105
اجنبی یقین کے نام
یہ راستوں کی دھول میں
قدم قدم کے فاصلے سے ہم الگ الگ رہے
ذرا سی آشنائی میں
جدائیوں کے خوف تھے
نہ قہقہوں کی بارشیں
نہ قربتوں کے جام تھے
میان میں تو اجنبی, "کسی” کا ہی دھیان تھا
یہ راستوں کی سازشیں
یہ موسموں کے فیصلے
نہ ہم کو پاس لا سکے
نہ دوریاں مٹا سکے
قریب اور دور کے
یہ ترجمے فضول ہیں
یہ راستوں کے ہمسفر
یہ دھول جیسے رابطے
اے اجنبی
قسم ہے مجھ کو شام کے
اس آفتابِ سرخ کی
ملوں گا میں!
ملوں گا میں ہی بس تجھے!!!
منزلوں کے پار بھی
عادل وِرد
