خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباچھ بادشاہوں کی گوناگوں داستان!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

چھ بادشاہوں کی گوناگوں داستان!

از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2021
از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2021 0 تبصرے 48 مناظر
49

چھ بادشاہوں کی گوناگوں داستان!
تاریخ ِانسانی میں کئی عظیم ‘ ظالم ترین ‘ قابل تقلید ‘ نشان عبرت بادشاہوں کا ذکر موجود ہے اور پھر مغلیہ تاریخ میں کئی بادشاہ گزرے ہیں‘ لیکن ابتدائی چھ بادشاہ یعنی ظہیر الدین بابر‘ نصیر الدین ہمایوں‘ اکبر‘ نور الدین جہانگیر‘ شاہ جہاں اور محی الدین اورنگ زیب عالمگیر ہر اعتبار سے اہم اور قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے دورانیہ کے کارناموں اور طرزِ حکومت و واقعات کے باعث منفرد اور یادگار ہے۔ ہندوستان کو مخلصانہ اور خوشدلانہ طور پر انہوں نے آراستہ کیا۔ ہر شعبہ ہائے زیست کو جلا بخشی‘ نت نئے نظام روشناس کیے‘ طرزِ حکمرانی میں جدت پیدا کی‘ سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کروائیں‘ باغبانی‘ زراعت‘ مویشی بانی اور پھلوں پھولوں کی باضابطہ کاشت کاری کروانے کے علاوہ بیرون ملک سے تعمیرات‘ باغات‘ دفتری نظام وغیرہ کے ماہرین بلوائے اور عوام کے معیار زندگی کو بلند کردیا۔ ماضی کے دور کے کسی بھی پہلو کی حقیقی عکاسی اور واقعات کے مطالعے کے لیے محکمہ آثار قدیمہ آرکائیوز کے ریکارڈ سب سے زیادہ معتبر اور مستند ماخذ سمجھے جاتے ہیں۔ زندہ قومیں‘ اسلاف سے محبت کرنے والے‘ محققین‘ مورخین اور مصنفین تاریخ نویسی کے لیے اس ادارے سے استفادہ کرتے ہیں۔ مغل دور کے مختلف مدارج اور پہلوؤں پر متعدد معیار ی اور اعلیٰ درجے کی کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور ان کتابوں کی تیاری میں آرکائیوز کے ریکارڈ سے ہی مدد لی گئی لیکن ہنوز ریکارڈاور دستاویزات پر تحقیق ہونی اور کتابیں لکھی جانی ہیں۔
ہندوستان کی تاریخ میں جنوبی ہندوستان کا مردم خیز خطہ دکن صدیوں سے اپنی گوناگوں داستانوں اور صلاحیتوں کے سبب سرفہرست رہا ہے۔ شمالی ہندوستان یعنی دہلی پر حکومت کرنے والے ہر حکمران نے دکن کے علاقے اور لوگوں پر قبضے اور تصرف کو اپنا حق سمجھا اور اس پرحکمرانی کرتے رہے۔ جہانگیر نے بھی اپنے پیشرؤں کی طرح دکن پر کنٹرول رکھا اوراپنے شہزادے خرم (شاہ جہاں) کو وہاں کا گورنر بنا کر بھیجا۔ شہزادہ خرم جواں سال تھا اور اپنی نئی نویلی دلہن ارجمند بانو(جو بعد میں ممتاز محل کہلائی اور تاج محل اسی کی یادگار ہے) کے ساتھ دکن آگیا۔ ارجمند بانو ملکہ نور جہاں کے بھائی آصف خاں کی بیٹی اور نور جہاں کے ایرانی نژاد باپ مرزا غیاث اعتماد الدولہ کی پوتی تھی۔ ارجمند بانو کے بطن سے اورنگ زیب عالمگیر1618ء میں دولت آباد (اورنگ آباد) کے قریب دوحدکے علاقے میں پیدا ہوا تھا۔ اورنگ زیب نے اپنے باپ شاہ جہاں کی نظر میں اس وقت مقام حاصل کرلیا تھا جب چودہ سال کی عمر میں اس نے ایک غضبناک بے قابو ہاتھی کو مجمع میں گھس کر قتل و غارت گری مچانے سے روکنے کے لیے شاہی جھروکے کی بلندی سے چھلانگ لگا کر تلوار کی ایک ضرب سے سونڈ کاٹ کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔ اورنگ زیب نے 1636ء میں اورنگ آباد کے صوبیدار کا منصب سنبھالا اور فوراً ہی یہاں کے مکمل انتظام و انصرام میں جت گیا۔ امن و امان کا قیام اور ملک ملک و قوم کی ترقی و بہبود اس کی اولین ترجیح تھی۔ اٹھارہ سال کی عمر کے باوجود بے حد مدبر‘ منتظم اور باصلاحیت تھا۔ اس کو دکن کے علاقے‘ رہن سہن‘ طرزِ معاشرت‘ عوام کی سادہ لوحی اور بھولپن اور یہاں کے موسموں سے بے حد انسیت تھی اور خود عوام بھی اس کے خوش اطوار‘ سلیقے‘ شائستگی اور اسلامی مزاج کو پسند کرتے تھے۔ یہی وہ عوامل تھے جن کے سبب اورنگ زیب نے اپنی عمر کا ایک طویل حصہ دکن میں گزارا حتی کہ یہیں انتقال کیا اور یہیں پیوند خاک ہونا پسند کیا۔ اس کے مزاج میں رعونت کی بجائے سادگی و ملنساری اور انسانیت کا درد تھا وہ ایجاد پسند اور اختراع پرستی کا حامل تھاجس کے سبب اس کے عہد میں بڑی تعداد میں ایجادات و اصلاحات ہوئیں‘ نئے نئے طریق کار روشناس ہوئے۔ اس نے سب سے زیادہ شاہی ریکارڈ کو محفوظ کرنے اور انہیں تلف ہونے سے بچانے پر توجہ دی کیونکہ سارے کاروبارِ حیات کاغذ پر ہی درج ہوتے تھے‘ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض مورخین نے مغل حکومت کو کاغذی راج Paper Government کا نام دیا ہے۔ اورنگ آباد جغرافیائی وقوع کے اعتبار سے مغل حکومت میں اہمیت رکھتا تھا اور بیشتر کارروائیوں اور سرکاری اقدامات کاباضابطہ ریکارڈ یہیں رہتا تھا اس لیے باقاعدہ تحفظ پر بھرپور توجہ دی گئی۔ اورنگ زیب کے دور ہی میں پہلی بار مضبوط دستی کاغذ Hand Made Paper تیار کیا گیا۔ اس دور میں وہاں دستی کاغذ تیار کرنے کے کارخانے موجود تھے اور یہ کاغذ پائیداری میں شہرت رکھتا تھا یہی سبب ہے کہ صدیوں گزر جانے کے باوجود ان کاغذات کا ریکارڈ اچھی اور درست حالت میں ہے۔
سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کاغذات کی تیاری میں نجانے کون کون سی اشیاء استعمال ہوئی ہیں اور ان پر استعمال ہونے والی روشنائی (Ink) مزید ناقابل فہم ہے۔ کون سی اور کیسی اشیاء اور مصالحے ان کی تیاری میں استعمال ہوئے ہیں یہ آج تک متعدد تجرباتی اور تجزیاتی مراحل کے باوجود سائنس داں اور ماہرین معلوم کرنے میں ناکام ہیں۔ یہ دیرپا‘ لازوال اور نہ مٹنے والی روشنائی کو اس دور کی حیرتناک ایجاد قرار دیا جاسکتا ہے۔ آج کی جدید ترین سہولتوں اور سائنسی ترقیات کے دور میں بھی ایسی روشنائی متعارف نہیں کرائی جاسکی۔ خرم یعنی شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر اور پھر نظام الملک صوبیدار دکن رہے اس وجہ سے زیادہ قدیم ریکارڈیہیں محفوظ تھا۔مغلوں کی عملداری کے خاتمے اور آصف جاہی سلطنت کے باقاعدہ آغاز کے وقت اورنگ آباد اس سلطنت کا ایک حصہ تھا اور قلعہ کے تہہ خانوں میں یہ ریکارڈ محفوظ تھا۔ تقریباً دو صدیوں بعد حیدرآباد دکن کے محکمہ آثار قدیمہ کے دو عہدیداروں مولوی محب الدین اور مولوی خورشید علی کی ذاتی دلچسپی اور توجہ سے 1916ء میں یہ سارا ریکارڈ حیدرآباد دکن کے محکمہ آثارِ قدیمہ میں منتقل اور محفوظ کیا گیا اور یہیں پر پہلی مرتبہ سارے ریکارڈ کی چھان بین‘ درجہ بندی‘ نوعیت‘ کیفیت‘ حالت اور اہمیت کے حساب سے کیٹیگریز بنائی گئیں‘ محنت اور جانچ پڑتال سے ریکارڈ کو صحیح طور پر ترتیب دیا گیا اور سرکاری منظوری اور بجٹ کے الاٹمنٹ کے بعد ہونہار و تجربے کار ماہرین ڈاکٹر ضیاء الدین شکیب‘ ڈاکٹر داؤد اشرف‘ ڈاکٹر ایم اے نعیم اور ڈاکٹر زرینہ پروین کی زیر نگرانی کیٹلاگ بڑی تعداد میں مرتب کرکے شائع کیے جانے پر عوام کو پہلی بار اس عظیم الشان قیمتی یادگار اور نایاب تاریخی ذخیرے کا پتہ چلا اور حکومت راتوں رات اس سرمایہ کے سبب امیر ترین ہوگئی۔ عہدِ اورنگ زیب کے مرتّبہ آٹھ کیٹلاگ میں تقریباً 30 ہزار دستاویزات موجود ہیں۔ یہ کاغذات مختلف نوعیت یعنی شاہی فرمان‘ نشان‘ یادداشت احکام‘ سیام حضور‘ پروانہ‘ تصدیقِ منصب روزنامچہ وقائع‘ عرض و چہرہ‘ یادداشت حاضری‘ قبض الوصول‘ دستکِ داغ و تصحیح‘ فوتی نامہ اور صداقت نامہ وغیرہ جیسے موضوعات سے آراستہ ہیں۔
