104
اگتے ہوئے نہ روند لگے مت خراب کر
تو زرد ہے تو سب کے ہرے مت خراب کر
جو جس مقام پر ہے اسے بے سبب نہ چھیڑ
بکھرے ہوئے سمیٹ پڑے مت خراب کر
جو فطرتاً خراب ہیں ان کا تو حل نہیں
جو ٹھیک مل گئے ہیں تجھے مت خراب کر
بے لمس پھلتے پھولتے خود رو کو مت اکھیڑ
جو بات خود بخود ہی بنے مت خراب کر
تیرے خراب کردہ بہت ہیں دلِ خراب
اتنا بھلا تو کر کہ بھلے مت خراب کر
اب سلوٹوں سمیت پہن یا سمیٹ دے
تجھ سے کہا بھی تھا کہ مجھے مت خراب کر
بے لطف زندگی کی خرابی ہے سر بسر
واجب خرابیوں کے مزے مت خراب کر
اتنا نہ کر دراز خرابی کا سلسلہ
اک شے کو دوسری کے لیے مت خراب کر
وہ خود خراب کرنے پہ کرتا ہے مشتعل
جو روز بار بار کہے مت خراب کر
حمیدہ شاہین
