111
فصیل دل میں در کیا کہ رابطہ بنا رہے
اسے خدا کا گھر کیا کہ رابطہ بنا رہے
زمیں پہ اپنے جسم کی تھکن بچھا کے سو گیا
بھروسہ خاک پر کیا کہ رابطہ بنا رہے
سبھی گھروں میں آپ ہی مقیم تھا اسی لیے
مجھے بھی در بدر کیا کہ رابطہ بنا رہے
وہ دشمنوں کی صف میں تھا اسی لیے کلام بھی
کمان کھینچ کر کیا کہ رابطہ بنا رہے
اسے پسند آ گئیں پلک پلک پہ جھالریں
سو میں نے ان کو تر کیا کہ رابطہ بنا رہے
میں خود غرض میں مطلبی تبھی خدا سے پیار بھی
کسی کے نام پر کیا کہ رابطہ بنا رہے
یہ کوزہ گر کا شوق تھا تبھی تو میری خاک نے
تھا رقص چاک پر کیا کہ رابطہ بنا رہے
کبھی میں کربلا گیا کبھی مدینہ و نجف
کہاں کہاں سفر کیا کہ رابطہ بنا رہے
ممتاز گورمانی