ایک ہندو برہمن مہادیوبھٹ ساکن جالنہ ضلع اورنگ آباد نے اورنگ زیب کے دربار میں ایک درخواست محکمہ مذہبی امور کے عہدیداروں کے خلاف جمع کروائی۔ اس پر اورنگ زیب نے مورخہ 27 شعبان 1098 ہجری بمطابق 28 جون 1687ء متعلقہ عہدیداروں کو احکام جاری کیے کہ ”اس برہمن مہادیوبھٹ اور اس کے افراد خاندان کی گنیش مورتی کی پوجا میں کوئی رکاوٹ یا خلل نہ پیدا کیا جائے۔ ہر شخص کو اپنے مذہبی امور کی بجاآوری کی آزادی ہے“ اس ایک فرمان سے ہی اورنگ زیب کی کشادہ ذہنی‘ وسیع القلبی اور مذہبی رواداری کا پتہ چلتا ہے۔
حیدرآباد دکن کے آرکائیوز میں دکن کی دیگر ریاستوں بہمنی‘ برید شاہی‘ نظام شاہی‘ عادل شاہی اور قطب شاہی خاندانوں کے اورنگ زیب کے (تقریباً ڈیڑھ لاکھ) کاغذات موجود ہیں۔ دہلی کے نیشنل آرکائیوز آف انڈیا میں بھی اورنگ زیب کے لگ بھگ دس ہزار کاغذات کار یکارڈ موجود ہے او ریہ سارے کاغذات قدیم فارسی زبان میں ہیں اور انہیں ماہرینِ لسانیات ہی پڑھ سکتے ہیں۔ ان کاغذات پر کسی نہ کسی عہدیدارکی مہر ثبت ہے اور بعض پر ایک سے زیادہ مہریں بھی ثبت ہیں۔ کاغذات پر سن ہجری تحریر ہے لیکن بعض میں سن جلوس بھی ملتا ہے اور اس سن کا حساب حکمران کی تخت نشینی کی تاریخ سے کیا جاتا ہے مثلاً اگر کوئی یکم رمضان 1000 ہجری کو تخت پر بیٹھا تھا تو یکم رمضان ۱۰۰۱ء ہجری سے اس کے دوسرے سن جلوس کا آغاز ہوگا۔ مغل کاغذات کا عمومی سائز اوسطاً 3*3/2 ہے اور رنگ Off White ہلکا زرد ہے۔ برسوں گزر جانے کے باوجود ان کاغذات اور ان کی روشنائی کا دستبرد زمانہ سے محفوظ ہونا اور ان کی درستگی ایک عقد لایخل ہے مگر ان کے لازوال اور انمنٹ ودیرپا ہونے کا پہلی بار اس وقت انکشاف ہوا جب حیدرآباد کے آرکائیوز کی عمارت موسم باراں میں رات بھر کی شدید ترین بارش برداشت نہ کرسکی اور چھت ٹپکنے لگی‘ سارا ریکارڈ آلودہ اور گیلا ہوگیا۔ عملے میں سراسیمگی پھیل گئی اور انہوں نے فوری احتیاطی تدابیر کے طور پر بھیگے ہوئے کاغذات کو بڑی بڑی میزوں پر پھیلا کر چھت گیر پنکھے چلادیئے اور کاغذات پر جاذب پیپر (Blotting Paper) بھی پھیلادیئے گئے۔ چند گھنٹوں بعد کاغذات خشک ہوگئے اور عملے کو یہ دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی کہ پانی میں بھیگے ہوئے کاغذات کو نقصان پہنچنے کی بجائے فائدہ پہنچا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کاغذات کی احتیاط سے صفائی کی گئی ہے یا پھر انہیں ابھی ابھی لکھا گیا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ تھا کہ روشنائی نہ تو پھیلی تھی اور نہ ہی مدھم پڑی تھی بلکہ اس میں نیا پن اور ایسی تازگی آگئی تھی کہ حروف مزید ابھرنے اور چمکنے لگے تھے‘ تحریر روشن اور واضح ہوگئی تھی۔ کاغذ کی خستگی بھی متاثر نہیں ہوئی تھی۔ جو لوگ مستقبل اور آنے والے دور پر نظر رکھتے ہیں‘ انہیں و قت اور زمانہ کبھی شکست نہیں دے سکتا اور وہ لوگ لوحِ جہاں پر ہمیشہ امر رہتے ہیں۔تاریخ ہمیشہ ان کی لکھی جاتی ہے‘ جو ملک و قوم کے لیے اپنا سکون‘ چین‘وقت نچھاور کرتے ہیں اور تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں۔

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اگر تم کو گوارا ہو !
  • فرزانہ رانی اور ہرنیلہ کی گپ شپ
  • ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے
  • ججز استعفیٰ کیوں دے رہے ہیں ؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غضب کرپشن کی عجب کہانی
پچھلی پوسٹ
غم سنائیں تو ہوش کھو بیٹھیں

متعلقہ پوسٹس

دو چار دن ہے رونقِ بازار میرے دوست

جنوری 8, 2022

تنقید کرتا ہوں

جون 27, 2025

فطرت کے توازن میں ایک مکمل وجود

مئی 13, 2025

شہرِ دل

فروری 16, 2020

پاؤں میں ہجر کی زنجیر نظر آتی ہے

جنوری 22, 2020

میں اس زمیں سے نہیں اور آسماں سے نہیں

مئی 15, 2020

اپنے کتبے بنا رہے ہیں ہم

نومبر 14, 2021

آنکھ سے دور جائیے

نومبر 1, 2025

ڈوبتا پاکستان 

اگست 31, 2025

کسی چراغ کو چھوتی ہوئی ہوا جیسے

جون 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خمارِ عشق نے دل کو بھی...

اکتوبر 11, 2025

ذہنی سکون کا سفر

دسمبر 6, 2024

زلف_جاناں کو سنواریں گے چلے جائیں...

دسمبر 5, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں