انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرتی جمود یا فکری بانجھ پن نے سماج کو اپنی لپیٹ میں لیا، تو ادب نے ہی وہ واحد طاقتور ہتھیار ثابت کیا جس نے جہالت کی تاریکیوں کو چیر کر ہدایت کی راہ دکھائی۔ آج کے مشینی اور تیز رفتار دور میں، جہاں انسان ٹیکنالوجی کی چکا چوند میں اپنی اصل شناخت کھو رہا ہے، وہاں ادب کی اہمیت محض تفریح یا فرصت کے لمحات کا مشغلہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاشرتی ضرورت بن چکی ہے۔ ایک ایسا لکھاری جو معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ آج کا سب سے بڑا چیلنج اخلاقی زوال اور فکری انتشار ہے۔
معاشرے میں پھیلی بے چینی اور عدم برداشت دراصل اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے لفظ کی حرمت اور مطالعے کی لذت سے ناتا توڑ لیا ہے۔ ایک سچا قلم کار جب لکھتا ہے، تو وہ محض صفحات سیاہ نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے معاشرے کی ان تلخ حقیقتوں کو آئینہ دکھا رہا ہوتا ہے جنہیں ہم دیکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ ادب، معاشرت اور مذہب کا ایک ایسا حسین امتزاج ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم تنگ نظری کی بند گلیوں سے نکل کر وسعتِ نظر کی شاہراہوں پر گامزن ہو سکتے ہیں۔
ادب کی اسی طاقت کا ایک زندہ ثبوت حبیب جالب کا وہ لازوال گیت ہے جو فلم ‘زرقا’ کے لیے لکھا گیا تھا۔ جب ایک فنکارہ، نیلو کو ایک طاقتور آمر کے سامنے رقص کرنے پر مجبور کیا گیا، تو حبیب جالب کے قلم نے اس ظلم کے خلاف جو احتجاج ریکارڈ کروایا، وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ ان کے قلم سے نکلے الفاظ: ‘رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے’ محض ایک گیت نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا ادبی و فکری ہتھیار تھا جس نے جبر کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جب ایک لکھاری کا قلم ضمیر کی آواز بن جائے، تو وہ کسی بھی طاقت سے زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔ نیلو کے اس کردار اور جالب کے کلام نے یہ باور کرایا کہ فن صرف تفریح کا نام نہیں، بلکہ یہ مظلوم کی ڈھال اور ظالم کے خلاف ایک خاموش مگر کاری ضرب ہے۔ آج کے دور کے لکھاریوں کو اس واقعے سے یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ادب جب نظریے اور سچائی کے ساتھ جڑتا ہے، تو وہ نسلوں کی سوچ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آج کے دور میں ادب کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ قاری کو ایک ایسی ذہنی و قلبی دنیا سے متعارف کرواتا ہے جہاں مسلکی تعصبات اور فرقہ وارانہ بحثوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ادب کا مقصد ہی انسانیت کی تعمیر ہے۔ جب ہم کسی کلاسیکی شاہکار کا مطالعہ کرتے ہیں یا کسی جدید فکری تحریر پر غور کرتے ہیں، تو ہم دراصل ایک ایسے مکالمے کا حصہ بنتے ہیں جو صدیوں سے انسان کو انسان بنانے کے لیے جاری ہے۔ یہ مکالمہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تنقید کا مفہوم کسی کی ذات پر حملہ کرنا نہیں بلکہ کسی خیال کو علمی کسوٹی پر پرکھنا ہے۔
ہمارا معاشرہ اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف مغربیت کا طوفان ہے تو دوسری طرف فرسودہ روایات کا بوجھ۔ اس کشمکش میں ادب ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہمیں ماضی کے تابناک ورثے سے جوڑتا ہے اور مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فکری قوت دیتا ہے۔ ادب معاشرت کا ترجمان ہوتا ہے۔ اگر ہمارے ادب میں سچائی، حسن اور خیر کا پہلو نمایاں ہوگا، تو یقیناً معاشرے میں بھی بہتری آئے گی۔
اس سلسلے میں "سلام اردو” جیسے پلیٹ فارمز کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ یہ ویب سائٹ آج کے دور میں ایک ایسی "ادبی پناہ گاہ” بن چکی ہے جہاں قاری بلا کسی مسلکی یا فرقہ وارانہ تعصب کے علم حاصل کر سکتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ادب، معاشرت اور مذہب کے مابین ایک علمی ہم آہنگی پیدا کر رہا ہے، جو معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنے کے لیے ایک بہترین کاوش ہے۔ ایسے اداروں کی سرپرستی اور یہاں لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قلم کی حرمت کو سمجھیں۔ لکھنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر لفظ ایک ذمہ داری ہے۔ ہم جو بھی لکھیں، وہ کسی کی دل آزاری، انتشار یا فساد کا باعث نہ بنے۔ ہمیں ایسی تحریریں تخلیق کرنی ہوں گی جو قاری کے دل میں محبت کا بیج بوئیں اور اس کے ذہن میں شعور کے چراغ روشن کریں۔
یاد رکھیے کہ قلم کار کا اصل جہاد یہی ہے کہ وہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر شعور کی روشنی تک لے آئے۔ یہ کام نہ صرف ایک ادبی فریضہ ہے بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم ایسی تحریریں تخلیق کریں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کریں۔ جب ایک لکھاری معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے، تو وہ تنہا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ انسانیت کی وہ تمام اقدار ہوتی ہیں جو ہمیشہ سے حق و صداقت کی علمبردار رہی ہیں۔
آئیے، آج ہم عہد کریں کہ اپنے قلم کو صرف اور صرف انسانیت، علم، اور اخلاقی سربلندی کے لیے استعمال کریں گے۔ کیونکہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی کائنات کا سب سے افضل ترین جہاد ہے اور ادب اس جہاد کا سب سے پر اثر ہتھیار۔
پیر انتظار حسین مصور
