خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامدورِ حاضر میں ادب کی افادیت اور معاشرتی تشکیل
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزپیر انتظار حسین مصور

دورِ حاضر میں ادب کی افادیت اور معاشرتی تشکیل

از پیر انتظار حسین مصور مارچ 7, 2026
از پیر انتظار حسین مصور مارچ 7, 2026 0 تبصرے 104 مناظر
105

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرتی جمود یا فکری بانجھ پن نے سماج کو اپنی لپیٹ میں لیا، تو ادب نے ہی وہ واحد طاقتور ہتھیار ثابت کیا جس نے جہالت کی تاریکیوں کو چیر کر ہدایت کی راہ دکھائی۔ آج کے مشینی اور تیز رفتار دور میں، جہاں انسان ٹیکنالوجی کی چکا چوند میں اپنی اصل شناخت کھو رہا ہے، وہاں ادب کی اہمیت محض تفریح یا فرصت کے لمحات کا مشغلہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاشرتی ضرورت بن چکی ہے۔ ایک ایسا لکھاری جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ آج کا سب سے بڑا چیلنج اخلاقی زوال اور فکری انتشار ہے۔
معاشرے میں پھیلی بے چینی اور عدم برداشت دراصل اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے لفظ کی حرمت اور مطالعے کی لذت سے ناتا توڑ لیا ہے۔ ایک سچا قلم کار جب لکھتا ہے، تو وہ محض صفحات سیاہ نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے معاشرے کی ان تلخ حقیقتوں کو آئینہ دکھا رہا ہوتا ہے جنہیں ہم دیکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ ادب، معاشرت اور مذہب کا ایک ایسا حسین امتزاج ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم تنگ نظری کی بند گلیوں سے نکل کر وسعتِ نظر کی شاہراہوں پر گامزن ہو سکتے ہیں۔
ادب کی اسی طاقت کا ایک زندہ ثبوت حبیب جالب کا وہ لازوال گیت ہے جو فلم ‘زرقا’ کے لیے لکھا گیا تھا۔ جب ایک فنکارہ، نیلو کو ایک طاقتور آمر کے سامنے رقص کرنے پر مجبور کیا گیا، تو حبیب جالب کے قلم نے اس ظلم کے خلاف جو احتجاج ریکارڈ کروایا، وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ ان کے قلم سے نکلے الفاظ: ‘رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے’ محض ایک گیت نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا ادبی و فکری ہتھیار تھا جس نے جبر کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جب ایک لکھاری کا قلم ضمیر کی آواز بن جائے، تو وہ کسی بھی طاقت سے زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔ نیلو کے اس کردار اور جالب کے کلام نے یہ باور کرایا کہ فن صرف تفریح کا نام نہیں، بلکہ یہ مظلوم کی ڈھال اور ظالم کے خلاف ایک خاموش مگر کاری ضرب ہے۔ آج کے دور کے لکھاریوں کو اس واقعے سے یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ادب جب نظریے اور سچائی کے ساتھ جڑتا ہے، تو وہ نسلوں کی سوچ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آج کے دور میں ادب کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ قاری کو ایک ایسی ذہنی و قلبی دنیا سے متعارف کرواتا ہے جہاں مسلکی تعصبات اور فرقہ وارانہ بحثوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ادب کا مقصد ہی انسانیت کی تعمیر ہے۔ جب ہم کسی کلاسیکی شاہکار کا مطالعہ کرتے ہیں یا کسی جدید فکری تحریر پر غور کرتے ہیں، تو ہم دراصل ایک ایسے مکالمے کا حصہ بنتے ہیں جو صدیوں سے انسان کو انسان بنانے کے لیے جاری ہے۔ یہ مکالمہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تنقید کا مفہوم کسی کی ذات پر حملہ کرنا نہیں بلکہ کسی خیال کو علمی کسوٹی پر پرکھنا ہے۔
ہمارا معاشرہ اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف مغربیت کا طوفان ہے تو دوسری طرف فرسودہ روایات کا بوجھ۔ اس کشمکش میں ادب ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہمیں ماضی کے تابناک ورثے سے جوڑتا ہے اور مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فکری قوت دیتا ہے۔ ادب معاشرت کا ترجمان ہوتا ہے۔ اگر ہمارے ادب میں سچائی، حسن اور خیر کا پہلو نمایاں ہوگا، تو یقیناً معاشرے میں بھی بہتری آئے گی۔
اس سلسلے میں "سلام اردو” جیسے پلیٹ فارمز کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ یہ ویب سائٹ آج کے دور میں ایک ایسی "ادبی پناہ گاہ” بن چکی ہے جہاں قاری بلا کسی مسلکی یا فرقہ وارانہ تعصب کے علم حاصل کر سکتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ادب، معاشرت اور مذہب کے مابین ایک علمی ہم آہنگی پیدا کر رہا ہے، جو معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے ایک بہترین کاوش ہے۔ ایسے اداروں کی سرپرستی اور یہاں لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قلم کی حرمت کو سمجھیں۔ لکھنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر لفظ ایک ذمہ داری ہے۔ ہم جو بھی لکھیں، وہ کسی کی دل آزاری، انتشار یا فساد کا باعث نہ بنے۔ ہمیں ایسی تحریریں تخلیق کرنی ہوں گی جو قاری کے دل میں محبت کا بیج بوئیں اور اس کے ذہن میں شعور کے چراغ روشن کریں۔
یاد رکھیے کہ قلم کار کا اصل جہاد یہی ہے کہ وہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر شعور کی روشنی تک لے آئے۔ یہ کام نہ صرف ایک ادبی فریضہ ہے بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم ایسی تحریریں تخلیق کریں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کریں۔ جب ایک لکھاری معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے، تو وہ تنہا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ انسانیت کی وہ تمام اقدار ہوتی ہیں جو ہمیشہ سے حق و صداقت کی علمبردار رہی ہیں۔
آئیے، آج ہم عہد کریں کہ اپنے قلم کو صرف اور صرف انسانیت، علم، اور اخلاقی سربلندی کے لیے استعمال کریں گے۔ کیونکہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی کائنات کا سب سے افضل ترین جہاد ہے اور ادب اس جہاد کا سب سے پر اثر ہتھیار۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پانی کے آئینے میں قید دیوی
  • سکون کی تلاش
  • پرگتی
  • ضرورتاں دے پیالیاں وچ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
پیر انتظار حسین مصور

اگلی پوسٹ
خاموش قربانی کا پہرہ
پچھلی پوسٹ
اخلاقی زوال

متعلقہ پوسٹس

جب انتظار کی شامیں بنانی پڑتی ہیں

فروری 17, 2026

بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

مئی 15, 2026

بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟

جولائی 13, 2022

رضیہ بٹ :شہر میں جو ہے سوگوار ہے آج

اگست 9, 2022

وہ ہجرتیں تھیں کہ دھکے دیئے گئے

جون 2, 2026

اردوان اور سامراجی قوت

نومبر 18, 2019

سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے

جنوری 11, 2026

چھوٹی چھوٹی مگر اہم باتیں

جون 6, 2026

اخلاقی روایات کی پائمالی

مئی 13, 2020

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گل ریگزار پریشہ اور اس کا...

اگست 16, 2021

انڈا، سیاہی اور جوتا

ستمبر 6, 2025

دو سیاح

جنوری 11, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں