی میں اک بار ضرور ’’حرامی‘‘ کہا ہو گا اور سنا ہو گا۔۔۔ سنا ہے انگریز یہ لفظ سن کر چپ رہتے ہیں۔ بس جواب میں ہماری معروف اداکارہ ’’میرا‘‘ کی طرح۔۔۔ آہستہ سے کہہ ڈالتے ہیں۔۔۔ ’’سیم ٹویو‘‘ Same to You۔۔۔ یہاں اُن کی سیم ٹو یو سے مراد۔۔۔ مثبت۔۔۔ منفی تائثر۔۔۔ ہم اس کام میں مداخلت نہیں کر سکتے۔۔۔ یعنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں یا دکھ کا یہ ابھی تک ایسا معمہ ہے جو حل نہیں سکا۔۔۔ میرا بھی اُنھیں Bastard کہنے کو دل چاہتا ہے جنہوں نے ہمیں گدھے وغیرہ ۔۔۔ وغیرہ کا گوشت کھلا ڈالا اور سوری بھی نہیں کیا۔۔۔ ویسے جہاں ضمیر مردہ ہو چکا ہو وہاں Bastard کہہ لیں۔۔۔ ’’حرامی‘‘ کہہ لیں ۔۔۔ کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔کیا گالی اپنے اصل معنوں میں استعمال ہوتی ہے یا محاورۃً۔۔۔ اس بحث کا صدیوں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔۔۔ سنا ہے انسان گالی اُس وقت نکالتا ہے جب اُس کے پاس دلیل ختم ہو جائے۔۔۔ یا وہ دلیل نہ دینے کی پوزیشن میں ہو۔۔۔ یا پھر ’’موڈ‘‘ میں ہو اور اس کیفیت میں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔۔۔ یعنی ۔۔۔ کہہ دے۔۔۔ ہاں کھلایا ہے گدھے کا گوشت۔۔۔ کر لو جو کرنا۔۔۔
وہ پرانا لطیفہ تو آپ نے سن رکھا ہو گا۔۔۔ جی ہاں۔۔۔ آپ نے صحیح پہچانہ۔۔۔ وہی طوطے والا جو گزرتے ہوئے ’’ٹام‘‘ کو روزانہ ’’حرامی‘‘ کہہ کر چھیڑتا اور جب ’’ٹام‘‘ سڑک سے پتھر اٹھا کے مارنے لگتا تو وہ ’’حرامی۔ حرامی‘‘ کہتا اڑ جاتا۔ ’’ٹام‘‘ نے جب مالک سے شکایت کی تو اُس نے طوطے کو بہت برا بھلا کہا۔۔۔ اگلے دن جب ’’ٹام‘‘ گزرا تو طوطا چپ رہا۔۔۔ دس قدم جا کے ’’ٹام‘‘ نے واپس مڑ کے دیکھا تو طوطا مسکرا رہا تھا۔۔۔ ’’ٹام‘‘ نے پھر پتھر اٹھا کے طوطے کو مارا۔۔۔ کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ در حقیقت طوطا کیا کہہ چکا ہے۔۔۔ ایسے طوطوں سے اُن لوگوں کا پالا پڑتا ہے جو چھوٹی چھوٹی بات سے چڑتے ہیں۔۔۔ ہائی بلڈ پریشر کے اس دور میں ایسے ’’مریضوں‘‘ کی تعداد میں کہیں زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔۔۔ یقین نہ آئے تو شیشہ دیکھ لیں۔۔۔
ویسے ہر رنگ و نسل کی روایات کی طرح ہر زبان والا اپنی زبان کی لاج رکھتا ہے اور فخر سے خوشی محسوس کرتے ہوئے گالی دینے کے لیے اپنی مادری زبان ہی استعمال کرنا پسند کرتا ہے۔۔۔ عرب دنیا میں تیس پینتیس سال پہلے جانے والے پنجابی۔۔۔ عرب بچوں کو پنجابی گالیاں یہ سوچ کر سکھاتے کہ یہ عرب آپس میں لڑتے ہوئے پنجابی گالیوں کا آزادانہ استعمال کریں گے اور فلاح پائیں گے یا گالی وہ دیں گے مزہ ہم پائیں گے اور پھر آپ کو پتہ ہی ہے ’’چل چھیاں چھیاں چھیاں چھیاں۔۔۔ چل چھیاں چھیاں‘‘ لیکن اُن پاکستانیوں کو دکھ اُس وقت ہوا جب اُن عرب بچوں نے وہ ’’گالیاں‘‘ الٹا اُن پاکستانیوں پر ہی استعمال کرنا شروع کر ڈالیں جنہوں نے وہ گالیاں سکھائی تھیں۔۔۔ یہاں وہ تاریخی محاورہ فٹ بیٹھتا ہے۔۔۔ لینے کے دینے پڑ گئے۔۔۔ اور پاکستانیوں نے ڈر کے کہا۔۔۔ میاں اپنی اپنی لڑائیاں لڑو۔۔۔ ہمیں بیچ میں مت ڈالو۔۔۔
انسان گالی کیوں دیتا ہے۔۔۔ جی آپ نے ٹھیک فرمایا یہ اُن انگریزوں سے پوچھنا چاہیے جو ’’حرامی‘‘ کہتے نہیں تھکتے ’’حرامی‘‘ سنتے نہیں تھکتے۔۔۔ میری مراد پھر وہی یعنی “BASTARD” ہے ویسے کسی مصروف چینل کی میزبان کو چاہیے کہ وہ اہم ترین مسئلہ پر روشنی ڈالنے کے لیے دو گھنٹے کا لائیو “Live” پروگرام کر ڈالے۔۔۔ بہتر ہے گدھے کا گوشت کھلانے والوں کو سامنے کھڑا کیا جائے اور عوام کو ’’فری ہینڈ‘‘ دے کر حساب بے باک کرنے کا موقع ملے۔۔۔
استاد کمر کمانی فرماتا ہے کہ گالی صرف وہی نہیں جو پنجابی یا پشتو میں دی جائے۔۔۔ یا ۔۔۔ لی جائے۔۔۔ گالی تو۔۔۔ یہ بھی ہے کہ آپ کسی دشمن کو کتا نہ کہیں۔۔۔ ’’میر جعفر‘‘ کہہ دیں۔۔۔ ’’میر صادق‘‘ کہہ دیں یا آپ ۔۔۔ کہہ دیں (آپ سمجھ گئے ہیں ناں) مقصد تو انسان کو ’’چوٹ‘‘ لگانا ہے ناں ۔۔۔ پسینو پسین کرنا ہے۔۔۔ وہ چوٹ پنجابی/ پشتو میں دی گئی گالی سے بھی لگ سکتی ہے اور ۔۔۔ ’’میر جعفر۔۔۔ میر صادق‘‘ کہہ ڈالنے سے بھی۔۔۔ دوسری برائیوں کی طرح کچھ اور ایسی ہی برائیاں بھی ہمارے ہاں بڑی تیزی سے سرائیت کر چکی ہیں۔۔۔
میں اکثر غور کرتا ہوں کہ کیا ہم (اگر سر پر آن پڑے)۔۔۔ بغیر گالی نکالے لڑائی مکمل کر سکتے ہیں یا کیا دنگا فساد یا لڑائی بغیر گالیوں کے پایہء تکمیل تک پہنچ سکتی ہے۔۔۔ دل نہیں مانتا کیونکہ جب بھی ہم نے لڑائی ہوتے دیکھی ہے۔۔۔ اندازہ ہوا کہ عام گفتگو جب گالیوں میں منتقل ہوتی ہے تو پھر گندگی سے ہٹ کر لفنگی میں چلی جاتی ہے اور معاملہ گلی سے محلے میں اور محلے سے تھانے منتقل ہو جاتا ہے۔۔۔ وہاں کام گیا تو سمجھو سب گئے کام سے۔۔۔ وہاں تو کچھ ’’ایسے‘‘ بھی بیٹھے ہوتے ہیں جنہوں نے گالیاں نکالنے میں پی۔ایچ۔ڈی کی ہوتی ہے۔۔۔
فہیم انور چغتائی نے اس ’’دنیا کے سب سے اہم ترین معاملہ‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔۔۔
