خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامطلبہ کی زندگی اور ہماری ذمہ داری
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

طلبہ کی زندگی اور ہماری ذمہ داری

از سائیٹ ایڈمن جنوری 6, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 6, 2026 0 تبصرے 65 مناظر
66

یونیورسٹی آف لاہور میں حالیہ دنوں پیش آنے والے افسوسناک واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ چند ہفتے قبل محمد اویس سلطان نامی ایک D‑Pharmacy طالب علم نے یونیورسٹی کی عمارت سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی، اور تازہ ترین واقعہ میں ایک 21 سالہ طالبہ نے مبینہ طور پر دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئی ہے۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر کیمپس بند کر کے کلاسز آن لائن منتقل کر دی ہیں۔ یہ دونوں واقعات محض انفرادی سانحات نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کے اندر چھپے ایک گہرے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ واضح ہونا چاہیے کہ مسئلہ کسی ایک طالب علم کی کمزوری یا جذباتی غیر استحکام کا نہیں بلکہ ایک نظامی ناکامی کا ہے جو نوجوان ذہنوں کے دباؤ کو سنبھالنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ ان سانحاتuniversity of lahore کی تاریخ اور حالات یہ بتاتے ہیں کہ ایک ہی تعلیمی ادارے اور ایک ہی مقام پر بار بار ایسے واقعات کا پیش آنا محض اتفاق نہیں بلکہ خطرے کی گھنٹی ہے جو انتظامیہ، والدین اور سماج سب کو متنبہ کر رہی ہے۔

آج کے طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ امتحانات کا خوف، نمبروں کی دوڑ، خاندانی توقعات، بھاری فیس، مستقبل کی غیر یقینی صورتحال اور روزگار کی فکر ان کی زندگی کا حصہ ہیں۔ سوشل میڈیا اور سماجی مقابلہ بازی کی وجہ سے طلبہ اکثر اکیلاپن اور ذہنی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک نظر آنے والا خوش چہرہ اکثر اندر سے گہرے صدمے اور اضطراب کا مظہر ہوتا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کیمپس میں موجود کونسلنگ سروسز واقعی فعال اور مؤثر ہیں یا محض کاغذی کارروائی تک محدود ہیں۔ کیا طلبہ کو ایسا محفوظ ماحول میسر ہے جہاں وہ بغیر کسی خوف اور شرمندگی کے اپنی ذہنی کیفیت بیان کر سکیں۔ ایسے حساس مقامات پر حفاظتی انتظامات کی کمی انتظامی غفلت کی واضح مثال ہے۔ طلبہ نے اس معاملے پر شفاف تحقیقات، بہتر کونسلنگ خدمات، اور کیمپس سیفٹی کے لیے آواز بلند کی ہے۔

اساتذہ کا کردار بھی اس بحران میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک استاد صرف نصاب پڑھانے کا ذمہ دار نہیں بلکہ ایک رہنما اور سرپرست بھی ہوتا ہے۔ اساتذہ کو طلبہ کی ذہنی کیفیت پہچاننے اور بروقت ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ ایک استاد کی ہمدردانہ بات کسی طالب علم کی زندگی بچا سکتی ہے اور اسے اندھیرے سے روشنی کی طرف لا سکتی ہے۔

والدین اور معاشرے کا رویہ بھی اس بحران میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کامیابی کو نمبروں اور ڈگریوں تک محدود کرنا، ناکامی کو جرم سمجھنا، اور بچوں سے مکالمہ ختم کرنا نوجوانوں کو احساس جرم اور بے بسی میں دھکیل دیتا ہے۔ والدین اور سماج کو یہ سمجھنا ہو گا کہ نوجوان کی ذہنی صحت اور خوشحالی کامیابی سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

حکومتی سطح پر محض بیانات اور انکوائری کمیٹیاں کافی نہیں ہیں۔ ماہرین ذہنی صحت کے مطابق تعلیمی اداروں میں پریونٹیو کونسلنگ، ذہنی صحت یونٹس اور پیشگی سپورٹ سسٹم لازمی طور پر قائم ہونے چاہئیں۔ قانون کے تحت جامعات کو ذمہ دار ٹھہرانا اور مستقل نگرانی یقینی بنانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

طلبہ کے مطالبات بالکل جائز ہیں۔ وہ ذہنی صحت سہولیات، مفت اور خفیہ کونسلنگ، محفوظ کیمپس اور فعال ہیلپ لائنز چاہتے ہیں۔ یہ کسی اضافی سہولت کا معاملہ نہیں بلکہ بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ اگر تعلیمی ادارے یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو وہ نہ صرف تعلیمی بلکہ انسانی ذمہ داری میں بھی ناکام ہیں۔

میڈیا کا کردار بھی اس سارے منظرنامے میں کلیدی ہے۔ خبر کو خبر رہنے دینا، سنسنی خیزی سے گریز کرنا اور مثبت آگاہی اور حل پر توجہ دینا ذمہ دار صحافت کی پہچان ہے۔ سنسنی خیزی نوجوانوں اور والدین میں غیر ضروری خوف پیدا کرتی ہے اور مسئلے کے حقیقی حل سے توجہ ہٹاتی ہے۔

یہ سانحات ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں دینے کے لیے نہیں بلکہ نوجوانوں کی زندگیوں کے محافظ بھی ہیں۔ خاموشی سب سے خطرناک رویہ ہے، اور اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو یہ خاموشی مستقبل میں مزید جانیں نگل سکتی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ نظامی اصلاحات، والدین کی آگاہی، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کے مطالبات اور حکومت کی پالیسی سب مل کر ایک مضبوط سپورٹ نیٹ ورک قائم کریں، تاکہ کوئی اور نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی لمحے ضائع نہ کرے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سیلاب کے زخم اور کیمروں کا تماشہ
  • کنگ پوش
  • گرہ کھلنے تک کا تنقیدی جائزہ
  • یادیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جب دیکھنا تو آنکھ کے اُس پار دیکھنا
پچھلی پوسٹ
انسان کے اندر مثبت و منفی قوتیں

متعلقہ پوسٹس

چراغ حسن حسرت

مارچ 29, 2025

عشق کینہ ور کی آگ

جنوری 12, 2020

نیا عزم اورپرانی یادیں- نیا سال مبارک ہو

جنوری 8, 2026

موجودہ صدی: نسل انسانی کے مٹ جانے کاخدشہ؟

دسمبر 10, 2021

بے اختیار، بے بس،مجبور

مئی 4, 2020

مفت سم کارڈز فراڈ

اکتوبر 29, 2025

مسکرائیں

جون 17, 2025

عطر کافور

جون 15, 2020

منظروں کی ڈھیری پر شام کا بسیرا ہے

جون 3, 2020

اگائیں کیسے یقین آنکھیں

دسمبر 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صحرائے گوبی کا طلسم

مئی 3, 2020

تنہائی، فطرت اور خود شناسی

دسمبر 1, 2024

ایک ایسی سوچ

جنوری 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں