خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو نظمیہ تو آگ ہے
اردو نظمڈاکٹر وحید احمدشعر و شاعری

یہ تو آگ ہے

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 10, 2020 0 تبصرے 61 مناظر
62

یہ تو آگ ہے

کسی بھید والی
سنہری مٹی کو گوندھتا تھا وہ عرش پر
کسی آب آئنہ دار سے۔
کوئی مٹی لایا تھا چاو سے
کوئی پانی لایا تھا چاہ سے۔
وہ مجسمے میں جو روح بھرنے لگا
تو ہونٹ پگھل گئے
تو وہ اپنی بولی میں بول اٹھا
___یہ تو آگ ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تو زمہریر کا دور تھا
کہیں گرتی برف رواج تھی
کہیں زرد کہر کا طور تھا۔
یہ جو اگلووں کے مکین ہیں، یہ بتائیں گے
کہ سفید رنگ کے اور بھی کئی رنگ ہیں
کہ گلیشئر کے حسب کئی ہیں تو کہر کے ہیں کئی نسب۔
کئی برفباد کے سلسلے
کئی شجرے اگتے ہیں دھند کے، جمے آسماں کی زمین سے۔
وہ تو زمہریر کا دور تھا
کئی رنگ و نسل کی برف گرتی تھی بام سے۔
کبھی صبح چڑھتی تھی ملگجی
کبھی رات ہوتی تھی شام سے۔
سبھی استخواں تھے جمے ہوئے
سبھی مغز بھربھری برف تھے۔
وہ جو بات مغز سخن میں تھی
تھی قلم قلم جمی تختیوں پہ لکھی ہوئی۔
گھنے انجماد میں لفظ تھے
کہ جمے جمے سبھی حرف تھے۔
تھا ہر ایک منطقہ باردہ۔
وہ جو منطقہ تھا شمال میں،
وہاں سرد کرنوں کی برفشار تھی کام میں۔
وہ جو منطقہ تھا جنوب کا،
وہاں شب کی سرد جمی سیاہی دوام میں۔
کسی چرم کی کسی کینچلی کو اتار کر
کسی غار میں
بھرا برف زاد ہتھیلیوں کے عیار میں
بھری برف زادی کے نرم لمس کو تولتا
تو شرارے اڑ کے جمے اندھیرے کو کاٹتے
تو وہ اپنی بولی میں بولتا
_____ یہ تو آگ ہے!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی ریگزار تھا آسماں سے ملا ہوا
جہاں مشرکین شگاف سے
دھلے تازہ تازہ گلاب سا کوئی طشت چڑھتا تھا صبح کو
بڑی تمکنت سے، جمال سے۔
تو سفر کی سمفنی
بجتی رہتی تھی گھنٹیوں کے وفور میں
بڑی برہمی سے، جلال سے۔
وہی طشت نصف نہار میں
تپے دشت میں کبھی ریگ باد رگیدتا
کہیں گرد باد اچھالتا
تو چڑھی دوپہر میں شل دماغ سفر کے تارے کو ڈھونڈتا۔
ذرا جا کے گرد جو بیٹھتی
تو لٹا پٹا ہوا بد حواس مسافروں کا وہ قافلہ
جو کھڑا تھا آتش زیر پا
بھری سرخ آنکھوں سے سوچتا
کہ یہ دشت نار سعیر ہے
یہ لرزتی ریگ رواں نظر کا فریب ہے
یہ تو آگ پانی کا کھیل ہے۔
لٹا ساربان
فلک پہ چلتے سنہرے شعلے کے نرم گولے کو دیکھتا
تو وہ اپنی بولی میں بولتا
_____یہ تو آگ ہے!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہیں کوہ میں
کئی سال پہنے ہوئے، جوالا مکھی دراز تھا
خواب میں۔
تھی زمیں پہ چادر احمریں
تو بدن پہ لپٹا ہوا دھوئیں کا لحاف تھا۔
وہ اٹھا پگھل کے
خود اپنے آپ کو، اپنے آپ پہ موڑتا
بھنچی سرخ مٹھی کی پشت سے
جمے نرم پشتے کو توڑتا۔
تھا ہوا میں رنگ اچھالتا
تو لرزتے کوہ کی گم ڈھلان پہ دوڑتا۔
کھڑی سرد فصل اجاڑتا
سر آتشیں، گڑے سنگ خارا پہ پھوڑتا۔
ذرا دور بھاگتے زرد لوگوں کی بھیڑ تھی
کوئی مڑ کے دیکھتا بہتی آتشیں گرد کو
تو وہ اپنی بولی میں بولتا
____یہ تو آگ ہے !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہیں جمتی
اور
کہیں پگھلتی زمین پر
یہ تو بکھری بکھری سی، جستہ جستہ سی آگ تھی
کہیں ریگ میں، کہیں سنگ میں
کہیں چلتی باد سموم میں۔
کہیں جسم کے کسی روپ میں
تو کہیں رکی ہوئی دھوپ میں۔
وہ جو آگ تھی وہ تو آسماں میں رکی ہوئی تھی شروع سے
کہ ہمیشگی کی طرح
یہ آگ بھی دیوتاوں کی سلطنت کی رہین تھی۔
وہ جو آسمان کا چور تھا
وہ لرزتا شعلہ چرا کے لایا زمین پر۔
تھا زمیں پہ اڑ کے اترتے چور کے دائیں ہاتھ میں مشعلہ
جو بھڑک کے جلتا
کہ اس کے جسم میں زرد رنگ کا کانچ تھا۔
کوئی خیرہ کرتی سی روشنی تھی
پرے دھکیلتی آنچ تھی
جسے برف زادوں کا اک ہجوم تھا سرد آنکھوں سے دیکھتا۔
یہ تو آدمی کی سرشت ہے
وہ ہمیشہ چیزوں کو چھو کے دیکھنا چاہتا ہے وثوق سے۔
یہ سرشت کتنی عجیب ہے
کہ نظارہ تشنہ ہےاور آنکھ غریب ہے۔
وہ ہمیشہ چیزوں کو چھو کے دیکھنا چاہتا ہے قریب سے
وہ ہوا ہو، چاہے صدا ہو، چاہے خدا ہو
چاہے وہ آگ ہو۔
سو کسی نے شعلے کو اپنی پوروں سے چکھ لیا
تو جلی ہتھیلی جھٹک کے خوف سے کھول اٹھا
تو وہ اپنی بولی میں بول اٹھا
______ یہ تو آگ ہے!!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہی آگ ہے
جو زمیں پہ آئی تو ایسے پھیلی
کہ پھیلتی ہی چلی گئی۔
کہیں مطبخوں میں مچل رہی ہے قرار سے
کہیں معبدوں میں بھڑک رہی ہے شرار سے۔
وہ جو خاک ہو کے بکھر گئے تھے قبیح جنگ عظیم میں
کبھی مل گئے تو بتائیں گے
کہ فلک سے آگ شعائیں اوڑھ کے آئی تھی۔
اسی ثانیے کو ثبات تھا
کہ بدن سے کھال تو استخواں سے تھی چھال اڑی۔
کوئی آگ تھی !
پھٹے سرخ لحم چچوڑتی
کھڑی ریڑھ سیڑھی کو کاٹتی
جلی ہڈیوں کو بھنبھوڑتی
تو سلگتے شکموں کو اور سینوں کو پھاڑتی
تو سروں کے کاسوں کو توڑتی۔
مگر اس قیامت شعلہ بار میں ربط تھا
کہ بدن تو خاک ہوئے، ہوا میں بکھر گئے
مگر ایک ایک بدن کا سایہ تو ایکس رے کی طرح
زمین پہ ثبت تھا۔
یہی آگ تھی جو سفر میں ہے
کہیں دل کے خانوں میں دفن ہے
کہیں التہاب جگر میں ہے۔
یہ تو آگ ہے !
یہ فلک کی چیز تھی
آج دھرتی کا بھاگ ہے
_____ یہ تو آگ ہے!!!!!!

وحید احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا
  • میں چھوٹی سی لڑکی بہت ہی بڑی ہوں
  • یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں
  • اسی طرح کی محبت، اسی طرح کے دکھ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کورونا کے ساتھ انگلینڈکرکٹ سیریز!
پچھلی پوسٹ
اہل بیت اطہارسے محبت وعقیدت

متعلقہ پوسٹس

جنوں تبدیلی موسم کا

جنوری 6, 2020

اس نے پوچھا بھی مگر

مئی 28, 2024

گزر ہی جائے گی شب ، رابطہ نہیں کرنا

مئی 28, 2020

خیال و خواب بن کے

دسمبر 29, 2024

خدا

دسمبر 30, 2019

سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی

نومبر 12, 2021

اِک میرا ہمسایا سی

جون 6, 2025

بلا کا ضبط کیا، حوصلے سے چال چلی

جنوری 29, 2020

جھوٹ پر صاد کرنا پڑتا ہے

نومبر 14, 2021

تمھارے ساتھ وہ گزرا ہوا

جولائی 6, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پہلے آواز لگائی ہم نے

جون 21, 2020

اندازِ محبت

نومبر 24, 2024

ریلوے اسٹیشن پر

دسمبر 16, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں