رومن عنوان: Akhlaqi Zawal
اردو عنوان: اخلاقی زوال
ادنیٰ لکھاری پیر انتظار حسین مصور، پیر قلم کی چھاپ
انسان کی پہچان اس کے لباس یا مال و دولت سے نہیں، بلکہ اس کے اخلاق اور کردار سے ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جن اقوام نے اپنے اخلاقی وجود کو کھو دیا، وہ مادی ترقی کے باوجود صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں برقی ذرائع ابلاغ نے ہمیں دنیا سے تو جوڑ دیا ہے، مگر اپنوں سے اور اپنی روایات سے دور کر دیا ہے۔ ابلاغ عامہ کے اس طوفان میں جہاں معلومات کا سیلاب ہے، وہیں اخلاقیات کا قحط بھی نظر آتا ہے۔ ہم ایک ایسی مصنوعی دنیا کے اسیر ہو چکے ہیں جہاں سچائی سے زیادہ "توجہ” کی قیمت ہے، اور اسی کو حاصل کرنے کے لیے ہم ہر حد پار کرنے کو تیار ہیں۔
تیزی سے پھیلتی ہوئی تشہیر کی اس دوڑ نے ہمیں اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ ہم کسی کی پگڑی اچھالنے یا نجی زندگی کو تماشا بنانے میں ذرا برابر بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ سستی شہرت اور محض چند داد و تحسین کے کلمات کے حصول کے لیے جھوٹ، بہتان اور تضحیک کا سہارا لینا اب ایک معمول بن چکا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ "تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں”۔ مگر افسوس، آج ہم اس معیار سے کوسوں دور جا چکے ہیں۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی خوشیوں اور غموں کو بھی ریاکاری اور نمائش کا ذریعہ بنا لیا ہے، جس کی وجہ سے خلوص اور دردمندی جیسے جذبات دم توڑ رہے ہیں۔
نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو اس ہیجانی صورتحال نے انسان کو ایک ایسی بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے جہاں وہ ہر وقت دوسروں کے سامنے خود کو بہتر ثابت کرنے کی لاحاصل کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس دوڑ نے حسد، کینہ اور نفرت جیسے جذبات کو ہوا دی ہے۔ جب ہم کسی کی ناکامی یا کسی کی پوشیدہ زندگی کی تذلیل کر کے خوش ہوتے ہیں، تو دراصل ہم اپنے اندرونی اخلاقی کھوکھلے پن کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں۔ پردہِ سیمیں کے سامنے بیٹھا انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جس کی تذلیل وہ ایک اشارے سے کر رہا ہے، وہ بھی ایک جیتا جاگتا انسان ہے جس کی عزتِ نفس ہوتی ہے۔
اس اخلاقی زوال کی ایک بڑی وجہ تعلیمی اداروں اور گھروں میں تربیت کا فقدان بھی ہے۔ ہم نے بچوں کو مادی علوم کا ماہر بنانا تو سکھا دیا، مگر "انسان” بنانا بھول گئے۔ نصابِ تعلیم سے اخلاقیات کے ابواب غائب ہوتے جا رہے ہیں اور والدین کے پاس اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا وقت نہیں۔ یاد رکھیں، ایجادات بذاتِ خود بری نہیں ہوتیں، ان کا غلط استعمال انہیں فتنہ بناتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو صبر، شکر اور عفو و درگزر کے راستے پر نہ چلایا، تو یہ مادی ترقی انہیں ایک ایسی اندھیر نگری میں لے جائے گی جہاں انسانیت کی کوئی قدر نہیں ہوگی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کریں۔ قلم کاروں، دانشوروں اور خاص طور پر معاشرے میں اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا ایک لفظ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لا سکتا ہے اور تباہی بھی۔ ہمیں سستی شہرت پانے کے بجائے "نافع” (فائدہ مند) ہونے پر توجہ دینی چاہیے۔ اخلاق کا زوال دراصل قوم کا زوال ہے، اور اس زوال کو روکنے کے لیے ہمیں دوبارہ اپنی جڑوں سے جڑنا ہوگا۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں سچائی، امانت اور احترامِ آدمیت کو دوبارہ نافذ کرنا ہوگا، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
طالبِ دعا،
ادنیٰ لکھاری پیر انتظار حسین مصور، پیر قلم کی چھاپ
