خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابابچوں پر تشدد ایک معاشرتی المیہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمنزّہ سیّد

بچوں پر تشدد ایک معاشرتی المیہ

از سائیٹ ایڈمن جون 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن جون 19, 2020 0 تبصرے 75 مناظر
76

بچوں پر تشدد ایک معاشرتی المیہ

ربِ کائنات نے جہاں اس زمین کو بیشمار رنگوں اور روشنیوں سے سجایا وہیں بنی نوع انسان کے ساتھ تمام جانداروں کی نسل کو بڑھانے کے لئے ننھے بچوں کے اس دنیا میں آنے کا نظام قائم کیا۔چھوٹے بچوں کو کسی بھی گھر کی رونق تصور کیا جاتا ہے۔جس گھر میں بچوں کی قلقاریاں گونجتی ہیں اُسے خوش قسمت قرار دیا جاتا ہے۔بچہ اپنا ہو یا کسی اور کا،ہر انسان کو بچوں پر بے ساختہ پیار آتا ہے بلکہ شفقت اور محبت کے حوالے سے بزرگوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ”بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔۔”اس لئے پہلے وقتوں میں اور آج بھی بہت سے گلی محلوں میں بڑوں کی آپس میں ناراضی یا جھگڑا ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے بچوں سے ہمیشہ اپنائیت اور شفقت کا رویہ روا رکھا جاتا تھا اور رکھا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے بچوں کے ساتھ کبھی دشمنی کرنے کا خیال تک بھی کسی کو نہیں آتا تھا۔بے شک ہمارے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بچوں پر خصوصی شفقت فرمایا کرتے تھے۔اسی لئے ہماری معاشرتی اقدار کی اصل پہچان بھی یہی محبت ،خلوص اور رواداری ہے۔مگر آئے روز اخبارات اور سوشل میڈیا پر بچوں پر تشدد کے واقعات کی خبریں اور وڈیوز دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ذہن اس سوال کا جواب نہ پا کر ماؤف ہونے لگتا ہے کہ یہ ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے، ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے۔۔؟کون لوگ ہیں جو معصوم پھولوں کو ذرا سی شرارت پر مارمار کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ایسے لوگ حقیقتا ًدرندے ہیں یا غصے کے وقت ان کے اندر کا بھیڑیا ان کی انسانیت اور شفقت ِپدری کو گہری نیند سلا کر ظلم و سفاکیت کی وہ داستان رقم کرتا ہے کہ جسے سن کر ہر رحم دل انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

چند دن پہلے ایک درندے نے چھوٹی سی بچی کو محض اس لئے تشدد کر کے جان سے مار ڈالا کہ اس بچی نے پنجرہ کھول کر طوطے اڑا دیئے۔ایک غبارے بیچنے والے بچے پر غبارہ مہنگا دینے کی پاداش میں امیر زادوں نے کتے چھوڑ دیئے ۔اس سے پہلے ایک شخص کی وڈیو سامنے آئی جو چھوٹے چھوٹے بچوں کو الٹا لٹکا کربُری طرح پیٹ رہا تھا اور میکے گئی ہوئی ماں کے پیچھے انہیں ننھیال جانے سے منع کر رہا تھا۔بہت سے واقعات ایسے بھی سامنے آئے کہ غربت اور بھوک سے تنگ آ کر ماں یا باپ نے اپنے ہی جگر گوشوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔سکولوں اور مدارس میں، ہوٹلوں اور سڑکوں پر مزدوری کرنے والے کم عمر بچوں اور گھروں میں کام کرنے والے بچوں بچیوں کے ساتھ ایسے ایسے جنسی و جسمانی تشدد کے واقعات سامنے آئے کہ جنھیں دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے۔اِن تمام واقعات کو صفحہِ قرطاس پر اتارتے ہوئے روحانی تکلیف سے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں ،کلیجہ منہ کو آ رہا ہے،مگر ایک سوال ہے جو ذہن پر بار بار دستک دیتا ہے کہ معصوم بچوں پر تشدد غربت سے پیدا ہونے والے مسائل کا رد عمل ہے،جہالت کا نتیجہ ہے،خوفِ خدا کی عدم موجودگی،قانون کی بالا دستی کا فقدان، فرسٹریشن ہے یا اپنے سے طاقتور کا دبا ہوا غصہ اپنے سے کمزور پر نکالنے کا عمل ہے۔۔؟

کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ اچھے بھلے انسان کا ایک دم ظالم درندے کا روپ دھار لینا انسانی جبلت کا حصہ ہے یا ذہنی دبا ؤکا نتیجہ ۔۔مگر ایک بات تو طے ہے کہ کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر بُرا نہیں ہوتا۔اُسے ارد گرد کا ماحول اور معاشرتی سختی اور نا ہمواریاںبُرا بننے پر مجبور کرتی ہیں اور پھر وہ اپنے ساتھ گزرے تلخ رویوں اور واقعات کا انتقام پورے معاشرے سے لینے کے درپے ہو جاتا ہے جس کے لئے اس کا آسان ترین ہدف بچے ہوتے ہیں ،جوخود کو اس کے ظلم سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی ظالم کا ہاتھ پکڑ کراس ظلم کو روکنے کے قابل ہوتے ہیں۔

اِن سب پُرتشدد واقعات کے پیچھے وجہ جو بھی ہو مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ جنسی یا جسمانی تشدد کا شکار ہونے والے بچے بڑے ہو کر معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں گے یا اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے رد عمل کے طور پر مجرم بن کر سب سے انتقام لیتے رہیں گے ؟ ایسے ظالمانہ واقعات پر کب تک قانون خاموش رہے گا؟کب تک وطنِ عزیز کے بچے کیڑے مکوڑوں کی طرح دوسروں کے ظلم کاشکار بنتے رہیں گے؟ کب اس ملک میں بچوں کے حقوق کو تسلیم کیا جائے گا۔۔۔؟ کب ایسا قانون بنایا جائے گا کہ دیگر ممالک کی طرح بچے تشدد سے بچنے یا تشدد کے بعد ایک فون کال کر کے قانون کو مدد کے لئے بلا سکیں۔۔آخرکب تک ہم ایسی وڈیوز دیکھ کر بے بسی سے کڑھتے رہیں گے؟کب تک مجرموں کو چند ٹکے رشوت کے لے کر چھوڑ دیا جاتا رہے گا؟کب تک وطنِ عزیز میں قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہو گی؟

شاید ان تمام سوالات کے جوابات ہم میں سے کسی کے پاس بھی نہیں ہیں۔

التجا ہے تو صرف یہ کہ حکومتِ پاکستان اس نازک مسئلے پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے قانون سازی کرے اور اس قانون کے نفاذ سے غفلت برتنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دے کر وطنِ عزیز کے بچوں کو مجرم بننے سے بچائیں۔اوراس کے ساتھ ساتھ تمام سکولوں میں پرائمری سے مڈل یا میٹرک تک نصاب میں عدم تشدد یا امن و آشتی کے لازمی مضمون کااضافہ کیا جائے جس میں طلبا کو دوسروں کے ساتھ مار پیٹ کی مذہبی و قانونی سزاؤں کو ذہن نشین کروایا جائے،شاید اسی طریقے سے ہمارا معاشرہ پر امن اور تشدد سے پاک ہو سکے اور ہماری آنے والی نسلیں انسانیت کی شیدائی بن سکیں..اللہ پاک دنیا کے تمام بچوں کو ہر قسم کے ظلم و ستم اور دست درازی سے محفوظ رکھے۔آمین

منزہ سیّد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاکستانی نوجوان
  • میگها رت کی رات، خموشی
  • تماشہ
  • آنٹی کا تجزیہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا
پچھلی پوسٹ
یہاں چراغ مقابل ہَوا کے بات کریں

متعلقہ پوسٹس

بلوچستان کے تعلیمی نظام کی ان کہی داستان

دسمبر 14, 2025

شہزادی کے بہ منت الفاظ

اپریل 1, 2023

غریب انسان رشتوں میں کمزور؟

مارچ 25, 2026

آلنا

فروری 5, 2022

احترام رمضان

اپریل 11, 2021

زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!

اکتوبر 2, 2020

خود سے شرمندہ ہیں

اگست 5, 2025

زندگی خود کو آزماتی ہے

نومبر 7, 2020

خواب تھا خواب کی پرچھائی مرے ساتھ رہی

نومبر 9, 2025

ڈاکٹر محمد دین تاثیر اور اُردو زبان

ستمبر 18, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خدا کی قسم تم ہمیں

جولائی 11, 2025

حوصلہ افزائی

اکتوبر 17, 2025

پہاڑی ایسے سڑک سے لپٹ چکی...

جون 8, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں