121
دوسری سمت کھڑا تھا کوئی میری خاطر
میں نے دیوار کا قد اور بھی بڑھتے دیکھا
احمد رضا حاضر
کس کو گوارا ہو بھلا تیرا یوں بیٹھنا
شاہین اٹھ بھی جا کہ بڑی دیر ہو گئی
احمد رضا حاضر
ہمارے شعر میں کوئی کشش رہی ہی نہیں
ہمارا شعر بھی بیوہ کا چہرہ لگ رہا ہے
احمد رضا حاضر
میں جو خراب ہوں تو فقط میں خراب ہوں
تُو جو خراب ہے تو زمانہ خراب ہے
احمد رضا حاضر
