102
طلب کی آگ کسی شعلہ رو سے روشن ہے
خیال ہو کہ نظر آرزو سے روشن ہے
جنم جنم کے اندھیروں کو دے رہا ہے شکست
وہ اک چراغ کہ اپنے لہو سے روشن ہے
کہیں ہجوم حوادث میں کھو کے رہ جاتا
جمال یار مری جستجو سے روشن ہے
یہ تابش لب لعلیں یہ شعلۂ آواز
تمام بزم تری گفتگو سے روشن ہے
وصال یار تو ممکن نہیں مگر ناصح
رخ حیات اسی آرزو سے روشن ہے
قابل اجمیری
