خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابازیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 2, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 2, 2020 0 تبصرے 85 مناظر
86

زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!

(شیخ خالد زاہد)

یہ بات واضح ہوتی چلی جا رہی ہے کہ کوئی حادثہ کوئی سانحہ ایک دم سے وقوع پذیر نہیں ہوتا،اسکے پیچھے عرصہ دراز سے چلنے والاطویل یا مختصر تسلسل ہوتا ہے۔ معاشرے میں بدلاؤ کیلئے بنیادی جز ہے کہ چھوٹے چھوٹے واقعات و معا ملات بروقت شناخت کئے جائیں اور مستقل بنیادوں پرانکے حل نکالیں جائیں۔ یہ بلکل ایسے ہی ہے کہ کوئی اپنے گھر سے نکاسی آب کیلئے ایک نالی بنا کر گلی میں نکال دیتا ہے، اس عمل پر رد عمل کی بجائے دوسرے قر ب و جوار کے لوگ بھی اسکی پیروی کرنا شروع کردیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے صاف ستھری گلی کسی گندے پانی کے جہڑ میں تبدیل ہوجاتی ہے یوں کہہ لیں کہ ایک چھوٹی سی نالی ایک بڑے نالے کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور پھر اہل محلہ اپنی گلی میں بنے والی پہلی نالی کو بھول کر حکومت کو دہائیاں دینے کیلئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں، بد قسمتی سے سد باب پھر بھی نہیں کرتے۔ اب اصولی طور پر یہاں ہونا یہ چاہئے تھا کہ پہلی نالی بنانے والے کو اسکی اس غیر اخلاقی و معاشرتی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے بند کرنے کیلئے کہنا چاہئے تھا لیکن ایسا تو نا ہوسکا بلکہ دیگر لوگوں نے بھی اپنی آسانی کیلئے ایسا کرنا شروع کردیا، جوکہ بدترین زیادتی تسلیم کی جانی چاہئے۔ بچہ اگر نہیں پڑھ رہا تو یہ کہہ کر اسے پڑھائی سے ہٹا دینا کے اسکا دل ہی نہیں ہے تو وقت اور پیسہ کیوں برباد کیا جائے اسے پڑھائی سے ہٹا دینا ناصرف اسکے ساتھ زیادتی ہے بلکہ معاشرے کو ایک مہذب انسان سے محروم کردیا گیا، یہ ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے نا کہ حکومت پر۔ راستے میں چلتے ہوئے کسی بھیکاری کے سوال پر اسے دھتکار دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی بلکہ معاشرے میں موجود بدنما لوگ اپنی بد نمائی کو چھپانے کی جستجو میں اس گستاخی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

ہم سب کے پاس زیادتیوں کی طویل فہرست ہے جو ہمارے ساتھ ہوئیں اور وہ بھی جو ہم نے دوسروں کیساتھ کیں۔ مختلف طریقوں سے ان زیادتیوں کی شناخت بھی کی جاتی ہے بد قسمتی سے زیادتی کرنے والے کو اپنی کی جانے والی زیادتی کا احساس ہی نہیں ہوتا اگر ہوتا بھی ہے تو بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ گاؤں دیہاتوں میں عورتوں کو عزت کے نام پر یا کوئی تہمت لگا کر موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے، ایسے بے شمار واقعات اخبارات میں شائع ہوتے ہیں لیکن کہنے والے یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ انکی برادری یا خاندان کا مسلۂ ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اختتام پر پہنچ چکے ہیں یعنی دنیا اب چاند کیبعد کسی اور سیارے پر قدم رکھنے کیلئے پر تول چکی ہے اورہمارے ملک میں کوئی نام کیساتھ مجرم کا پتہ بھی بتادے تب بھی کچھ ایسا نہیں ہوتا کہ آئندہ کیلئے وہ مجرم کرنے سے باز رہے۔ اور تو اور جانکاری دینے والے کیلئے یہ جان کی بازی بن جاتی ہے،کبھی کبھی تو جان لے جاتی ہے اور پھر اسکے والی وارث اسے ڈھونڈتے ہی رہے جاتے ہیں اور آخر میں شہر میں یا کہیں شہر کے باہر سے جھاڑیوں میں پڑی ہوئی لاش مل جاتی ہے جو اس بات کا سبق ہوتی ہے کہ اندھے، بہرے اور گونگے بن کر رہوورنہ نا رہو۔

کسان کو اسکی محنت کا حق نا دیا جائے تو کیا یہ کتنی بڑی زیادتی ہے، تعلیم کے مختلف میعار ہوں جو قابلیت کا قتل عام کرنے کیلئے استعمال ہوں کیا یہ بدترین زیادتی نہیں ہے، معاشروں کو طبقوں میں تقسیم کر کے عوام کا استحصال کیا جانا زیادتی نہیں ہے۔روز مرہ کی زندگیوں میں زیادتیوں کا ایک تسلسل ہے جو وارد ہوتا ہی رہتا ہے اور ہم اسے زندگی کا حصہ قرار دے چکے ہیں۔

سن ۸۱۰۲ جنوری میں قصور شہر میں زینب انصاری نامی سات سالہ کمسن بچی کیساتھ اغواء اور جنسی زیادتی کے بعد قتل کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ سماجی ابلاغ کی توسط سے اس واقع نے آگ کی طرح پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،پورا ملک سوگوار ہوگیا اورتقریباً پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور زینب کو انصاف دلانے کیلئے گویا پورا پاکستان کھڑا ہوگیا، بھرپور تحریک چلائی گئی جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ درندہ صفت مجرم عمران علی کو قانونی کاراجوئی کے بعد تختہ دار پر لٹکا دیا گیاجبکہ عوام کی دلی خواہش تھی اور زینب کے والد نے بھی برملا اس بات پر زور دیا کہ درندگی کے مجرم کو سر عام پھانسی دی جائے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔عمران نامی مجرم کو پھانسی کی سزا دے دی گئی لیکن جرم ختم نا ہواکیونکہ سزا قرار واقع جرم کے عین مطابق نہیں تھی۔ اس جرم کے خوفناک محرکات بھی منظر عام پر لائے گئے لیکن انہیں بھی ہوا میں اڑا دیا گیا۔ دوران تفتیش دو اہم باتیں منظر عام پر آئیں ایک تو یہ کہ مجرم اس سے پیشتر بھی اسے جرائم میں ملوث رہا اور یہ ایک بین الاقوامی جال کا حصہ تھا، لیکن اسکے بعد ایسی خاموشی ہوئی کہ کچھ سنائی نہیں دیا گیا لیکن بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے واقعات تواتر سے رونما ہونا شروع ہوگئے۔درسگاہیں اس بہیانک جرم کی اماجگاہیں بن کر رہ گئی ہیں، افسوسناک بات یہ ہے کہ مدرسے بھی اس کی زد میں ہیں اور دین کا علم دینے والے اس شیطانی عمل کے آلہ کار بن کر رہ گئے ہیں۔زیادتی کو برداشت کرلیا گیاجسکی وجہ سے اب یہ عام سی بات ہوچکی ہے۔ نالی کو بروقت بند نہیں کیا گیا تو گندے پانی کا بڑا جہڑ بن گیا۔