کہ گالی کو بہت زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔ ’’گالی‘‘ کے اندرونی معنی دینے والا جانتا ہے یا لینے والا۔۔۔ ایک بندہ بیک وقت بہت سے لوگوں کو گالیاں دے سکتا ہے۔۔۔ آجکل سب کو گالیاں انفرادی نہیں اجتماعی طور پر دی جا رہی ہیں نہ یقین آئے تو جب ساڑھے آٹھ بجے لوڈ شیڈنگ ہو تو۔۔۔ اپنے کانوں سے سن لیں۔۔۔ جو کچھ لوگ بے چاری ’’واپڈا‘‘ کی شان میں کہتے ہیں۔۔۔ جب بیچ دوپہر ٹرین کا انجن فیل ہو جائے تو کسی جنگل میں ’’ریلوے‘‘ والے بھی گالیاں سمیٹ لیتے ہیں اور ’’پولیس‘‘ ۔۔۔ توبہ توبہ بہتر ہے آپ مجھ سے اس وقت زیادہ ’’فری‘‘ نہ ہوں۔۔۔ ’’پولیس‘‘ جانے یا عوام جانیں۔۔۔ ابھی تو ہم پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی طرف نہیں جا رہے۔۔۔ وہاں تو کئی کئی بار محض گالی کی وجہ سے کارروائیاں حذف کرنا پڑیں۔۔۔ پتہ چلتا ہے کہ عورت مرد اکثریت پارلیمنٹ میں من مرضی کی گالی بول سکتے ہیں۔۔۔ بیان کر کے داد سمیٹ سکتے ہیں۔۔۔ بس مشکل یہ ہے کہ اُس فری سٹائل گفتگو کی ریکارڈنگ عوام کو نہیں سنوائی جا سکتی ۔۔۔
پہلی گالی کس نے کس کو دی۔۔۔ کب دی اور کیوں دی۔۔۔ ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔۔۔ یہ تاریخ میں کوئی نہیں بتا پائے گا۔۔۔ ’’گوگل‘‘ پر ’’سرچ‘‘ کر کے دیکھتا ہوں ۔۔۔ اگر کوئی نتیجہ سامنے آیا تو آپ کو بتاؤں گا۔۔۔؟؟

حافظ مظفر محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہر دن ماں کا دن
  • موذی
  • زندگی کی سب سے بڑی خواہش
  • فرزانہ رانی اور ہرنیلہ کی گپ شپ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میری آوارگی
پچھلی پوسٹ
میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے​

متعلقہ پوسٹس

قرآن میں جنگ کے احکام

دسمبر 6, 2025

پاکستان : مذہب اور سیاست کا سفر

فروری 6, 2026

اقبالِ جرم

فروری 15, 2023

دامِ محبت

جنوری 7, 2023

روپا

فروری 14, 2022

کچرا بابا

نومبر 22, 2019

سعادت حسن منٹو

مئی 11, 2020

پانی کی گڑیا

مارچ 9, 2020

سیر عدم

جنوری 16, 2026

تقی کاتب

جنوری 28, 2020

1 تبصرہ

حافظ مظفر محسن نومبر 16, 2023 - 10:47 صبح

جی جی

جواب دیں

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صبر کرنے والوں کے ساتھ

دسمبر 22, 2024

27ویں ترمیم اور وفاقی آئینی عدالت

نومبر 11, 2025

ٹرین ایپ کی داستان

جنوری 10, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں