خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو نظمتماشائے عبرت
اردو نظمشعر و شاعریعلامہ شبلی نعمانی

تماشائے عبرت

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 30, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 30, 2020 0 تبصرے 79 مناظر
80

تماشائے عبرت

یعنی وہ
قومی مسدس
جس کو علامہ شبلی نے قومی تھیٹر علی گڑھ میں اپنے پر درد و پُر سوز لہجہ میں پڑھا تھا

آج کی رات یہ کیوں جمع ہیں احباب بہم
بھیڑ کیا ہے نظر آتا ہے یہ کیسا عالم
نوجوانان ہنر پرور و ارباب ہمم
جوق کے جوق چلے آتے ہیں کیسے پیہم

کچھ سمجھ میں نہیں آتا جو سب سمجھے ہیں
شاید اس بزم کو یہ بزم طرب سمجھے ہیں

ہے گمان ان کو کہ آیا ہے تھئیٹر کوئی
یا کہ اس سے بھی تماشا ہے یہ بڑھ کر کوئی
اس سبھا میں بھی نظر آئے گا اندر کوئی
مسخرہ بن کے بھی آئے گا مقرر کوئی

نقل وہ ہو گی کہ دیکھی نہ سنی ہو گی کبھی
سیر وہ آج کریں گے کہ نہ کی ہو گی کبھی

کوئی کہتا ہے تھیٹر تو نہیں ہے لیکن
ساز و نغمہ بھی نہ ہو ساتھ نہیں ہے ممکن
راتیں کاٹی ہیں اسی شوق میں تارے گن گن
دیکھیں کیا سیر دکھائیں یہ بزرگان مِسن

کچھ نہ کچھ تازہ کرامات تو ہو گی آخر
بوڑھے غمزوں میں کوئی بات تو ہو گی آخر

دوستو کیا تمہیں سچ مچ ہے تھیئٹر کا یقین
کیا یہ سمجھے تھے کہ پردہ کوئی ہو گا رنگین
نظر آئے گی جو سوئی ہوئی اک زہرہ جبین
آئے گا پھول کے لینے کو ارم کا گلچین

قوم کی بزم کو یوں کھیل تماشا سمجھے
ہائے گر آپ یہ سمجھے بھی تو بیجا سمجھے

ہائے افسوس کہ ہو قوم تو یوں خستہ و زار
مرض الموت میں جس طرح سے کوئی بیمار
نہ معالج ہو کوئی پاس نہ سر پر غمخوار
نظر آتے ہوں دم نزع کے سارے آثار

واں تو یہ حال کہ مرنے بھی کچھ دیر نہیں
آپ ادھر سیر تماشے سے ابھی سیر نہیں

نوحہ غم ہے، یہاں نغمہ عشرت کیسا
ہے یہ عبر کا سماں جوش مسرت کیسا
ہے جنوں خیز یہ ہنگامہ عبرت کیسا
قوم کا حال ہے غفلت کی بدولت کیسا

ہے عجب سیر اگر دیدہ بینا دیکھے
دیکھنا ہو جسے عبرت کا تماشا دیکھے

ہائے کیا سین ہے یہ بھی کہ گر وہ شرفا
صاحب افسر و اورنگ تھے جن کے آبا
قوم کے عقدہ مشکل کے ہیں جو عقدہ کشا
ایکٹر بن کے وہ اسٹیج پر ہیں جلوہ نما

قوم کے خوابِ پریشاں کی یہ تعبیریں ہیں
ایکٹر یہ نہیں عبرت کی یہ تصویریں ہیں

بانی مدرسہ وہ سید والا گوہر
وہ مینیجنگ کمیٹی کے معزز ممبر
شبلی غمزدہ وہ شاعر اعجاز اثر
اور یہ نو بادہ اقبال کے سب برگ و ثمر

نہ تکلیف کے کچھ انداز نہ کچھ جاہ کی شان
بزم میں آئے ہیں اس حال سے اللہ کی شان

اپنے رتبوں کا نہ کچھ دھیان نہ کچھ وضع کا پاس
دوستوں سے نہ جھجک اور نہ دشمن سے ہراس
گرچہ سب کہتے ہیں حاصل نہیں کچھ بھی جز یاس
ہائے کیا دھن ہے کہ پھر بھی تو نہیں ٹوٹتی آس

غرض مطلب کی ہے تصویر سراپا ان کا
ہاتھ خود کاسہ دریوزہ ہے گویا اُن کا

ان کا ہر لفظ ہے اک مرثیہ جاں فرسا
قوم کی شان دکھا دیتی ہے ایک ایک ادا
دیکھ اے قوم جو اب تک نہ تھا تو نے دیکھا
اپنے بگڑے ہوئے انداز کا پورا خاکا

گرچہ تدبیر بھی ہم سے نہیں کچھ کی جاتی
ہائے حالت بھی تو تیری نہیں دیکھی جاتی

یوں بھلانے کو تو ہم دل سے بھلاتے ہیں مگر
یاد آ جاتے ہیں پھر بھی ترے اگلے جوہر
وہ بھی اک دن تھا کہ جس سمت سے ہوتا تھا گذر
ساتھ چلتے تھے جلو میں ترے اقبال و ظفر

تو کبھی روم میں قیصر کو مٹا کر آئی
کبھی یورپ میں نئے فتنے اٹھا کر آئی

تھے نقیبوں میں ترے دولت و اقبال و حشم
ترے حملوں سے دہل جاتا تھا سارا عالم
ایشیا کو جو کیا تو نے مرقع برہم
جا کے یورپ کے افق پر بھی اڑایا پرچم

کر دیا دفتر ِ تاتار کو ابتر تو نے
نیزہ گاڑا تھا جگر گاہ تتر پر تو نے

کون تھا جس نے فارس و یوناں تاراج
کس کی آمد میں فدا کر دیا جیپال نے راج
کس کو کسریٰ نے دیا تخت و زر وافر و تاج
کس کے دربار میں تاتار سے آتا تھا خراج

تجھ پہ اے قوم اثر کرتا ہے افسوں جن کا
یہ وہی تھے کہ رگوں میں ہے ترے خوں جن کا

ہم نے مانا بھی کہ دل سے بھلا دیں قصے
یہ سمجھ لیں کہ ہم ایسے ہی تھے اب ہیں جیسے
یہ بھی منظور ہے ہم کو کہ ہمارے بچے
دیکھنے پائیں نہ تاریخ عرب کے صفحے

کبھی نہ بھولے بھی سلف کو نہ کریں یاد اگر
یادگاروں کو زمانے سے مٹا دیں کیونکر

مردہ شیراز و صفاہان کے وہ زیبا منظر
بیت حمرا کے وہ ایوان وہ دیوار وہ در
مصر و غرناطہ و بغداد کا ایک ایک پتھر
اور وہ دہلی مرحوم کے بوسیدہ کھنڈر

ان کے ذروں میں چمکتے ہیں وہ جوہر اب تک
داستانیں انہیں سب یاد ہیں ازبر اب تک

ان سے سن کے کوئی افسانہ یارانِ وطن
یہ دکھا دیتی ہیں آنکھوں کو وہی خواب کہن
تیرے ہی نام کا اے یہ گاتے ہیں بھجن
تیرے ہی نغمہ پُر درد کے ہیں یہ ارگن

پوچھتا ہے جو کوئی ان سے نشانی تیری
یہ سنا دیتے ہیں سب رام کہانی تیری

شبلی نعمانی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایسے چہروں سے پیار کرتے ہیں
  • وہ کہنے کو تو ہے میرا مسیحا
  • شاید مٹی مجھے پھر پکارے
  • جب تری خواہش کے بادل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نغمہ ٔروح
پچھلی پوسٹ
قلم

متعلقہ پوسٹس

لپٹ کے سوچ سے نیندیں

دسمبر 15, 2024

تمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟

مئی 31, 2020

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

اگر تم کو گوارا ہو !

نومبر 6, 2020

چیں بہ جبیں ہو

جون 21, 2020

تھا میسر نہ ایک تار ہمیں

جون 21, 2020

توڑ کے سحر یادِ گزشتہ

جنوری 28, 2020

عِشق میں جینے کے بھی لالے پڑے

نومبر 27, 2019

ہوا نہیں کہ جسے دیکھ ہی نہ پاؤں گا

مئی 30, 2020

کشتی نقش وہ چھوڑ گئی

جون 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میں اپنے حصے کی تنہائی محفل...

دسمبر 1, 2019

اُس کے نام ۔ جسے تاریکی...

جنوری 10, 2020

اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی...

دسمبر 27, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں