خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےپانی کی گڑیا
اردو افسانےاردو تحاریرمیمونہ احمد

پانی کی گڑیا

از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2020
از سائیٹ ایڈمن مارچ 9, 2020 0 تبصرے 104 مناظر
105

پانی کی گڑیا

حمیدہ حمیدہ وہ حمیدہ کی گردان پڑھتے ہوئے جلد ی جلدی دروازے سے داخل ہو تی ہو ئی سیدھی حمیدہ کے گھر کے صحن میں پہنچ گئی، کیا ہوا شبنم ؟خیریت ! تم بڑی جلد ی میں آئی ہو، سب ٹھیک ہے نا ! ہاں ری حمیدہ سب ٹھیک ہے لیکن تم نے دیکھا وہ اپنی رانیا ہے نا انھوں نے نیا گھر بنو الیا ہے،قسم سے کیا بتاؤں اتنا پیارا گھر بنوا لیا ہے ان لوگوں نے ! جب اللہ کسی کے دن پھیرتا ہے تو اس کی روشنی ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے، ہاں بالکل شبنم تم ٹھیک کہتی ہو، میں نے کل دیکھا تھا جا کے میں تو رانیا کو مبارک باد بھی دے کے آئی تھی،اچھا مجھے ابھی بتا دیا ہوتا تو اکٹھے چلے جاتے اور میں بھی مبارک باد دے آتی، ہاں تو پھر کیا ہو ا میں پھر تمھارے ساتھ چل پڑوں گی یہ تو رہا ساتھ والی گلی میں ان کا گھر ۔ ٹھیک ہے پھر، لیکن ایک با ت ہے رانیا نے جتنی غربت دیکھی اور صبر کیا اللہ نے اس کا اجر دنیا ہی میں دے دیا ہے۔ہاں بات تو شبنم تمھاری ٹھیک ہے، مجھے یا د ہے جب وہ اس محلے میں شادی کرا کے آئی تھی تو اس کا خاوند صرف ایک درزی تھا پھر کتنی محنت کی دونوں میاں بیوی نے اب دیکھو ایک فیکٹری بنا لی اور اس کی بیٹی دیکھی تم نے شبنم اپنی ما ں جیسی ہی سمجھ دار ابھی نو سال کی ہی تو ہے لیکن ایمان سے بہت سمجھ دار ہے، شبنم نے بھی اس کی ہا ں میں ہا ں ملائی،اچھا حمیدہ اب جا تی ہوں بس تمہیں یہی بتانے آئی تھی،بچے آ گئے ہوں گے سارے سکول سے ،تالا دیکھے گے تو پریشان ہو جائیں گے، اچھا ٹھیک ہے جا و۔
رانیا جو تیرا سال پہلے اس سلطانیہ محلے میں بیاہ کر آئی تھی وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی، پھر اس کے ماں با پ نے اس کی شادی بھی اپنے جیسے خاندان میں ہی کر دی تھی،قربان علی جو ایک درزی تھا کپڑے سیتا تھا اور کپڑے سی کر ہی روز مرہ کی ضروریات پورا کر لیا کرتا تھا، لیکن اب رانیا کی ذمہ داری بھی اسی پر تھی تو وہ زیا دہ کا م کر تا تھا تاکے اپنی بیو ی کی ذمہ داری بھی پوری کرسکے، اتفاق ایسا ہوا کے رانیا بھی کپڑے سینے میں ماہر تھی اور اپنے میکے میں مشہور تھی اس حوالے سے، لیکن ایک خواہش تھی اس کے دل میں جو وہ کبھی اپنی زبان پر نہ لا ئی تھی لیکن کبھی وہ خواہش بڑی شدت سے جا گتی تھی لیکن وہ اس خواہش کا گلا دبا دیتی تھی یہ خواہش اس کے بچپن سے ہی اس کے ساتھ بڑی ہو گی تھی لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وہ کبھی اس خواہش کو لفظ نہیں دیتی تھی، (جانے کیا ہو)
