خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےدیکھ کبیرا رویا
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

دیکھ کبیرا رویا

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن فروری 3, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 3, 2020 0 تبصرے 622 مناظر
623

دیکھ کبیرا رویا

نگر نگر ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ جو آدمی بھیک مانگے گا اس کو گرفتار کرایا جائے۔ گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ لوگ خوشیاں منانے لگے کہ ایک بہت پرانی لعنت دور ہو گئی۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لوگوں نے پوچھا۔ اے جولاہے تو کیوں روتا ہے؟ کبیر نے رو کر کہا۔

’’کپڑا جو چیزوں سے بنتا ہے۔ تانے اور پیٹے سے۔ گرفتاریوں کا تانا تو شروع ہو گیا پر پیٹ بھرنے کا پیٹا کہاں ہے؟‘‘

ایک ایم اے۔ ایل ایل بی کو دو سو کھڈیاں الاٹ ہو گئیں۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایم اے۔ ایل ایل بی نے پوچھا۔

’’اے جولاہے کے بچے تو کیوں روتا ہے؟۔ کیا اس لیے کہ میں نے تیرا حق غصب کرلیا ہے؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا۔

’’تمہارا قانون تمہیں یہ نکتہ سمجھاتا ہے کہ کھڈیاں پڑی رہنے دو، دھاگے کا جو کوٹا ملے اسے بیچ دو۔ مفت کی کھٹ کھٹ سے کیا فائدہ۔ لیکن یہ کھٹ کھٹ ہی جولاہے کی جان ہے!‘‘

چھپی ہوئی کتاب کے فرمے تھے۔ جن کے چھوٹے بڑے لفافے بنائے جا رہے تھے۔ کبیر کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے وہ تین لفافے اٹھائے اور ان پر چھپی ہوئی تحریر پڑھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لفافے بننے والے نے حیرت سے پوچھا۔

’’میاں کبیرتم کیوں رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔

’’ان کاغذوں پر بھگت سُورداس کی کویتا چھپی ہے۔ لفافے بنا کر اس کی بے عزتی نہ کرو۔ ‘‘

لفافے بنانے والے نے حیرت سے کہا۔

’’جس کا نام سُورداس ہے۔ وہ بھگت کبھی نہیں ہوسکتا۔ ‘‘

کبیر نے زار و قطار رونا شروع کردیا۔ ایک اونچی عمارت پر لکشمی کا بہت خوبصورت بت نصب تھا۔ چند لوگوں نے جب اسے اپنا دفتر بنایا تو اس بُت کو ٹاٹ کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔ دفتر کے آدمیوں نے اسے ڈھارس دی اور کہا۔

’’ہمارے مذہب میں یہ بت جائز نہیں۔ ‘‘

کبیر نے ٹاٹ کے ٹکڑوں کی طرف اپنی نمناک آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’خوبصورت چیز کو بدصورت بنا دینا بھی کسی مذہب میں جائز نہیں۔ ‘‘

دفتر کے آدمی ہنسنے لگے۔ کبیر ڈھاریں مار مارکر رونے لگا۔ صف آرا فوجوں کے سامنے جرنیل نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔

’’اناج کم ہے، کوئی پروا نہیں۔ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ کوئی فکر نہیں۔ ہمارے سپاہی دشمن سے بھوکے ہی لڑیں گے۔ ‘‘

دو لاکھ فوجیوں نے زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔ کبیر چلا چلا کے رونے لگا۔ جرنیل کو بہت غصہ آیا۔ چنانچہ وہ پکار اٹھا۔

’’اے شخص، بتا سکتا ہے، تو کیوں روتا ہے؟‘‘

کبیر نے رونی آواز میں کہا۔

’’اے میرے بہادر جرنیل۔ بھوک سے کون لڑے گا۔ ‘‘

دو لاکھ آدمیوں نے کبیر مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردیے۔

’’بھائیو، داڑھی رکھو مونچھیں کترواؤ اور شرعی پاجامہ پہنو۔ بہنو، ایک چوٹی کرو، سرخی سفیدہ نہ لگاؤ، برقع پہنو!‘‘

۔ بازار میں ایک آدمی چلا رہا تھا۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ چلّانے والے آدمی نے اور زیادہ چلّا کر پوچھا۔

’’کبیر تو کیوں رونے لگا؟‘‘

کبیر نے اپنے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا۔

’’تیرا بھائی ہے نہ تیری بہن، اور یہ جو تیری داڑھی ہے۔ اس میں تو نے وسمہ کیوں لگا رکھا ہے۔ کیا سفید اچھی نہیں تھی۔ ‘‘

چلّانے والے نے گالیاں دینی شروع کردیں۔ کبیر کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ ایک جگہ بحث ہورہی تھی۔

’’ادب برائے ادب ہے۔ ‘‘

’’محض بکواس ہے، ادب برائے زندگی ہے۔ ‘‘

’’وہ زمانہ لد گیا۔ ادب، پروپیگنڈے کا دوسرا نام ہے۔ ‘‘

’’تمہاری ایسی کی تیسی۔ ‘‘

’’تمہارے اسٹالن کی ایسی کی تیسی۔ ‘‘

’’تمہارے رجعت پسند اور فلاں فلاں بیماریوں کے مارے ہوئے فلابیئر اور بادلیئر کی ایسی کی تیسی‘‘

کبیر رونے لگا بحث کرنے والے بحث چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ ایک نے اس سے پوچھا۔

’’تمہارے تحت الشعور میں ضرور کوئی ایسی چیز تھی جسے ٹھیس پہنچی۔ ‘‘

دوسرے نے کہا۔

’’یہ آنسو بورژوائی صدمے کا نتیجہ ہیں۔ ‘‘

کبیر اور زیادہ رونے لگا۔ بحث کرنے والوں نے تنگ آکر بیک زبان سوال کیا۔

’’میاں، یہ بتاؤ کہ تم روتے کیوں ہو؟‘‘

کبیر نے کہا۔

’’میں اس لیے رویا تھا کہ آپ کی سمجھ میں آجائے، ادب برائے ادب ہے یا ادب برائے زندگی۔ ‘‘

بحث کرنے والے ہنسنے لگے۔ ایک نے کہا۔

’’یہ پرولتاری مسخرہ ہے۔ ‘‘

دوسرے نے کہا۔

’’نہیں یہ بورژوائی بہروپیا ہے۔ ‘‘

کبیر کی آنکھوں میں پھر آنسو آگئے۔ حکم نافذ ہو گیا کہ شہر کی تمام کسبی عورتیں ایک مہینے کے اندر شادی کرلیں اور شریفانہ زندگی بسر کریں۔ کبیر ایک چکلے سے گزرا تو کسبیوں کے اڑے ہوئے چہرے دیکھ کر اس نے رونا شروع کردیا۔ ایک مولوی نے اس سے پوچھا۔

’’مولانا۔ آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘

کبیر نے روتے ہوئے جواب دیا

’’اخلاق کے معلّم ان کسبیوں کے شوہروں کے لیے کیا بندوبست کریں گے‘‘

مولوی کبیر کی بات نہ سمجھا اور ہنسنے لگا۔ کبیر کی آنکھیں اور زیادہ اشک بار ہو گئیں۔ دس بارہ ہزار کے مجمع میں ایک آدمی تقریر کررہا تھا۔

’’بھائیو۔ بازیافتہ عورتوں کا مسئلہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا حل ہمیں سب سے پہلے سوچنا ہے اگر ہم غافل رہے۔ تو یہ عورتیں قحبہ خانوں میں چلی جائیں گی۔ فاحشہ بن جائیں گی۔ سن رہے ہو، فاحشہ بن جائیں گی۔ تمہارا فرض ہے کہ تم ان کو اس خوفناک مستقبل سے بچاؤ اور اپنے گھروں میں ان کے لیے جگہ پیدا کرو۔ اپنے اپنے بھائی، یا اپنے بیٹے کی شادی کرنے سے پہلے تمہیں ان عورتوں کو ہرگز ہرگز فراموش نہیں کرناچاہیے۔ کبیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ تقریر کرنے والا رُک گیا۔ کبیر کی طرف اشارہ کرکے اس نے بلند آواز میں حاضرین سے کہا۔

’’دیکھو اس شخص کے دل پر کتنا اثر ہوا ہے۔ ‘‘

کبیر نے گلو گیر آواز میں کہا۔

’’لفظوں کے بادشاہ، تمہاری تقریر نے میرے دل پرکچھ اثر نہیں کیا۔ میں نے جب سوچا کہ تم کسی مالدار عورت سے شادی کرنے کی خاطر ابھی تک کنوارے بیٹھے ہو تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ‘‘

ایک دکان پر یہ بورڈ لگا تھا۔

’’جناح بوٹ ہاؤس۔ ‘‘

کبیر نے اسے دیکھا۔ تو زار و قطار رونے لگا۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کٹ مرا ہے۔ بورڈ پر آنکھیں جمی ہیں اور روئے جارہا ہے۔ انھوں نے تالیاں بجانا شروع کردیں۔

’’پاگل ہے۔ پاگل ہے!‘‘

ملک کا سب سے بڑا قائد چل بسا تو چاروں طرف ماتم کی صفیں بچھ گئیں۔ اکثر لوگ بازوؤں پر سیاہ بلے باندھ کر پھرنے لگے۔ کبیر نے یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سیاہ بلّے والوں نے اس سے پوچھا۔

’’کیا دکھ پہنچا جو تم رونے لگے؟‘‘

کبیر نے جواب دیا۔

’’یہ کالے رنگ کی چندیاں اگر جمع کرلی جائیں تو سینکڑوں کی سترپوشی کرسکتی ہیں۔ ‘‘

سیاہ بلّے والوں نے کبیر کو پیٹنا شروع کردیا۔ تم کمیونسٹ ہو، ففتھ کالمسٹ ہو۔ پاکستان کے غدار ہو۔ ‘‘

کبیر ہنس پڑا۔

’’لیکن دوستو، میرے بازو پر تو کسی رنگ کا بلّا نہیں۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فیوڈل فینٹسی
  • ایک خط لکھنا ہے !
  • عدم برداشت
  • محبت، روح اور بنکاک کا سفر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دودا پہلوان
پچھلی پوسٹ
دیوالی کے دِیے

متعلقہ پوسٹس

رئیس امروہوی | رئیس شہر سخن

جولائی 31, 2022

قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے

اکتوبر 20, 2019

EPA کا مضحکہ خیز حکم نامہ

اکتوبر 2, 2025

نئے سال کے تقاضے اور کامیابی کی حکمت عملی

دسمبر 30, 2025

سیاسی سنگ میل میں خاص دن

اکتوبر 12, 2025

مارچ میں مارچ

مارچ 8, 2021

مقصد ِحیات

جون 27, 2022

جھُوٹی کہانی

فروری 5, 2023

آج کا دجالی دور

مئی 4, 2025

دوسرا بوسہ

مئی 12, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صحرائے گوبی کا طلسم

مئی 3, 2020

کافی

دسمبر 7, 2019

اللہ کو بھولنے سے لے کر...

نومبر 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں