108
کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں
میں دھواں ہو کے بھی حصار میں ہوں
اب مجھے بولنا نہیں پڑتا
اب میں ہر شخص کی پکار میں ہوں
جس کے آگے ہے آئینہ دیوار
میں بھی کرنوں کی اس قطار میں ہوں
آہٹوں کا اثر نہیں مجھ پر
جانے میں کس کے انتظار میں ہوں
پردہ پوشی تری مجھی سے ہے
تیرے آنچل کے تار تار میں ہوں
تنگ لگتی ہے اب وہ آنکھ مجھے
دفن جیسے کسی مزار میں ہوں
مجھے میں اک زلزلہ سا ہے شاہدؔ
میں کئی دن سے انتشار میں ہوں
شاہد ذکی
