336
لفظ بھی کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا تھا
جیسے کوئی وصل کی رات کا قصہ تھا
بستی کے اس پار کہیں پر رات ڈھلے
لمبی چیخ کے بعد کوئی سناٹا تھا
جس کو اپنا گھر سمجھے تھے وہ تو محض
دیواریں تھیں اور ان میں دروازہ تھا
ہم نے اسے بھی لفظوں میں زنجیر کیا
بادل جیسا جو آوارہ پھرتا تھا
منزل کو سر کرنے والے لوگوں نے
رستوں کا بھی ہر اندیشہ دیکھا تھا
کیسے دن ہیں اس کا چہرہ دیکھ کے ہم
سوچ رہے ہیں پہلے کہاں پہ دیکھا تھا
