352
موت بے موت مارےجاٸیں گے
عشق سےجو گزارے جاٸیں گے
لگ رہا ہے ہمیں کہ ہم بھی اب
آگ سے ہی گزارے جاٸیں گے
چاند بھی روشنی تبھی دے گا
جب اندھیرےاُتارےجاٸیں گے
چاند کو پھر سلامی دینے کو
آسماں پر ستارے جاٸیں گے
ہم جو ڈوبےاُبھر ہی جاٸیں گے
وہ سرِ آب مارے جاٸیں گے
آج کل دشمنی سی چلتی ہے
ایک دن ہم پکارے جاٸیں گے
خاک میں مل گٸے اگر تو ہم
دیکھناپھرنکھارےجاٸیں گے
آج در یا اُمڈ رہا ہے پھر
اشک پھرنہ سہارےجاٸیں گے
عشق کا بانکپن تو دیکھو تم
آج ہم دل بھی ہارےجاٸیں گے
تیرے اَبرُو کےاک اشارے پر
جان اپنی ہی وارےجاٸیں گے
ہم بھی عاجز اُٹھاٸیں گے اپنے
سب خسارےاور مارےجاٸیں گے
ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز
