395
دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک
نظر میں اس نے رکھے میرے گھر کے کونے تک
میں کیا بتاؤں کہ بیتے ہیں کیا کڑے موسم
شدید کرب سے گزرا ہوں سنگ ہونے تک
وہ روشنی کی طرح تیز تیز چلتا ہے
گزر نہ جائے کہیں آنکھ میں سمونے تک
کوئی کرے گا نہیں دیکھ بھال پھولوں کی
سب اہتمام بہاراں ہے بیج بونے تک
تباہ تو نہیں کرتا تمام نیند مری
مجھے یہ درد جگاتا ہے صرف سونے تک
کہاں وہ مسلک پاکیزگی رہا عاصمؔ
ہے اب تو مشق وضو دست و پا کو دھونے تک
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
