خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرعورت کی کہانی
اردو تحاریراردو کالمزکشور ناہید

عورت کی کہانی

ایک اردو کالم از کشور ناہید

از سائیٹ ایڈمن مارچ 3, 2018
از سائیٹ ایڈمن مارچ 3, 2018 0 تبصرے 579 مناظر
580

عورت کی کہانی

ماضی کی یادیں، مجھے کبھی دہلا دیتی ہیں۔ ہمارے زمانے میں ریڈیو ٹی وی پر مشاعرے ہوتے تھے تو فہرست میں آخری نام میرا یا امجد کا ہوتا تھا۔ اب عالم یہ ہے کہ ہم لوگ صدارت کی کرسی پر بیٹھتے ہیں۔ بالکل ہمارے زمانے میں جسٹس کارنیلس، جسٹس کیانی اور جسٹس دراب پٹیل اور وکیلوں میں اعجاز بٹالوی، اقبال حیدر اور عاصمہ جہانگیر وہ لوگ تھے جو ہمارے مقدمے بلا کم و کاست لڑتے اور ہماری حفاظت کرتے تھے۔ اب ہمارے پاس صرف اعتزاز احسن اور رضا ربانی رہ گئے ہیں۔ ویسے تو حنا کو اللہ سلامت رکھے اور نئی آنے والی وکیلوں کو بھی کہ وہ عاصمہ سے بہت کچھ سیکھ چکی ہیں، اب ہمیں عابد منٹو کی زندگی کی دعا کرنی چاہیے۔

عورت چاہے وکیل ہو کہ کسی بھی شعبے میں جس میں بھٹہ مزدور بھی شامل ہیں، اس کی زندگی میں شادی کے بعد ایک مرحلہ آتا ہے کہ اسے حمل ٹھہرتا ہے۔ سوائے بیگمات کے، کہ ان کے نخرے ہی نرالے ہوتے ہیں، ساری گھریلو سے لے کر مزدور عورتیں، پورے نو مہینے گھر سے دفتر تک کام کرتے گزارتی ہیں اور بیشتر کی زندگی میں بچہ پیدا ہونے والا دن، چھٹی کا پہلا دن ہوتا ہے۔ جو مشترکہ خاندانی نظام میں تو وہ چھٹی بس ایک ہفتے پر مشتمل ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں نوکری پیشہ خواتین کو چھ ہفتے پہلے اور چھ ہفتے بچے کی پیدائش کے بعد چھٹی ملتی ہے۔ باقی ساری مغربی دنیا میں عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد، تین ماہ اور اس کے بعد اس کے شوہر کو تین ماہ کی چھٹی ملتی ہے۔ سکنڈ نیوین ممالک میں تو میاں بیوی بیک وقت چھ ماہ اور کبھی یکے بعد دیگرے ایک سال تک بچے کی نشوونما کے لیے چھٹی پر رہ سکتے ہیں۔

پاکستان میں ملازم عورتوں کو دفتروں میں بھی لوگ کہنے سے نہیں چوکتے کہ کیاایسی حالت میں گھوم رہی ہو، ہمیں تو دیکھ کر ہی شرم آتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بی بی بے نظیر آخری مہینے تک جلسے کرتی رہتی تھیں، لاہور میں تو جب وہ سیڑھی پر چڑھ رہی تھیں تو ہم سب عورتیں ان کی اور بچے کی زندگی کی دعائیں کررہی تھیں۔ وہ جب بطور وزیراعظم بلاول کو گود میں لیے جہاز سے کسی مغربی ملک میں اتری تھیں تو وہاں کی ساری عورتوں اور اخبارات نے تحسین لکھی تھی۔ دنیا بھر کے عظیم مصوروں نے حاملہ عورتوں کی تصویر اس لیے بنائی ہیں کہ ان کے بقول خاتون بچے کی پیدائش سے پہلے بہت خوب صورت لگتی ہے۔

جانوروں میں خاص کر مورنی، اپنے بچے کے پاس ایک ماہ تک نہیں آنے دیتی ہے کہ وہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اپنا کونہ تلاش کرکے وہاں بیٹھ جاتی ہے۔ ہم لوگ پریگننسی میں جب ریڈیو ٹی وی اور دفتروں کو جاتے تھے تو سارے مرد، اس کو شرم ناک حرکت کہتے تھے، اب بھی کون سا زمانہ بدل گیا ہے۔ یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ جب عورت لڑکی کو جنم دے تو وہ مسکراہٹ ان کے پاس نہیں آتی جو بیٹوں کے لیے، سینہ تان کے ان کو کھڑا کرتی ہے۔

نصرت جاوید کی دو بیٹیاں ہیں، مریانہ بابر کی بھی دو بیٹیاں ہیں، بی بی بینظیر اور عاصمہ جہانگیر کی بھی دو بیٹیاں ہیں، اللہ ان سب کو اور اقبال حیدر، اصغر ندیم سید کی بھی دو بیٹیوں کو سلامت رکھے کہ اب زندگی گزار کر سب سمجھ رہے ہیں کہ بیٹے تو چاہے ملک میں رہیں کہ غیرممالک چلے جائیں، وہ اپنے خاندان سے اکثر ماں باپ کو خارج کردیتے ہیں۔ بہت سے ایدھی ہوم یا اولڈ پیپلز ہوم میں چھوڑ جاتے ورنہ مزید گستاخ تو سڑک کے کسی کونے میں باپ یا ماں کو چھوڑ کر اپنے گھر کی جنت کی سمت چلے جاتے ہیں۔ بہت عزت کریں گے تو نوکر کے پچھواڑے کمرے میں ڈال دیں گے۔البتہ صبح شام سلام کرنے کی حاضری لگانے والے بھی بہت دیکھے ہیں۔

دفتروں، عدالتوں اور بازاروں میں بھی حاملہ خاتون کو طرح طرح کے جملے سننا پڑتے ہیں۔ یہ بھی ہمارے ملکوں خاص کر مسلمان ملکوں کا وطیرہ ہے۔ یوکرین ہو کہ دیگر غریب ممالک وہاں تو عورت کی کوکھ کرائے پر دستیاب ہے۔ دودھ پلائی رکھنے کی رسم تو ابھی تک ہمارے جاگیردار گھرانوں میں رائج ہے۔ یہ جو ہمارے ملکوں میں کہا جارہا ہے کہ گروسٹیٹ بچے پیدا کیے گئے، وہ اس طرح کہ کرائے کی کوکھ سے بچے لیے جاتے ہیں۔ اس غربت پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ تو قابل توجہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔

اب جبکہ ساری دنیا میں شور مچا ہے کہ پاکستان میں ہر 22 بچوں میں سے ایک بچہ فوت ہوجاتا ہے۔ اس طرح بار بار کہا جارہا ہے کہ ماں بچے کی حفاظت کی جائے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ نہ کوئی شادی سے پہلے کا کوئی مشورہ کلینک ہے اور نہ بعد کے لیے۔ اگر کوئی شروع کرے تو کہا جائے گا یہ تو بے شرمی کی بات ہے۔اب جبکہ ہر روز تین چار بچوں کے ساتھ زیادتیوں کی خبریں آرہی ہیں تو کچھ میڈیا نے بھی ناصحانہ قسم کے اشتہار دینے شروع کیے ہیں۔ فکر کیا کریں، انڈیا کی ایک لڑکی کی آنکھ مارتے ہوئے تصویر کیا وائرل ہوئی کہ ابھی کل سے ہی اشتہاروں میں بھی لڑکیاں آنکھ مار رہی ہیں۔

کچھ سبق ہم برادر ملک کے کھلتے ہوئے بیوٹی پارلرز سے لگالیں۔ اپنے گزشتہ فوجی سربراہ کے ڈانس ہی کو دیکھ لیں۔ ہمارے ملک خاص کر، کے پی میں ہر شہر میں گانے والی کو گولی ماری جارہی ہے۔ ابھی ہمیں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت ملی ہے، عورت کو بھی بمشکل تین ماہ کی مہلت ملتی ہے کہ پھر وہ حاملہ ہوجاتی ہے۔ پھر بچے کیوں نہ مریں۔

کشور ناہید

روزنامہ جنگ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خط اور انتظار
  • ایک بار الکشن میں
  • لہروں پر ڈولتی زندگی
  • بے غرض محسن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
پچھلی پوسٹ
اللہ دتا

متعلقہ پوسٹس

تلاش

مارچ 24, 2026

ہم کہیں کے نہ رہے!

فروری 21, 2026

صوفے پر ایک لمحہ

دسمبر 11, 2024

عالمِ برزخ سے

جنوری 9, 2020

چچا چھکن نو چندی دیکھنے چلے

اگست 9, 2022

میرا جسم میری مرضی

مارچ 10, 2020

زیرو سے ہیرو تک کا سفر!

دسمبر 26, 2025

محبتوں كی سفیر شاعرہ

جنوری 21, 2020

حصار ذات

اکتوبر 14, 2025

مشینوں کے عہد میں انسان

اگست 13, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرِ کریک

اکتوبر 5, 2025

اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر

جنوری 5, 2022

نفرت

نومبر 3, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں