479
گھر سے میرا رشتہ بھی کتنا رہا
عمر بھر اک کونے میں بیٹھا رہا
اپنے ہونٹوں پر زباں کو پھیر کر
آنسوؤں کے ذائقے چکھتا رہا
وہ بھی مجھ کو دیکھ کر جیتا تھا اور
میں بھی اس کی آنکھ میں زندہ رہا
نسبتیں تھیں ریت سے کچھ اس قدر
بادلوں کے شہر میں پیاسا رہا
شہر میں سیلاب کا تھا شور کل
اور میں تہہ خانے میں سویا رہا
کھا رہی تھی آگ جب کمرہ حسنؔ
میں بس اک تصویر سے چمٹا رہا
حسن عباسی
