111
منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے
تم لوگ منافق ہو منافق بھی بلا کے
کیوں ضبط کی بنیاد ہلانے پہ تلا ہے
میں پھینک نہ دوں ہجر تجھے آگ لگا کے
اک زود فراموش کی بے فیض محبت
جاؤں گی گزرتے ہوئے راوی میں بہا کے
اس وقت مجھے عمر رواں درد بہت ہے
تجھ سے میں نمٹتی ہوں ذرا دیر میں آ کے
میں اپنے خد و خال ہی پہچان نہ پائی
گزرا ہے یہاں وقت بڑی دھول اڑا کے
کرتی ہوں تر و تازہ ہری رت کے مناظر
کاغذ پہ کبھی پیڑ کبھی پھول بنا کے
کومل جوئیہ

1 تبصرہ
بہترین انتخاب