105
تم نے تو جان مار لی پر گر نہیں رہا
قائم ہے اپنے قول پہ وہ پھر نہیں رہا
بھوکے ہیں چار دن سے تو کیا یہ بھی مان لیں
چارہ گری کا فیض بھی آخر نہیں رہا
کیوں اس طرح سے کر رہے ہو مجھ کو الوداع
کیا رب کسی کا حافظ و ناصر نہیں رہا
ملتے نہیں ہیں حرف بھی غم کی مثال میں
حاضر مرے خیال سے شاعر نہیں رہا
لہجہ ہے میر سا ،مرا غالب سا رنگ ہے
کہتا ہے کون آج کہ ناصر نہیں رہا ؟
تم جب سے چھوڑ کر گئے ہم کو جہان میں
حاضر ذرا سی دیر بھی حاضر نہیں رہا
احمد رضا حاضؔر
