100
اس عشق میں گواہ نہ کوئی دلیل ہے
منصف بھی دل ہے اور یہ دل ہی وکیل ہے
وہ آج پھر مکر گیا وعدے سے وصل کے
میری گزارشوں پہ وہی قال و قیل ہے
ظالم ہو بادشاہ تو رب نے بتا دیا
فرعون وقت کے لیے دریاء نیل ہے
ہو جائے گا طویل تری بے وفائی سے
یہ فاصلہ جو عشق کا دو چار میل ہے
مہکی ہوئی ہے ان سے مرے دل کی کائنات
یادوں کے کچھ کنول ہیں تصور کی جھیل ہے
برباد مت کرو اسے نفرت کی آگ سے
دنیا محبتوں کی حسین و جمیل. ہے
انصاف کس سے مانگئے ظالم کے شہر میں
یاں تو نہ عدلیہ ہے نہ کوئی عدیل ہے
جو چاہے آئے شہر محبت میں اے حسن
در پے نہ کوئی اور نہ کوئی فصیل ہے
حسن فتحپوری