ایک دن جب قربان علی گھر آیا تو اس نے قربان علی سے بات کی کے وہ بھی دن میں فارغ ہو تی ہے وہ بھی کپڑے سی لیا کرئے گی،قربان علی کہنے لگا رانیا بڑی محنت ہو تی ہے اس میں اور تم گھر کا بھی کا م کر تی ہو اور پھر اگر کپڑے سینا تم نے شروع کر دئیے تو تم بیمار ہو جا و گی، نہیں ہوتی میں بیمار اس بہانے مصروف بھی رہوں گی اور آپ کے کام بھی آ جا ؤں گی،چلو جیسے تمھاری مرضی لیکن اپنی صحت سے زیادہ کام نہ کرنا۔ٹھیک ہے وہ جواب دیتی ہے !
کام کرتے کر تے دونوں میاں بیوی کو پورے تین سال ہو گئے ان تین سالوں میں دونوں نے خوب محنت کی شا ئد اس کی وجہ سے ان کی دوکان ڈبل ہو گئی تھی اور خوب مشہور ہوتی جا ری ہے ان تین سالوں میں ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہو چکی تھی جس کا نا م دونوں نے خوب سوچ بچار کر کے چاندنی رکھ دیا۔ان کا خاندان مکمل ہو گیا تھا وہ دونوں اپنے رب کے بہت شکر گزار تھے اور رہتے تھے، لیکن اپنی چاندنی کے لیے انھوں نے اور زیادہ محنت کرنا شروع کر دی وہ چا ہتے تھے کے ان کی چاندنی ضرور پڑھ لکھ جائے، وہ اگر پڑھے لکھے نہیں ہیں تو کیا ہے ان کی بیٹی تو ضرور ہو گی، قربان علی ایک اچھا انسان ہے، جو اپنے رشتوں کو بہت احترام کر تا ہے اسی طرح وہ اپنی بیوی کے حقوق بھی اسی طرح خیال رکھتا ہے جیسے اس کی بیوی اس کا خیال رکھتی ہے۔
رانیا اپنی بیٹی کے لیے سکول دیکھنے جانے والی ہے کیوں کہ آج اس کی بیٹی پورے چھ سال کی ہو گئی ہے وہ سوچ رہی تھی حمیدہ یا شبنم کی طرف چلی جائے کیوں کہ ان کے بچے بھی اچھے سکولوں میں پڑھتے ہیں وہ ابھی یہ سوچ رہی تھی کہ حمیدہ اور شبنم دونوں گھر میں داخل ہوئی اور اسلام کر نے کے باد گھر کی مبارک باد دی، خیر مبارک حمیدہ اور شبنم، میں ابھی یہ ہی سوچ رہی تھی کے تم لوگوں کی طر ف ہو آؤں،چلو تم دونوں آ گئی ہو یہ اور بھی اچھا ہوا ہے۔
کیا با ت ہے رانیا، حمیدہ مجھے چاندنی کا داخلہ کرانا ہے کسی اچھے سے سکول سے تم بتا و کون سے سکول میں کرا دوں ؟ ارے یہ میری بیٹیاں جس سکول میں پڑھتی ہیں اس میں داخل کرا دو ! ہاں یہ ٹھیک رہے گا، چلو میری ایک پریشانی تو کم ہو گی،اب کتابیں کاپیاں کل لے آؤں گی چاندنی کے ابو کے ساتھ جا کے ! انشاء اللہ۔ہماری ضرورت پڑے تو رانیا ہمیں بلا لینا ہم بھی تمھارے ساتھ چل پڑے گے، بہت شکریہ آپ لوگ تو ہمیشہ ہمارے کا م آتے ہیں، ارے رانیا یہ کیا بات ہو ئی تم بھی تو ہمارا ساتھ دیتی ہے، نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہوتا ہے اور تمھارے کرم جیسے ہیں ویسا ہی پھل تم پا رہی ہو۔ارے حمیدہ تم تو بہت تعریف کر رہی ہو حالانکہ تعریف کے قابل تو صرف اللہ پاک کی ذات ہے ہم لوگوں کو وہ نیکی کے قابل سمجھتا ہے تو کر نے کی توفیق دے دیتا ہے بھلا اس میں ہمارا کیا کمال۔!
بات تو ٹھیک ہے تمھاری،اب ہم لو گ جاتے ہیں پھر کبھی چکر لگائے گے۔ضرور ضرور آنا ! رانیا نے خوشدلی سے جواب دیا۔
رانیا اور قربان علی کی بیٹی اب پورے نو سال کی ہو گئی ہے اور آج وہ اپنی ما ں یعنی کے رانیا سے ضد کر رہی ہے کہ اسے بازار جانا ہے جانے سے نے کیا بازار میں دیکھا جو آج وہ اتنا ضد کر رہی تھی امی چلیں نا ابو امی سے کہیے کے مجھے بازار لے کر چلیں اگر آج بازار نہیں گئے تو وہ چیز جو میں نے پسند کی ہے وہ کو ئی اور لے جائے، ارے رانیا لے جا و نے ہماری لاڈلی کو کتنے عرصے بعد تو کسی چیز کے لیے ضد کر رہی ہے،ٹھیک ہے جا تی ہوں رانیا نے قربان علی کی طرف خفگی سے دیکھا !
چلو چاندنی بیٹا اب کتنی دیر لگا رہی ہو تم ساری دوکانیں تم نے چھا ن ماری ہیں ا ب تک نہیں ملی تمھاری پسندیدہ چیز تو پھر کبھی آ کرے لے لینا۔ نہیں امی مجھے آج ہی لینی ہے کل سکول سے آتے ہوئے ہی تو یہی کہیں کسی دوکان پر دیکھی تھی۔ آپ یہاں اس کر سی پر بیٹھ جاؤ میں وہ سامنے والی دوکان پر دیکھتی ہوں ٹھیک ہے، تھوڑی دیر بعد چاندنی کی خوشی بھری آواز سنائی دیتی ہے،امی جلدی سے آؤؤ دیکھو مجھے مل گئی ہے، کیا مل گئی ہے؟ وہ بہت عجلت میں اُٹھتی ہے اور چاندنی کے پاس پہنچ جاتی ہے چاندنی اپنی ما ں کا ہا تھ پکڑ کر شیشے والی الماری کے سامنے لے جا تی ہے،رانیا جب شیشے کے اندر رکھی ہو ئی اس سبز آنکھوں والی گڑیا کو دیکھتی ہے جس کے سنہری بال ہوتے ہیں جس کو ایک کانچ کے شوپیس کے اندر پانی میں رکھا تھا۔ وہ پانی کی گڑیا جس کی خواہش کبھی اس نے بچپن میں کی تھی جو خواہش کبھی پوری نہیں ہو ئی جو اس کے ساتھ ساتھ بڑی ہو تی گئی آج اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا یہ وہی ویسی ہی پانی کی گڑیا تھی جس کے بارے میں گڑیا والا کہتا تھا۔!
پانی کی گڑیا نہ چلتی ہے نہ پھرتی
پانی کے گھر میں رہتی ہے
کانچ کے دروازوں سے بنا
اس کا پانی کا گھر
پانی کی گڑیا۔۔۔۔
یا اللہ یہ ما جرا کیسا ہے جس گڑیا کے بارے میں اس گڑیا والے نے بتا یا تھے کہ اس جیسی گڑیا دنیا میں اب نہیں بنائے گا کیوں کہ اس گڑیا کو بنا نے والا اس کو بنا نے کے بعد چل بسا تھا یہ وہ خاص وجہ تھی اس گڑیا کی جس کی وجہ سے رانیا کے دل سے اس گڑیا کا خیال جاتا ہی نہیں تھا۔ آج اپنی بیٹی کے لیے وہ پانی کی گڑیا خرید کر جا رہی تھی کیوں کہ اس کی بیٹی کی تو یہ دو دن کی خواہش تھی لیکن وہ تو ایک زمانے سے یہ خواہش لیے بیٹھے تھی۔

میمونہ احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قلم کا سفر
  • میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 4 آخری)
  • سوری رانگ نمبر
  • تاریکی میں ڈوبتی دنیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
پچھلی پوسٹ
آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے

متعلقہ پوسٹس

وارسا کی شرارتی دیویاں – دوسری قسط

جنوری 20, 2025

انخلاء

مئی 18, 2020

مزاح نگاری کا پہلا سبق

مئی 25, 2024

ٹھنڈا گوشت

اکتوبر 25, 2019

میرا بچہ

مارچ 22, 2020

سفیرِ ادب

اپریل 9, 2026

دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے

جون 29, 2020

راز داں

مارچ 21, 2020

صدیوں سے عورت کی زبوں حالی!!

ستمبر 7, 2021

ریشم کی مہک

دسمبر 5, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نسوانیت کا استحصال

مئی 18, 2024

سوشل میڈیا کے فائدے اور نقصانات

مارچ 28, 2022

جسوندر سنگھ بھلا کی یاد میں

اگست 22, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں