568
قدیم درد نیا واسطہ نہ بن جائے
تراخیال مرا دائرہ نہ بن جائے
یہ تم جو دیکھتے ہی جا رہے ہو پتھر کو
خیال رکھنا کہیں آئنہ نہ بن جائے
گلِ مراد جو بنتا چلا گیا صحرا
مرے ٹھہرتے ہی یہ آبلہ نہ بن جائے
زیادہ دیر ملاقات سے یہ لگتا ہے
ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہ بن جائے
ترے حصار سے نکلا نہیں وجود مرا
کہ تیرے جسم کی خوشبو نشہ نہ بن جائے
فصیل ِ جسم گرا دی تری انا کے لیے
زمانے کے لیے یہ واقعہ نہ بن جائے
جنوں میں چل رہا ہوں آفتاب پر ایسے
میں سوچتا ہوں کہیں راستہ نہ بن جائے
رفیق لودھی
