خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو نظمیہ تو آگ ہے
اردو نظمڈاکٹر وحید احمدشعر و شاعری

یہ تو آگ ہے

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 10, 2020 0 تبصرے 96 مناظر
97

یہ تو آگ ہے

کسی بھید والی
سنہری مٹی کو گوندھتا تھا وہ عرش پر
کسی آب آئنہ دار سے۔
کوئی مٹی لایا تھا چاو سے
کوئی پانی لایا تھا چاہ سے۔
وہ مجسمے میں جو روح بھرنے لگا
تو ہونٹ پگھل گئے
تو وہ اپنی بولی میں بول اٹھا
___یہ تو آگ ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تو زمہریر کا دور تھا
کہیں گرتی برف رواج تھی
کہیں زرد کہر کا طور تھا۔
یہ جو اگلووں کے مکین ہیں، یہ بتائیں گے
کہ سفید رنگ کے اور بھی کئی رنگ ہیں
کہ گلیشئر کے حسب کئی ہیں تو کہر کے ہیں کئی نسب۔
کئی برفباد کے سلسلے
کئی شجرے اگتے ہیں دھند کے، جمے آسماں کی زمین سے۔
وہ تو زمہریر کا دور تھا
کئی رنگ و نسل کی برف گرتی تھی بام سے۔
کبھی صبح چڑھتی تھی ملگجی
کبھی رات ہوتی تھی شام سے۔
سبھی استخواں تھے جمے ہوئے
سبھی مغز بھربھری برف تھے۔
وہ جو بات مغز سخن میں تھی
تھی قلم قلم جمی تختیوں پہ لکھی ہوئی۔
گھنے انجماد میں لفظ تھے
کہ جمے جمے سبھی حرف تھے۔
تھا ہر ایک منطقہ باردہ۔
وہ جو منطقہ تھا شمال میں،
وہاں سرد کرنوں کی برفشار تھی کام میں۔
وہ جو منطقہ تھا جنوب کا،
وہاں شب کی سرد جمی سیاہی دوام میں۔
کسی چرم کی کسی کینچلی کو اتار کر
کسی غار میں
بھرا برف زاد ہتھیلیوں کے عیار میں
بھری برف زادی کے نرم لمس کو تولتا
تو شرارے اڑ کے جمے اندھیرے کو کاٹتے
تو وہ اپنی بولی میں بولتا
_____ یہ تو آگ ہے!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی ریگزار تھا آسماں سے ملا ہوا
جہاں مشرکین شگاف سے
دھلے تازہ تازہ گلاب سا کوئی طشت چڑھتا تھا صبح کو
بڑی تمکنت سے، جمال سے۔
تو سفر کی سمفنی
بجتی رہتی تھی گھنٹیوں کے وفور میں
بڑی برہمی سے، جلال سے۔
وہی طشت نصف نہار میں
تپے دشت میں کبھی ریگ باد رگیدتا
کہیں گرد باد اچھالتا
تو چڑھی دوپہر میں شل دماغ سفر کے تارے کو ڈھونڈتا۔
ذرا جا کے گرد جو بیٹھتی
تو لٹا پٹا ہوا بد حواس مسافروں کا وہ قافلہ
جو کھڑا تھا آتش زیر پا
بھری سرخ آنکھوں سے سوچتا
کہ یہ دشت نار سعیر ہے
یہ لرزتی ریگ رواں نظر کا فریب ہے
یہ تو آگ پانی کا کھیل ہے۔
لٹا ساربان
فلک پہ چلتے سنہرے شعلے کے نرم گولے کو دیکھتا
تو وہ اپنی بولی میں بولتا
_____یہ تو آگ ہے!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہیں کوہ میں
کئی سال پہنے ہوئے، جوالا مکھی دراز تھا
خواب میں۔
تھی زمیں پہ چادر احمریں
تو بدن پہ لپٹا ہوا دھوئیں کا لحاف تھا۔
وہ اٹھا پگھل کے
خود اپنے آپ کو، اپنے آپ پہ موڑتا
بھنچی سرخ مٹھی کی پشت سے
جمے نرم پشتے کو توڑتا۔
تھا ہوا میں رنگ اچھالتا
تو لرزتے کوہ کی گم ڈھلان پہ دوڑتا۔
کھڑی سرد فصل اجاڑتا
سر آتشیں، گڑے سنگ خارا پہ پھوڑتا۔
ذرا دور بھاگتے زرد لوگوں کی بھیڑ تھی
کوئی مڑ کے دیکھتا بہتی آتشیں گرد کو
تو وہ اپنی بولی میں بولتا
____یہ تو آگ ہے !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہیں جمتی
اور
کہیں پگھلتی زمین پر
یہ تو بکھری بکھری سی، جستہ جستہ سی آگ تھی
کہیں ریگ میں، کہیں سنگ میں
کہیں چلتی باد سموم میں۔
کہیں جسم کے کسی روپ میں
تو کہیں رکی ہوئی دھوپ میں۔
وہ جو آگ تھی وہ تو آسماں میں رکی ہوئی تھی شروع سے
کہ ہمیشگی کی طرح
یہ آگ بھی دیوتاوں کی سلطنت کی رہین تھی۔
وہ جو آسمان کا چور تھا
وہ لرزتا شعلہ چرا کے لایا زمین پر۔
تھا زمیں پہ اڑ کے اترتے چور کے دائیں ہاتھ میں مشعلہ
جو بھڑک کے جلتا
کہ اس کے جسم میں زرد رنگ کا کانچ تھا۔
کوئی خیرہ کرتی سی روشنی تھی
پرے دھکیلتی آنچ تھی
جسے برف زادوں کا اک ہجوم تھا سرد آنکھوں سے دیکھتا۔
یہ تو آدمی کی سرشت ہے
وہ ہمیشہ چیزوں کو چھو کے دیکھنا چاہتا ہے وثوق سے۔
یہ سرشت کتنی عجیب ہے
کہ نظارہ تشنہ ہےاور آنکھ غریب ہے۔
وہ ہمیشہ چیزوں کو چھو کے دیکھنا چاہتا ہے قریب سے
وہ ہوا ہو، چاہے صدا ہو، چاہے خدا ہو
چاہے وہ آگ ہو۔
سو کسی نے شعلے کو اپنی پوروں سے چکھ لیا
تو جلی ہتھیلی جھٹک کے خوف سے کھول اٹھا
تو وہ اپنی بولی میں بول اٹھا
______ یہ تو آگ ہے!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہی آگ ہے
جو زمیں پہ آئی تو ایسے پھیلی
کہ پھیلتی ہی چلی گئی۔
کہیں مطبخوں میں مچل رہی ہے قرار سے
کہیں معبدوں میں بھڑک رہی ہے شرار سے۔
وہ جو خاک ہو کے بکھر گئے تھے قبیح جنگ عظیم میں
کبھی مل گئے تو بتائیں گے
کہ فلک سے آگ شعائیں اوڑھ کے آئی تھی۔
اسی ثانیے کو ثبات تھا
کہ بدن سے کھال تو استخواں سے تھی چھال اڑی۔
کوئی آگ تھی !
پھٹے سرخ لحم چچوڑتی
کھڑی ریڑھ سیڑھی کو کاٹتی
جلی ہڈیوں کو بھنبھوڑتی
تو سلگتے شکموں کو اور سینوں کو پھاڑتی
تو سروں کے کاسوں کو توڑتی۔
مگر اس قیامت شعلہ بار میں ربط تھا
کہ بدن تو خاک ہوئے، ہوا میں بکھر گئے
مگر ایک ایک بدن کا سایہ تو ایکس رے کی طرح
زمین پہ ثبت تھا۔
یہی آگ تھی جو سفر میں ہے
کہیں دل کے خانوں میں دفن ہے
کہیں التہاب جگر میں ہے۔
یہ تو آگ ہے !
یہ فلک کی چیز تھی
آج دھرتی کا بھاگ ہے
_____ یہ تو آگ ہے!!!!!!

وحید احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بے جا آنسو نہ اب بہا چپ کر
  • سرنڈر
  • آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے
  • قابل نہیں سمجھتے جنھیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کورونا کے ساتھ انگلینڈکرکٹ سیریز!
پچھلی پوسٹ
اہل بیت اطہارسے محبت وعقیدت

متعلقہ پوسٹس

تیرا حسنؔ یہ رونا یونہی

نومبر 28, 2019

شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں

ستمبر 14, 2019

تُو اپنے یاد خزانے سنبھال کر لے جا

نومبر 14, 2025

آج تھی میرے مقدر میں

دسمبر 16, 2019

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں

فروری 26, 2026

مرے خیال سے وہ شخص

فروری 21, 2026

آشوب

مئی 22, 2020

مجھے بھول جا

فروری 1, 2020

ہو فرقتوں میں وصال کیسے

مئی 31, 2020

مجنوں و کوہکن کو آزار ایسے ہی تھے

جون 29, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یہی جہاں تھا، یہی گردش جہاں...

جون 21, 2020

ہے میرے لوہو رونے کا آثار...

جون 27, 2020

جو نہ کارِ خیر میں گزرے...

جولائی 13, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں