خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسچ سامنے آنے لگا ہے
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

سچ سامنے آنے لگا ہے

از سائیٹ ایڈمن اگست 31, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 31, 2026 0 تبصرے 1 مناظر
2

نئی صدی کے شروع ہوتے ہی انسانی تاریخ کا دھارا ایک ایسے موڑ پر آ لگا جہاں دنیا کی سیاست، باہمی تعلقات اور سوچ کے انداز یکسر بدل گئے۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کا دن وہ ہولناک لمحہ تھا جب دنیا کی بڑی معاشی اور عسکری طاقت کے قلب پر حملہ ہوا، جس نے ایک ہی پل میں پوری دنیا کو دنگ کر کے رکھ دیا۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں کے ذہنوں میں جو سوالات اٹھے، وہ حکومتی ایوانوں کی طرف سے ملنے والے روایتی اور گھسے پٹے جوابات سے ہرگز حل نہ ہو سکے۔ اسی خلاء نے اس گہری سوچ کو جنم دیا کہ یہ سانحہ محض کسی خفیہ ایجنسی کی ناکامی نہیں تھا، بلکہ ایک سوچی سمجھی چال تھی جسے کسی بڑے مقصد کے تحت خود ترتیب دیا گیا تھا۔ اس تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ حادثہ وہ طے شدہ بہانہ تھا جس کی آڑ میں عالمی نقشے کو بدلنا، دنیا کے بچے کچھے وسائل پر قبضہ جمانا، اور مغربی دنیا کی اجارہ داری کو ایک نئے دشمن کی طرف موڑنا مقصود تھا۔ جب معاشرے کو ایک بہت بڑے خطرے سے ڈرا دیا جائے، تو حکمرانوں کے لیے یہ آسان ہو جاتا ہے کہ وہ شہریوں کی نجی زندگیوں میں دخل اندازی کریں، ان کی آزادیوں پر قدغنیں لگائیں اور دنیا بھر میں ایسی جارحانہ پالیسیاں نافذ کریں جو ایک نئے عالمی نظام کے خواب کو پورا کرتی ہوں۔

اس پوری کھیل کا سب سے بڑا اور ہدف بنایا جانے والا نشان اسلام اور دنیا بھر کے مسلمان بنے، جن کی پوری تہذیب کو دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کے ساتھ اس طرح پیش کیا گیا گویا وہ جدید ترقی، روشن خیالی اور جمہوریت کے دشمن ہوں۔ میڈیا، سیاسی تقاریر اور سرکاری پالیسیوں کے ذریعے مسلمانوں کے بارے میں ایک ایسا منفی اور یک طرفہ تاثر عام کیا گیا جس نے ان کی صدیوں پرانی تاریخ، تہذیب اور معاشی حقیقتوں کو پسماندگی اور دہشت گردی کے خانے میں قید کر دیا۔ اس زہریلے پروپیگنڈے کی بنیاد پر دنیا بھر میں جنگوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ایشیا کے کئی خودمختار ملکوں کو خاکستر کر دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مبہم اور لچکدار نعرے تلے افغانستان، عراق، لیبیا، شام، سوڈان اور صومالیہ جیسے ممالک کو یا تو براہ راست فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا یا پھر وہاں اندرونی خانہ جنگی اور معاشی ناکہ بندیوں کے ذریعے تباہی پھیلائی گئی۔ صدیوں پرانی تہذیبوں اور شہروں کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا گیا، کروڑوں انسانوں کو دربدر کر دیا گیا، اور یہ سب کچھ مغرب کے عام عوام کو خوفزدہ کر کے اور ان کے اندر حب الوطنی کا جذبہ ابھار کر کیا گیا، تاکہ کوئی سوال نہ اٹھا سکے۔

ان تمام اقدامات کا سب سے خطرناک اور دور رس نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر میں اسلام دشمنی یعنی اسلامو فوبیا کو باقاعدہ ایک پالیسی کے طور پر اپنا لیا گیا اور اسے معاشرے کا معمول بنا دیا گیا۔ سرکاری بیانیے اتنے گہرے سرایت کر گئے کہ فلموں، خبروں، قوانین اور روزمرہ کے میل جول میں مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ چاہے وہ مغرب میں رہنے والی اقلیتیں ہوں یا اپنے ہی دیس میں بسنے والی اکثریت، ہر مسلمان کو اجتماعی گناہ کا مجرم ٹھہرایا جانے لگا۔ مساجد، تعلیمی اداروں اور عام انسانوں پر کڑی نظر رکھی جانے لگی، جبکہ باہر کے ملکوں میں جو کچھ ہو رہا تھا اس پر پردہ ڈال دیا گیا۔ یہ نفرت اور شک کا ماحول اس یک قطبی دنیا کو چلانے کے لیے ناگزیر بن چکا تھا، جہاں اتنے بڑے دفاعی بجٹ اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے ایک مستقل دشمن کی ضرورت تھی۔ کئی سالوں تک کسی میں یہ جرات نہیں تھی کہ وہ اس سرکاری کہانی پر انگلی اٹھائے یا ان جنگوں پر سوال کرے، اور جو بھی ایسا کرتا اسے معاشرے سے کاٹ دیا جاتا اور غدار قرار دے دیا جاتا۔

تاہم، تاریخ کبھی بھی صرف طاقتوروں کے لکھے ہوئے فسانوں پر نہیں رکتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جھوٹی عمارت میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ سالہا سال کی لامتناہی جنگوں، معاشی بدحالی اور ان تباہ کن مداخلتوں کے جو بھیانک نتائج سامنے آئے، انہوں نے عام لوگوں کی آنکھیں کھول دیں۔ اب صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مغربی معاشروں کے اندر رہنے والے عام غیر مسلم شہری بھی اس سچائی کو سمجھنے لگے ہیں۔ محققین، ایماندار صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور عام لوگ اس گہرے تعلق کو صاف دیکھنے لگے ہیں جو حکومتوں کی پالیسیوں اور دنیا بھر میں پیدا ہونے والے پناہ گزینوں کے بحرانوں کے درمیان موجود ہے۔ اس بیداری نے اس جھوٹ کے پرخچے اڑا دیے ہیں جن پر نو گیارہ کے بعد کی سیکیورٹی ریاستیں کھڑی کی گئی تھیں۔ آج مغرب کے اندر بھی ایسے باشعور لوگوں کی آواز بلند ہو رہی ہے جو اس تعصب کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں، اور وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف یہ نفرت کوئی فطری تہذیبی تصادم نہیں تھا، بلکہ طاقت کے بھوکے حکمرانوں کا ایک ایسا سیاسی ہتھیار تھا جسے انہوں نے دنیا کو جھکانے اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے استعمال کیا۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گلوبل وارمنگ اور آج کی ماں
  • کپاس کا پھول
  • سید علی شاہ گیلانی کا ورثہ
  • پچھتاوا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نہیں خزاں ہی نشان قاتل
پچھلی پوسٹ
نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

متعلقہ پوسٹس

صرف ایک مچھر۔۔۔۔ صرف ایک شاہد مسعود

جنوری 26, 2018

یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے

فروری 20, 2026

میر صاحب کا زندہ عجائب گھر

مئی 27, 2024

عورت کی کہانی

مارچ 3, 2018

حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ

اگست 26, 2025

عشق در پردہ

جنوری 2, 2025

جشن میلادِ النبیﷺ:نئے معاہدے کی ضرورت!

اکتوبر 21, 2021

جنت الحمقاء

جنوری 16, 2026

مسخرہ

فروری 5, 2022

غریب اور عید

اپریل 26, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیا ہم فوج کے بغیر رہ...

مئی 12, 2026

ماں کو حنوط کرنا

مئی 14, 2024

ہم اس کے سامنے حسن و...

جنوری 12, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں