115
نہ جانے اب بھی کیوں مجھے ایسا لگتا ہے
کہیں کچھ کھو گیا ہو جیسے ایسا لگتا ہے
رہتا ہوں گھل مل کر میں اپنوں کے درمیاں
پھر بھی کچھ کمی ہو جیسے ایسا لگتا ہے
دل پر اک بوجھ سا کیوں ہے آج بھی آخر
کچھ کہنے کو باقی ہو جیسے ایسا لگتا ہے
حرف بہ حرف سب کچھ کہ ڈالا میں نے
رہ گئے ہوں کچھ حرف جیسے ایسا لگتا ہے
قرض چکانا ہے زندگی کا مجھے اب بھی
مقروض ہوں اس کا جیسے ایسا لگتا ہے
رہ کر اپنوں کے درمیاں یہ خوف کیسا ہے
شور میں بھی تنہا ہوں جیسے ایسا لگتا ہے
یہ خیالات یہ بوجھ یہ اندر ہی اندر کا کچھ
ساتھ میرے جائیں گے جیسے ایسا لگتا ہے
زندگی بیت گئی وقت بھی گزر گیا یوسف
کرنے کو کچھ باقی ہو جیسے ایسا لگتا ہے
محمد یوسف میاں برکاتی