گزشتہ دنوں جنسی زیادتی کا ایک اور ہولناک واقع پیش آیا جب ایک خاتون کو انکے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اس وقعہ کو تقریباً دوہفتے سے زیادہ ہوچکے ہیں لیکن تاحال عابد نامی مذکورہ واقع کا مرکزی مجرم قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔اس واقع کے بعد ایک بار پھر سماجی ابلاغ نے آواز اٹھائی کے مجرمان کو سر عام پھانسی دی جائے جس پر حکومت نے اس مطالبے کی حمایت میں بیان تو دیا لیکن عوام کو ان مصلحتی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جس کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوپارہا، ابھی یہ معمہ حل ہونے کے عمل سے گزر ہی رہا ہے اور قوم اس واقع کو بھلا نہیں پائی تھی کہ ایک اور واقع رونما ہوگیا ہے جس میں سواری کے انتظار میں کھڑی خاتون کو اغواء کرنے کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کی تصدیق یا تھانے میں رپورٹ پانچ دن کے بعد درج کرائی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ عابد نامی مجرم جو ابھی تک آزاد ہے وہ قانون اور قانون کے رکھوالوں کیساتھ تو زیادتی نہیں کرتا پھر رہا۔ بہت ممکن ہے کہ سفید پوش لوگوں کے راستے میں حمائل ناگزیر وجوہات کی بناء پر اتنی دیر لگی ہو۔ گزشتہ دنوں ہمارے پڑوسی ملک میں بھی ایک ایسا ہی واقع رونما ہوا ہے جس میں بھری بس میں ایک عورت کو شیطانی ہوس کا نشانہ بنایا گیا اور وہ عورت معاشرے کے عدم توجہی کی وجہ سے موت میں چلی گئی۔ یوں تو جرم جرم ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو لیکن اگر جرم ایک اسلامی مملکت میں ہو اور ایسا جرم کہ جس کی سزا بھی شرعیت نے بہت واضح بتائی ہو تو پھر بغیر کسی توجیح کے عمل درآمد ہونا چاہئے۔

یہا ں یہ بات مسلمہ حقیقت ہوتی دیکھائی دے رہی ہے کہ انصاف کی عدم دستیابی جرم کو بڑھاوا دینے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے ملک میں جرم کرنے والا یہ بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ اپنے اختیارات اور رتبے کا استعمال کر کے آزاد ہوجائے گا۔

یہاں یہ کہنا تو بے معنی معلوم ہوتا ہے یا کسی ایسے بچے کی بات جیسا لگتا ہے کہ اللہ کا عذاب آئے گا، لیکن ہمیں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جب عذاب آئے گا تو پھر کسی ایک یا دو پر نہیں آئے گا اس کی زد میں ہم سب آئیں گے۔ ہم حکومت کو اس بات پر آمادہ نہیں کر پارہے کہ وہ اسلامی ریاست کی بنیادی اکائی شرعی قوانین کو فوری طور پر نافذ کرے اور قرار واقع مجرموں کو جہاں جرم کیا گیا ہے وہیں سنگسار کرنے کی سزا سنائے، جہاں چوری ہو وہیں ہاتھوں کو کاٹا جائے۔ہمیں اس بات کا احساس کیوں نہیں ہورہا کہ یہ عورتیں ہمارے گھروں کی بھی ہوسکتی ہیں یہ بچے ہمارے بھی ہوسکتے ہیں اگر آج ان وحشی درندوں کو انکی کی جانے والی سزاؤں کے عین مطابق سزائیں نا دی گئیں تو پھر اس سلسلے کو روکا نہیں جاسکے گا۔کہیں ایسا نا ہو کہ عوام خود ہی سڑکوں پر فیصلے کرنے لگیں۔ انصاف فراہم نا کیا گیا تو ہم اپنے معاشرے کو جنگل میں دھکیل دینگے۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آج تو اور کے سینے سے
  • چشمِ تر سے پھسل نہیں سکتی
  • آپ کہتے ہیں ہوئی جاتی ہے چاہت کم کم
  • کہیں کچھ کم نہیں ہے ، تم نہیں ہو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دو سانحات اور برڈباکس
پچھلی پوسٹ
دیوتاؤں کے دیوتا

متعلقہ پوسٹس

طمانچہ

نومبر 29, 2019

سلطان مظفر کا واقعہ نویس

جون 15, 2020

دن نکلتا اور دن کی روشنی میں دیکھتے

جون 8, 2020

تعلیم کا آفتاب نصف صدی کی بلندی پر

نومبر 11, 2025

ایک تیری دید کی میں پھر پیاسی رہ گئی

نومبر 17, 2020

امریکی سپاہی اور یخ پارہ افغان لڑکی

جون 27, 2023

سب سے بہترین گفتگو

جولائی 15, 2020

اب جو آئی ہے تو ویسے

جولائی 3, 2025

سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ

دسمبر 16, 2019

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

مئی 11, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جنت کی تلاش

مارچ 15, 2026

شباہت فردوس

جون 20, 2024

آدمی اپنے ہی اندر

مارچ 4, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں