420
مشہور تو بس ایک دیا ہے مرے دل میں
کتنے ہی ستاروں کی جگہ ہے مرے دل میں
تم نے تو حکایات ہی سن رکھی ہیں ورنہ
وہ شہر وہ خیمے وہ سرا ہے مرے دل میں
میں راہ سے بھٹکوں تو کھٹکتی ہے کوئی بات
جس طرح کوئی سمت نما ہے مرے دل میں
دنیا سے گزرنے کو ابھی عمر پڑی ہے
یہ خواب تو کچھ دن کو رکا ہے مرے دل میں
یہ گھر در و دیوار کی حد تک ہے سلامت
لیکن وہ جو گھر ٹوٹ گیا ہے مرے دل میں
یہ لوگ ذرا دیر کو ٹل جائیں تو بابرؔ
میں دیکھ لوں کیا وقت ہوا ہے مرے دل میں
ادریس بابر
