427
دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کر
ہم سو گئے خواب سے لپٹ کر
اب دل میں وہ سب کہاں ہے دیکھو
بغداد کہانیوں سے ہٹ کر
شاید یہ شجر وہی ہو جس پر
دیکھو تو ذرا ورق الٹ کر
اک خوف زدہ سا شخص گھر تک
پہنچا کئی راستوں میں بٹ کر
کاغذ پہ وہ نظم کھل اٹھی ہے
اگ آیا ہے پھر درخت کٹ کر
بابرؔ یہ پرند تھک گئے تھے
بیٹھے ہیں جو خاک پر سمٹ کر
ادریس بابر
