340
سینوں میں تپش ہے کبھی شورش ہے سروں میں
کیا چیز بسا دی گئی مٹی کے گھروں میں
چلتا ہوں سدا ساتھ لئے اپنی فصیلیں
پہچان سکا کون مجھے ہم سفروں میں
اڑنا ہے تو تہذیب کرو سوز دروں کی
یہ ورنہ کہیں آگ لگا دے نہ پروں میں
غیروں میں ہوئی عام تری دولت دیدار
اک کحل بصر تھا کہ لٹا بے بصروں میں
دو گام پہ تم خود سے بچھڑ جاتے ہو خورشیدؔ
اور لوگ سمجھتے ہیں تمہیں راہبروں میں
خورشید رضوی
