114
سکول جانے کے لیے بابا نے مجھے اٹھایا
ماں نے ناشتہ میز پر سجایا
محنت سے جو کچھ بنایا
ماں نے اپنے ہاتھوں سے کھلایا
بابا کی سائیکل پر بیٹھ کر
منظر دیکھتی، سکول پہنچی میں
گھنٹی کی آواز سن کر
میں اپنی قطار میں کھڑی ہوئی
اپنے ہم جماعتوں کے سنگ
زندگی کے اس نئے سفر میں
میں نے پڑھائی کی دوڑ میں قدم رکھا
ہر سال امتحان دیے محنت سے
اور صبر کے ساتھ انتظار بھی کیا
رات کو دودھ پلایا گیا
صبح ناشتہ تیار کیا گیا
ماں نے سورتیں پڑھ کر پھونکی
بابا نے دن رات محنت کی
یہ سب کچھ آج میرے کام آیا
میں بڑی ہو کر شاعرہ بن گئی
اب میں اپنا حافظہ وسیع کر کے
زندگی کی الجھنیں سلجھانے کی کوشش کرتی ہوں
اب میں بڑی ہوگئی ہوں
ماما بابا، میں اب بڑی ہوگئی ہوں
ثناء اسد
