106
ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم
زنداں میں بھی گئے تو چراغاں کریں گے ہم
برہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں خلاف ہوں
کچھ بھی ہو اہتمام گلستاں کریں گے ہم
دامن کی کیا بساط گریباں ہے چیز کیا
نذر بہار نقد دل و جاں کریں گے ہم
ظلمت سے بے کراں تو اجالے بھی کم نہیں
ہر داغ دل کو آج فروزاں کریں گے ہم
اب دیکھتے ہیں کون اڑاتا ہے رنگ و بو
اپنا لہو شریک بہاراں کریں گے ہم
جن کو فریب شوق میں آنا تھا آ چکے
اب تو ترے کرم کو پشیماں کریں گے ہم
قابل اجمیری
