100
یوں تو آنکھوں کو ترے خواب کی آزادی ہے
پھر بھی اے جان جہاں عشق میں بربادی ہے
تم خریدارِ محبت ہو مگر وہ پگلی
اپنی مرضی کے پرستان کی شہزادی ہے
روح بےکار ہی دیتی ہے دُہائی ورنہ
دل ہمیشہ سے درِ یار کا فریادی ہے
عشق پر بات ہوئی اُن سے اگرچہ پہروں
پھر بھی لگتا ہے کوئی بات ابھی آدھی ہے
صرف اس شخص کی آہٹ سے مہک جائے گی
آرزوؤں کے مضافات میں جو وادی ہے
آئنہ خوب سمجھتا ہے نقوشِ ہستی
آدمی بھیس بدلنے کا یونہی عادی ہے
منزہ سید
